У нас вы можете посмотреть бесплатно Ghazi ilm Din shaheed|| Ashiq e Rasool || biography|| why Ghazi killed rajpal?|| @Ayshas explores или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
غازی علم الدین شہید 3 دسمبر 1908ء بمطابق 8 ذیقعد 1366ھ کو لاہور کے ایک علاقے کوچہ چابک سواراں (موجودہ نام محلہ سرفروشاں) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام طالع مند تھا جو مغل قبیلے سے تھے اور ترکھان یعنی لکڑی کے کاریگر تھے۔ غازی علم دین نے ابتدائی تعلیم اپنے محلے کی تکیہ سادھواں کی مسجد اوربازار نوہریاں اندرون اکبری دروازہ بابا کالو کے مدرسہ میں حاصل کی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے اپنے آبائی پیشہ کو اختیار کیا اور اس فن میں اپنے والد اور بڑے بھائی میاں محمد امین کی شاگردی اختیار کی۔1928ء میں آپ کوہاٹ منتقل ہو گئے اور بنوں بازار میں اپنا فرنیچر سازی کا کام شروع کیا۔لاہور کے ایک ناشر راج پال نے بدنام زمانہ کتاب شائع کی۔ جس پر مسلمانوں میں سخت اضطراب پیدا ہو گیا۔ مسلمان رہنماؤں نے انگریز حکومت سے اس دل آزار کتاب کو ضبط کرنے اور ناشر کے خلاف کارروائی کا مطال لاہور کے ایک غازی خدابخش گجر نے 24 ستمبر 1928ء کو اس گستاخ کو اس کی دکان پر نشانہ بنایا تاہم یہ بھاگ کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوگيا کیا۔مجسٹریٹ نے ناشر کو صرف چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔ جس کے خلاف مجرم نے ہائی کورٹ میں اپیل کی جہاں جسٹس دلیپ سنگھ مسیح نے اس کو رہا کر دیا۔انگریز حکومت کی عدم توجہی پر مایوس ہوکر مسلمانوں نے متعدد جلسے جلوس منعقد کیے۔ مگر انگریز حکومت نے روایتی مسلم دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دفعہ 144 نافذ کرکے الٹا مسلمان رہنماؤں کو ہی گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ مسلمانوں میں یہ احساس جاگزیں ہونے لگا کہ حکومت وقت ملعون ناشر کو بچانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور یہ کہ اس ملعون کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے ان کو خود ہی کچھ کرنا ہوگا العزیزکو حکومت وقت نے چودہ سال کی سزا سنائی۔راج پال ان حملوں کے بعد نہایت خوفزدہ رہنے لگا۔ حکومت نے اس کی پشت پناہی کرتے ہوئے دو ہندو سپاہیوں اور ایک سکھ حوالدار کو اس کی حفاظت پر متعین کر دیا۔ راج پال کچھ عرصے کے لیے لاہور چھوڑ کر کاشی، ہردوار اور متھرا چلا گیا مگر چند ماہ بعد ہی واپس آگیا اور دوبارہ اپنا کاروبار شروع کر دیا۔غازی علم دین کی غیرت ایمانی نے یہ گوارا نا کیا کہ یہ ملعون اتنی آسانی سے بچ نکلے آپ نے اس کو اس کے انجام تک پہنچانے کا فیصلہ کر لیا۔ آپ نے 29 اپریل 1929ء کو راج پال کی دکان کا رخ کیا۔ اس وقت یہ ملعون اپنی دکان پر ہی موجود تھا۔ آپ نے اس کو للکارتے ہوئے کہا "اپنے جرم کی معافی مانگ لو اور اس دل آزار کتاب کو تلف کردو اور آئندہ کے لیے ان حرکات سے باز رہو" راج پال نے اس کو گیدڑ بھپکی سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔ اس پر آپ نے ایک ہی بھرپور وار میں اس بدبخت کا کام تمام کر دیا۔