У нас вы можете посмотреть бесплатно گناھان کبیرہ گناہ نمبر 29 ظالم کی مدد کرنا پارٹ 14 مولانا حسن گوھر نجمی или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
گناہانِ کبیرہ نمبر 29: ظالم کی حمایت کرنا اسلام میں ظلم بہت بڑا جرم ہے، اور جو شخص ظالم کا ساتھ دیتا ہے یا اس کی مدد کرتا ہے، وہ بھی گناہ میں شریک سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے ظالم کی حمایت کرنا گناہِ کبیرہ شمار کیا گیا ہے۔ قرآن کی تعلیم اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے: “اور ظالموں کی طرف مائل نہ ہونا، ورنہ تمہیں بھی آگ چھو لے گی۔” (سورہ ہود 11:113) اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ صرف ظلم کرنا ہی نہیں بلکہ ظالم کی طرف جھکاؤ یا اس کی حمایت بھی انسان کو عذاب کے قریب کر دیتی ہے۔ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیم Ali ibn Abi Talib کا فرمان ہے: “ظالم کا مددگار اور اس کے ظلم پر راضی رہنے والا بھی ظلم میں شریک ہوتا ہے۔” اسی طرح Ja'far al-Sadiq سے روایت ہے: “جو شخص ظالم کے لیے قلم چلائے، یا اس کی مدد کرے، وہ قیامت کے دن اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔” ظالم کی حمایت کی چند صورتیں ظالم حکمران یا شخص کی تعریف اور دفاع کرنا۔ ظلم کے باوجود اس کی مدد یا مشورہ دینا۔ مظلوم کا ساتھ نہ دینا اور خاموش رہنا۔ ظالم کے ظلم کو جائز قرار دینا۔ اسلامی تعلیم اسلام کا اصول یہ ہے: مظلوم کی مدد کرو ظالم کو ظلم سے روکو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: “اپنے بھائی کی مدد کرو چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم۔” صحابہ نے پوچھا: مظلوم کی مدد تو سمجھ آتی ہے، ظالم کی کیسے؟ فرمایا: اسے ظلم سے روک دینا ہی اس کی مدد ہے۔ نتیجہ ظالم کی حمایت کرنا انسان کو بھی ظلم کے دائرے میں لے آتا ہے۔ اس لیے مسلمان کا فرض ہے کہ: ظلم سے نفرت کرے مظلوم کا ساتھ دے #گناہان_کبیرہ #ظالم_کی_حمایت #ظلم #اسلامی_تعلیمات #قرآن_و_اہل_بیت #قول_امام_علی #امام_جعفر_صادق #حق_اور_باطل #مظلوم_کا_ساتھ #اسلامی_پیغام #دین_کی_باتیں #اسلامی_آگاہی #شعور_چینل #اسلامک_نالج #IslamicTeaching #StandAgainstOppr