У нас вы можете посмотреть бесплатно پردے کے بارے میں سوال جواب или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
عورت کا محرم وہ ہوتا ہے جس سے ہمیشہ کیلئے نکاح حرام ہو، حرمت نکاح کے تین اسباب ہیں : 1۔ قرابت داری 2۔ دودھ کا رشتہ 3۔ سسرالی تعلق نسبی محارم : قرابت داری کی وجہ سے محارم کی تفصیل حسب ذیل ہے : 1۔ آباءو اجداد : عورتوں کے باپ، ان کے اجداد اوپر تک، ان میں دادا اور نانا سب شامل ہیں۔ 2۔بیٹے : عورتوں کے بیٹے، ان میں بیٹے، پوتے، نواسے وغیرہ۔ 3۔ عورتوں کے بھائی : ان میں حقیقی بھائی، باپ کی طرف سے اور ماں کی طرف تمام بھائی شامل ہیں۔ 4۔ بھانجے اور بھتیجے : ان میں بھائی کے بیٹے اور بہن کے بیٹے اور ان کی تمام نسلیں شامل ہیں۔ 5۔ چچا اور ماموں : یہ دونوں بھی نسبی محارم میں شامل ہیں، انہیں والدین کا قائم مقام ہی سمجھا جاتا ہے، بعض دفعہ چچا کو بھی والد کہہ دیا جاتا ہے۔ رضاعی محارم : اس سے وہ مراد ہیں جو رضاعت یعنی دودھ کی وجہ سے محرم بن جاتے ہیں، حدیث میں سے کہ اللہ تعالیٰ نے رضاعت سے بھی ان رشتوں کو حرام کیا ہے جنہیں نسب کی وجہ سے حرام کیا ہے ( مسند امام احمد ص 131 ج 1 ) جس طرح نسبی محرم کے سامنے عورت کو پردہ نہ کرنا جائز ہے اس طرح رضاعت کی وجہ سے محرم بننے والے شخص کے سامنے بھی اس کیلئے پردہ نہ کرنا مباح ہے یعنی عورت کے رضاعی بھائی، رضاعی والد اور رضاعی چچا سے پردہ کرنا ضروری نہیں ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے رضاعی چچا، افلح، آئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے انہیں اجازت نہ دی بلکہ ان سے پردہ کر لیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے پردہ نہ کرو اس لئے کہ رضاعت سے بھی وہی حرمت ثابت ہوتی ہے جو نسب کی وجہ سے ثابت ہوتی ہے۔ ( صحیح مسلم، الرضاع : 1445) اس حدیث کے مطابق عورت کے رضاعی محارم بھی نسبی محارم کی طرح ہیں لہٰذا رضاعی محارم سے پردہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سسرالی محارم : عورت کے سسرالی محارم سے مراد وہ رشتہ دار ہیں جن سے شادی کی وجہ سے ابدی طور پر نکاح حرام ہو جاتا ہے جیسا کہ سسر اور اس کا بیٹا یا داماد وغیرہ۔ والد کی بیوی کیلئے محرم مصاھرت وہ بیٹا ہو گا جو اس کی دوسری بیوی سے ہو، سورۃ النور کی آیت 31 میں اللہ تعالیٰ نے سسر اور خاوند کے بیٹوں کو شادی کی وجہ سے محرم قرار دیا ہے اور انہیں باپوں اور بیٹوں کے ساتھ ذکر کیا ہے اور انہیں پردہ نہ ہونے کے حکم میں برابر قرار دیا ہے۔ مذکورہ محرم رشتہ داروں کے علاوہ جتنے بھی رشتہ دار ہیں ان سے عورت کو پردہ کرنا چاہیے خواہ وہ چچا، پھوپھی، خالہ اور ماموں کے بیٹے ہی کیوں نہ ہوں، اسی طرح خاوند کے چچا اور ماموں سے بھی بیوی کو پردہ کرنا چاہیے کیونکہ وہ اس کے خاوند کے چچا یا ماموں ہیں اس کے نہیں ہیں۔ تر اور حجاب کے درمیان فرق عورت کے پردے کے بارے میں اکثر لوگ اس غلط فہمی کا شکار رہتے ہیں کہ وہ ستر اور حجاب کے درمیان یاتو فرق ہی نہیں کرتے یا فرق کو تسلیم نہیں کرنا چاہتے؛ جب کہ شریعت ِاسلامیہ میں ان دونوں کے الگ الگ احکام بیان کیے گئے ہیں۔ ستر ِعورت اور حجابِ نساء یہ دومسئلے الگ الگ ہیں۔ستر عورت ہمیشہ سے فرض ہے،حجاب نساء سن ۵/ ہجری میں فرض ہوا۔ستر عورت مرد وعورت دونوں پر فرض ہے اور حجاب صرف عورتوں پر۔ستر عورت لوگوں کے سامنے اور خلوت دونوں میں فرض ہے،حجاب صرف اجنبی کی موجودگی میں ضروری ہے۔ عورت کا ستر یہ ہے کہ وہ اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے سوا اپنا پورا جسم چھپائے گی، جس کا کوئی حصہ بھی وہ اپنے شوہر نیزگھر میں محرم مردوں(باپ،بھائی،بیٹے) کے سوا کسی اور کے سامنے نہیں کھول سکتی؛البتہ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے پورے جسم کو شہوت اور بغیر شہوت دونوں طرح دیکھ سکتے ہیں اور چھو بھی سکتے ہیں۔ شوہر کے علاوہ دیگر محارم کے سامنے مثلاً باپ، بھائی، بیٹا، بھتیجا وغیرہ کے سامنے چہرہ، سر، بال، گردن، بازو اور گھٹنے سے نیچے کا حصہ بہ وقت ضرورت کھو لا جاسکتا ہے، مثلاً فرش دھوتے وقت پائنچے اوپر چڑھا لینایا آٹا گوندھتے وقت آستین اوپر کر لینا وغیرہ۔ اور محرم رشتہ دار بھی عورت کے مذکورہ بالا حصوں کو بغیر شہوت کے دیکھ اور چھو سکتے ہیں او راگر فتنہ کا خطرہ ہو تو محرم کے سامنے بھی ان اعضا کو کھولنا جائز نہیں۔ اگر کوئی محرم ایسا بے حیا ہو کہ اس کو عزت اور ناموس کی پروانہ ہو، وہ نامحرم کے حکم میں ہے اور اس سے پردہ ہی کرنا چاہیے۔ یہ تفصیلات تو عورت کے ستر سے متعلق تھیں،حجاب کا حکم سترِ عورت پر مستزاد ہے،وہ یہ کہ جب عورت گھر سے باہر کسی ضرورت کے لیے نکلے یا گھر کے اندر غیر محرم مردوں سے سامنا ہوتو اس صورت میں عورت جِلباب یعنی بڑی چادراوڑھ لے؛تاکہ اس کا پورا جسم ڈھک جائے، ایسے ہی چہرے پر بھی چادرکا ایک پلو ڈال لے۔ اب وہ صرف اپنی آنکھ کھلی رکھ سکتی ہے، باقی پورا جسم چھپائے گی۔ یہ چہرے پر نقاب کا حکم ہے، اجنبی مردوں سے عورت کا یہی پردہ ہے جسے ’حجاب‘ کہا جاتا ہے۔ اُردو زبان میں اسے ’گھونگھٹ نکالنا‘ بھی کہتے ہیں۔ اس حوالے سے ارشاد خداوندی ہے:”اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مسلمان عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور اُنہیں کوئی نہ ستائے۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔“(الاحزاب) ایک اورموقع پر حق تعالی شانہ نے ارشاد فرمایا:”اور عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈال لیا کریں۔“(الاحزاب)اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے علامہ عماد الدین ابن کثیر رحمہ اللہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ نے مسلمان عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی کام کے لیے گھروں سے نکلیں تو اپنی چادروں کے پلو اوپر سے ڈال کر اپنا منہ چھپالیں اور صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں۔ معلوم ہوا کہ ایسا برقعہ جو چہرے کے علاوہ سارے جسم کو چھپائے وہ شرعی برقعہ نہیں ہوسکتا؛کیوں کہ شرعی اعتبار سے چہرہ بھی پردے کے تحت داخل ہے اور آج کل بہت سی ماڈرن خواتین چہرے کو پردے سے خارج سمجھ کر کھلے عام یوں ہی گھوم پھر رہی ہیں اور زبان حال سے مردوں کو دعوت نظارہ دے رہی ہیں۔