У нас вы можете посмотреть бесплатно کیا کوئی بیماری متعدی نہیں؟! или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
یہ ماخذ نبی کریم ﷺ کی حدیث "لا عدوى" (بیماری کا بذاتِ خود متعدی نہ ہونا) کی فقہی اور طبی تشریح پیش کرتا ہے، جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ بیماری کے از خود متعدی ہونے کی نفی کرنے اور کوڑھی (جذام کے مریض) سے دور بھاگنے کے حکم میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ یہ عبارت واضح کرتی ہے کہ بیماریاں اپنی فطرت سے منتقل نہیں ہوتیں، بلکہ بیماری پیدا کرنے والے اسباب جیسے کہ وائرس وغیرہ، اللہ کے حکم سے منتقل ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے حفاظتی تدابیر اور طبی احتیاط اختیار کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ مزید برآں، مصنف ایسی نبوی ﷺ دلیلیں پیش کرتا ہے جو وبائیں پھیلنے کے دوران قرنطینہ اور سماجی فاصلے جیسے تصورات کی بنیاد فراہم کرتی ہیں، اور اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ یہ اقدامات اللہ پر توکل کے ہرگز منافی نہیں ہیں۔ متن میں طبی ہدایات پر عمل کرنے اور متاثرہ مریضوں سے میل جول سے گریز کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے، اور اسے معاشرے کے تحفظ کے لیے سنتِ نبوی اور دینی فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ آخر میں، یہ عبارت کچھ ایسی ضعیف روایات کی تردید کرتی ہے جنہیں غلط فہمی کی بنا پر متعدی بیماریوں کے خلاف احتیاط اور چوکسی کو نظرانداز کرنے کی ترغیب سمجھ لیا جاتا ہے۔ اصل مصدر https://www.rafiqtahir.com/play/359