У нас вы можете посмотреть бесплатно افغانستان کی افیون کہاں جاتی ہے؟ I Telekhabrain или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
ایک حیران کن رپقورٹ افغانستان میں امریکا کے خلاف طالبان کی حالیہ کامیابی کے بعد یہ ملک اس وقت دنیا بھر میں سب سے زیادہ موضوع بحث ہےـ کیا آپ جانتے ہیں کہ افغانستان دنیا میں سب سے زیادہ افیون پیدا کرنے والا ملک ہےـ دنیا کی 90 فیصد افیون افغانستان میں پیدا ہوتی ہےـ اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 2020 کے دوران افغانستان میں افیون کی کاشت 37 فیصد تک بڑھی جبکہ امریکی ادارے سی آئی اے کے مطابق 2017 میں افیون کی پیداوار میں 88فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھاـ کہا جاتا ہے کہ مستقل بد امنی اور بڑے پیمانے پربد عنوانی کےباعث افیون کی کاشت روکنے میں خاصی مشکلات درپیش ہیں ـ سی آئی اے کے بقول افیون کی تجارت کا سارا کنٹرول طالبان اور اس کے حامی گروپوں کے پاس تھاـ یہ سب اس تجارت میں برابر کےشریک تھےـامریکیوں کےخیال میں طالبان کی آمدنی کا بڑا ذریعہ افیون کی تجارت ہی رہاہےـ حالانکہ اس کے بر عکس 2002 میں افغانستان پر امریکی حملے سے پہلے طالبان کی جانب سے کاشت پر پابندی کےبعد افیون کی پیداوار نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی ـ امریکا کی جانب سےروزانہ کی بنیاد پر 5ء1ملین ڈالرزخرچ کرنے کے باوجود افیون کی کاشت میں کمی نہ لائی جاسکی ـ آپ کو یہ جان کر شاید یقین نہ آئے کہ یورپ اور ایشیا میں استعمال ہونے والی زیادہ تر ہیروئن میں افغان افیون ہی استعمال ہوتی ہےـ 2015 میں کیے گئے ایک قومی سروے کے دوران افغانستان کی 11 فیصد آبادی کسی نہ کسی حد تک منشیات کے استعمال میں ملوث پائی گئی ـ بی بی سی کے مطابق اسی طرح امریکا میں افیون یا افیون سے بننے والا نشہ استعمال کرنے والے افراد کی تعداد 20 لاکھ سے زیادہ ہےـ لاکھوں پاکستانی بھی ہیروئن اور دیگر منشیات سے بری طرح متاثر ہوچکےہیںـ امریکا افیون کی کاشت روکنے کی جنگ ہارنے کے ساتھ ساتھ مجموعی طور پر طالبان کے ہاتھوں افغانستان میں شکست کھا چکا ـ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا طالبان 2002 کی طرح ایک بار پھر افیون کی پیداوار میں مناسب حد تک کمی کر پائیں گے؟ کاشف اے صدیقی برائے ٹیلی خبریں 2021© مصنف کے اخلاقی حقوق پر زوردیا گیا ہے ـ کاشف اے صدیقی اخبارات، جرائد، ویب سائٹس، اور درسی کتابوں کے لیے متعدد برسوں سے لکھ رہے ہیں ـ وہ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کا بہترین صحافی کا اعزاز بھی حاصل کرچکے ہیں جو انھیں قیدی بچوں کے بارے میں تحقیقاتی رپورٹ ہفت روزہ اخبار جہاں میں شائع کرنے پر دیا گیا تھاـ ہماری رپورٹ پسند آئے توہمارا چینل (ہر طرف ) سبسکرائب کیجیےـ ہماری ہر پیشکش صحیح اورحقیقت پر مبنی ہوگیـ ہماری رپورٹ اپنے دوستوں اور حلقہ احباب کے ساتھ شیئر کیجیےـ آپ کا بہت بہت شکریہ!