У нас вы можете посмотреть бесплатно رب سے دعا کیا کریں کہ وہ ہمیں ایسے امتحان سے دور رکھے۔ или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
اے روٹی بندہ کھا جاندی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ پیٹ کتنا ظالم ہے۔ اس کے اندر روٹی ضرورت کے مطابق نہ جائے تو انسان کے چہرے پر مسکراہٹ تک نہیں آتی۔ چہرے ایسے لگتے ہیں جیسے پتھروں پر کوئی تحریر لکھی ہو۔ یہ خاندان اپنے گاؤں کا فقیر خاندان ہے۔ فقیر خاندان وہ ہوتے ہیں جو معزز ہوتے ہیں، جن کی سب عزت کرتے ہیں۔ بھیک مانگنے والے اور فقیر میں فرق ہے۔ فقیر ادب والا لفظ ہے۔ اس خاندان نے پچھلی تین نسلوں سے اس علاقے کے بچوں کو قرآن پڑھایا ہے۔ یہ مسجد کے امام نہیں ہوتے، یہ معلم ہوتے ہیں، آداب اور تربیت سکھانے والے۔ نکاح پڑھانا بھی ان کے ذمہ ہوتا ہے۔ سیلاب نے اس خاندان کو ایسے برباد کیا تھا کہ جب ہم ان کے پاس گئے تو کون سی مشکل تھی جو ان پر نہیں آئی ہوئی تھی۔ رب نے وسیلہ بنایا اور ہمیں ان تک پہنچایا۔ اب انہیں تیسرا ماہ ہے کہ ہم راشن دے رہے ہیں۔ بڑے بزرگ کے لیے چارپائی لا رہے ہیں۔ یہ قرآن پڑھاتے ہیں، لیکن حالات نے انہیں اس حد تک متاثر کیا کہ انہیں دماغی مسئلہ ہو گیا تھا۔ بات کرتے ہوئے جملے آگے پیچھے ہو جاتے تھے، کچھ بھی بول دیتے تھے۔ علاج ہوا تو اب بہت حد تک بہتر ہو گئے ہیں۔ دوسرا بھائی، جو کالے کپڑوں میں ہے، اس کی آنکھیں اچانک بند ہو گئی تھیں۔ رزق کم ہونے پر اس کی بیوی بھی دونوں بچوں سمیت چھوڑ کر چلی گئی۔ یہ ایک زمیندار کے پاس منشی تھا، جب تک آنکھیں ٹھیک تھیں۔ اس کا علاج کروایا، چنیوٹ اور فیصل آباد بھیجا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ یہ آپریشن کا معاملہ نہیں ہے۔ بلڈ پریشر کنٹرول کروایا اور دوائیں دیں، جس سے کافی حد تک بینائی بہتر ہو گئی ہے۔ ساتھ میں دم بھی کرواتے ہیں۔ چھوٹا لڑکا، جس سے میں چھپر والی جگہ کی طرف جاتے ہوئے بات کر رہا تھا، وہی بچہ ہے جس نے گھر میں ساری مزدوری خود کی۔ اس کی انگلیاں سیمنٹ کی وجہ سے خراب ہو گئی تھیں۔ بڑا بیٹا اور بہو سیلاب کے دنوں میں بھی سخت رویہ رکھتے تھے۔ وہ اپنے میکے سے آنے والے آٹے اور سبزی کے پیسے سے خود کھاتے تھے، گھر میں موجود ساس سسر کو بھوکا دیکھ کر بھی رحم نہیں آتا تھا۔ اب انہیں صرف اتنی سزا دی گئی کہ وہ اس کمرے میں نہیں سوئیں گے جو ہم نے بنا کر دیا ہے، بلکہ ٹینٹ میں رہیں گے۔ اب وہ ہوش میں آ گئے ہیں۔ گھر کے کام میں ہاتھ بٹاتے ہیں، بہو نے بدتمیزی چھوڑ دی ہے۔ گھر میں انہوں نے تین اقسام کی سبزی بھی لگا لی ہے۔ سکون اور رزق کی بہتری انسان کی زندگی میں کتنا فرق پیدا کرتی ہے، یہ ان کے چہروں سے ظاہر ہو رہا ہے۔ کل شام یہ سب گفتگو ہوئی۔ میں جھنگ واپس پہنچا تو راشن والے گھروں میں جا کر چیک کیا کہ کس کے پاس کیا کمی ہے اور اگلے ماہ کی ضروریات کیا ہیں۔ موسم کے ساتھ راشن میں بھی فرق آتا ہے۔ یہ بہت محنت طلب کام ہے، ایسے نہیں کہ صرف کریانہ والے کو فہرست دے کر سب پیک کروا لیا جائے۔ ایک محترمہ نے مشورہ دیا کہ ایسے موسم میں کم از کم تین ماہ تک ہر گھر کو ہر ماہ تین درجن انڈے بھی دیے جائیں تاکہ صحت بہتر ہو سکے۔ اس ماہ سے یہ سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے، ان شاء اللہ۔ ان کے بچوں کے پاؤں میں پھر جوتے نہیں تھے۔ پوچھا تو بولے، گم ہو گئے ہیں۔ جب ایسے کام ذمہ لے لیے جائیں تو پھر آرام نہیں کیا جاتا۔ اسلام آباد سے واپسی پر پہنچتے ہی کام شروع کر دیا۔ بھوک انسان سے ہر غلط کام کروا سکتی ہے، یہ شرک تک لے جا سکتی ہے۔ رب سے دعا کیا کریں کہ وہ ہمیں ایسے امتحان سے دور رکھے۔ رب کے سوا کوئی کارساز نہیں، ہم صرف ایک دوسرے کا وسیلہ بن سکتے ہیں۔ آخری حکم اور آخری فیصلہ اسی رب کا ہوتا ہے۔ #saqiballyana #floodinpakistan