У нас вы можете посмотреть бесплатно Dr Azeem Sultan, Poetry مزدور اور لکھاری или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
مزدور اور لکھاری میرے مزدور مرے شعر ہیں محنت میری میرے مزدور مرےجیسی ہے قسمت تیری جیسے بوڑھوں کی نصیحت بھرے لئجے کی کھنک جیسے گوری سی کلائ جیسے چوڑی کی چھنک میرے ہاتھوں میں قلم ہے تیرے تیشے جیسا تیرے ماتھے کا پسینہ میرے لفظوں کی جھلک روزی ملتی ہے تو مزدور کے چہرے کی خوشی جیسے بادل پہ ابھرتی ہوی رنگوں کی دھنک اپنی لکھے ہوئے اشعار کے پڑھنے کا مزہ جیسے بیٹوں کو جواں دیکھتی آنکھوں کی چمک تیرے ہاتھوں پہ ابھرتے ہوے چھالے بولیں میرے افکار کسی علم کی گرہیں کھولیں تو کہ مجبور بھی رنجور بھی مقہور بھی ہے میں کہ معتوب بھی مغلوب بھی مصلوب بھی ہوں میں نے جابر کو سرِبزم ہی جابر لکھا کہنے والوں نے اگرچہ مجھے کافر لکھا مجھ پہ تہمت بھی لگائ تو بغاوت والی واعظِ شہر کے فتووں سے عداوت والی تو بھی بستی کے امیروں کا ہے دھتکارا ہوا تو بھی سہتا ہے یہی نظر حقارت والی میری سوچوں کا بھی اظہار گھٹن کا مغوی تیرا تپتا ہوا آنگن بھی گھٹا کو ترسے میری بیٹی کی کلای۔۔ کوی چُوڑی مانگے تیری بیٹی کی ہتھیلی بھی حنا کو ترسے ایسا لگتا ہے کہ دونوں کا لکھا ایک سا ہے ایسا لگتا ہے کہ دونوں کا خدا ایک سا ہے (عظیم سلطان)