У нас вы можете посмотреть бесплатно تفسیر سورہ یوسف | شیخ القرآن مولانا عبدالحق ہاشمی | آیت ایک سے 30 تک۔ или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
سورۃ یوسف کا مکمل خلاصہ سورۃ یوسف قرآنِ مجید کی بارہویں سورت ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس میں حضرت یوسفؑ کی زندگی کا پورا واقعہ نہایت دلنشین اور مربوط انداز میں بیان ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے “أحسن القصص” (سب سے بہترین قصہ) قرار دیا ہے۔ 1۔ خواب اور حسد کی ابتدا سورت کا آغاز حضرت یوسفؑ کے خواب سے ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنے والد حضرت یعقوبؑ کو بتایا کہ میں نے خواب میں گیارہ ستارے، سورج اور چاند کو اپنے سامنے سجدہ کرتے دیکھا ہے۔ حضرت یعقوبؑ سمجھ گئے کہ یہ بڑی شان اور مستقبل کی عظمت کی علامت ہے، اس لیے انہوں نے یوسفؑ کو نصیحت کی کہ بھائیوں کو یہ خواب نہ بتائیں۔ بھائیوں کو پہلے ہی یوسفؑ سے حسد تھا، کیونکہ وہ اپنے والد کے زیادہ محبوب تھے۔ حسد نے انہیں ظلم پر آمادہ کیا۔ 2۔ کنویں میں ڈال دینا بھائیوں نے باپ سے اجازت لے کر یوسفؑ کو سیر کے بہانے ساتھ لے گئے اور ایک اندھے کنویں میں ڈال دیا۔ پھر خون آلود قمیص لا کر کہا کہ بھیڑیا کھا گیا۔ حضرت یعقوبؑ نے صبرِ جمیل اختیار کیا۔ 3۔ مصر میں فروخت ہونا ایک قافلہ وہاں سے گزرا اور یوسفؑ کو کنویں سے نکال کر مصر لے گیا، جہاں انہیں تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا گیا۔ مصر کے ایک معزز شخص (عزیزِ مصر) نے انہیں خریدا اور گھر میں عزت سے رکھا۔ 4۔ آزمائش اور پاک دامنی جوانی میں عزیزِ مصر کی بیوی نے انہیں گناہ کی دعوت دی، مگر یوسفؑ نے اللہ کی پناہ مانگی اور پاک دامنی اختیار کی۔ جھوٹا الزام لگا کر انہیں قید کر دیا گیا۔ 5۔ قید خانہ اور خوابوں کی تعبیر قید میں دو قیدیوں نے خواب دیکھے۔ یوسفؑ نے اللہ کے علم سے ان کی درست تعبیر بتائی، جو پوری ہوئی۔ بعد میں مصر کے بادشاہ نے ایک عجیب خواب دیکھا (سات موٹی گائیں اور سات دبلی گائیں وغیرہ)۔ یوسفؑ نے اس کی تعبیر بتائی کہ سات سال خوشحالی کے ہوں گے، پھر سات سال قحط آئے گا۔ انہوں نے اناج ذخیرہ کرنے کا منصوبہ بھی بتایا۔ 6۔ رہائی اور حکومت بادشاہ نے تحقیق کے بعد یوسفؑ کو بے گناہ پایا اور عزت کے ساتھ رہا کیا۔ یوسفؑ کو مصر کے خزانے کا نگران بنا دیا گیا۔ 7۔ بھائیوں کی آمد اور امتحان قحط کے زمانے میں یوسفؑ کے بھائی اناج لینے مصر آئے۔ یوسفؑ نے انہیں پہچان لیا مگر انہوں نے نہ پہچانا۔ انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی بنیامین کو لانے کی شرط رکھی۔ بعد میں ایک حکمت عملی سے بنیامین کو اپنے پاس روک لیا۔ 8۔ معافی اور اتحاد آخرکار یوسفؑ نے اپنی پہچان ظاہر کی۔ بھائی شرمندہ ہوئے اور معافی مانگی۔ یوسفؑ نے فرمایا: "آج تم پر کوئی گرفت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے۔" انہوں نے اپنی قمیص بھیجی جسے حضرت یعقوبؑ کے چہرے پر ڈالا گیا تو ان کی بینائی لوٹ آئی۔ پھر پورا خاندان مصر آگیا اور یوسفؑ کا خواب پورا ہوا—والدین اور بھائیوں نے تعظیماً جھک کر سلام کیا۔ مرکزی اسباق حسد انسان کو ظلم تک لے جاتا ہے۔ صبر اور تقویٰ کامیابی کی کنجی ہیں۔ پاک دامنی کا اجر اللہ دنیا و آخرت میں دیتا ہے۔ اللہ کی تدبیر سب سے بہتر ہے۔ معاف کرنا انبیاء کی صفت ہے۔ سورۃ یوسف ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکلات کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، اگر انسان اللہ پر بھروسا اور صبر اختیار کرے تو انجام کامیابی اور عزت ہی ہوتا ہے۔