اس کی دکان کے ایک ملازم نے قریبی تھانے انارکلی کو خبر دی جس پر پولیس نے آپ کو گرفتار کر لیا۔ آپ اس واقعہ کے بعد نا صرف مکمل پرسکون رہے بلکہ آپ نے فرار ہونے کی بھی کوئی کوشش نہیں کی۔ آپ نے اس کارروائی کا اعتراف کیا اور گرفتاری پیش کردی۔مقدمہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لوئس کی عدالت میں پیش ہوا جس نے ملزم پر فرد جرم عائد کر کے صفائی کا موقع دیے بغیر مقدمہ سیشن کورٹ میں منتقل کر دیا۔ آپ کی جانب سے سلیم بارایٹ لا پیش ہوئے جنھوں نے آپ کے حق میں دلائل دیے مگر نیپ نامی انگریز جج نے آپ کو مورخہ 22 مئی 1929ء کو سزائے موت کا حکم سنایا۔مسلمانان لاہور نے فیصلہ کیا کہ کہ سیشن کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جائے اور اس مقدمے میں غازی کی وکالت کے لیے شہرہ آفاق وکیل محمد علی جناح کو نامزد کیا جائے۔ چنانچہ محمد علی جناح بمبئی سے لاہور تشریف لائے ان کی معاونت جناب فرخ حسین بیرسٹر نے کی۔ 15 جولائی 1929ء کو ہائی کورٹ کے جج نے فیصلہ سناتے ہوئے سیشن کورٹ کی سزا کو بحال رکھا۔ اور غازی کی اپیل خارج کردی۔اپیل خارج ہونے کی اطلاع جب جیل میں غازی کو ملی تو آپ مسکرا کر فرمایا" شکر الحمداللہ ! میں یہی چاہتا تھا۔ بزدلوں کی طرح قیدی بن کر جیل میں سڑنے کی بجائے تختہ دار پر چڑھ کر ناموس رسالت پر اپنی جان فدا کرنا موجب ہزار ابدی سکون و راحت ہے"مسلمان عمائدین نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف لندن کی پریوی کونسل میں اپیل دائر کی۔ اس اپیل کا مسودہ محمد علی جناح (جو بعد میں قائد اعظم کہلائے) کی زیر نگرانی تیار کیا گیا۔ مگر انگریز حکومت جو ایڈیشنل سیشن کورٹ سے ہائی کورٹ تک مسلم دشمنی کا مسلسل مظاہرہ کرتی آئی تھی نے اس اپیل کو بھی رد کر دیا۔ 31 اکتوبر 1929ء بروزجمعرات کو میانوالی جیل میںآپ کی سزا پر عمل درآمد کیا گیاشہید کا جنازہ لاہو ر کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ کہلاتا ہے۔ جنازہ کا جلوس ساڑھے پانچ میل لمبا تھا۔نماز جنازہ یونیورسٹی گراؤنڈ میں ادا کی گئی جس میں کم و بیش چھ لاکھ عشاق رسول نے شرکت کی ہندوستان میں مقیم جید علما کرام و مشائخ عظام بھی کونے کونے سے رسول پاک کے سچے عاشق کے آخری دیدار کے لیے لاہور تشریف لائے۔ تدفین کے انتظامات کی سرپرستی مولانا ظفر علی خان، علامہ محمد اقبال اور سید دیدار علی شاہ نے فرمائی۔ صندوق و بانس کا اہتمام ڈاکٹر محمد دین تاثیر نے کیا تھا جو پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کے والد تھے۔ شہید کی پہلی نماز جنازہ قاری شمس الدین خطیب مسجد وزیر خان نے پڑھائی اور دوسری نماز جنازہ مولانا دیدار علی شاہ الوری نے پڑھائی۔[4] مولانا دیدار علی شاہ اور علامہ اقبال نے شہید کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارا تھا۔ جس پر مولانا ظفر علی خان نے کہا تھا" کاش! "یہ مقام مجھے نصیب ہوتا۔"اس موقع پر علامہ نے فرمایا " یہ ترکھان کا لڑکا ہم سب پڑھے لکھوں سے بازی لے گیا "۔ لوگوں نے عقیدت میں اتنے پھول نچھاور کیے کہ میت ان میں چھپ گئی۔لاہور میں بہاولپور روڈ کے کنارے میانی صاحب قبرستان میں ایک نمایاں مقام پر آپ کی آخری آرام گاہ موجود ہے۔