У нас вы можете посмотреть бесплатно شیخ الحدیث مولانا قاری مفتاح اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا تعارف | جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
ہزاروں علماء کے استاد، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے شیخ الحدیث مولانا قاری مفتاح اللہ 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تفصیلات کے مطابق ملک کی بین الاقوامی دینی درسگاہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے شیخ الحدیث مولانا قاری مفتاح اللہ 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات سے بڑا علمی خلاء پیدا ہو گیا ہے۔میڈیا کوآرڈینیٹر وفاق المدارس العربیہ پاکستان مولانا طلحہ رحمانی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ مولانا قاری مفتاح اللہ مرحوم نے جامعہ بنوری ٹاؤن میں 51 برس دینی و علمی خدمات انجام دیں۔ مولانا مرحوم نے اپنی تعلیم کا آغاز جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں 1965ء میں کیا اور نو سال بعد سندِ فراغ حاصل کی۔آپ کے اساتذہ میں محدث العصر حضرت علامہ سید یوسف بنوریؒ، مولانا مفتی ولی حسن ٹونکیؒ، مولانا محمد ادریس میرٹھیؒ، مولانا فضل محمد سواتیؒ،مولانا سید مصباح اللہ شاہؒ، مولانا بدیع الزمانؒ،مفتی احمد الرحمٰنؒ،مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندرؒ اور دیگر اکابر علماء شامل ہیں۔آپ 1974ء میں تعلیمی مراحل سے فارغ ہوئے اور اپنے استاد علامہ بنوریؒ کے حکم پر اپنی ہی مادرِ علمی میں تدریسی خدمات کا آغاز کیا۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کی پہلی شاخ گلشنِ عمر (سہراب گوٹھ) میں آپ کی بطور نگران تقرری خود حضرت بنوریؒ نے فرمائی، جہاں آپ نے کئی برس تدریس کے ساتھ ساتھ انتظامی ذمہ داریاں بھی انجام دیں۔اپنی 51 سالہ تدریسی زندگی میں آپ نے درسِ نظامی کی تقریباً تمام کتب پڑھائیں اور بتدریج منصبِ استاذ الحدیث پر فائز ہوئے۔ دو برس قبل جامعہ بنوری ٹاؤن کے شیخ الحدیث مولانا محمد انور بدخشانیؒ کی رحلت کے بعد آپ اس عظیم و قدیم دینی درسگاہ کے شیخ الحدیث مقرر ہوئے۔دنیا بھر میں آپ کے ہزاروں شاگرد ہیں، جن میں بڑی تعداد علماء اور مفتیانِ کرام کی ہے۔ دینی، علمی اور دعوتی خدمات کے سلسلے میں آپ نے دنیا کے کئی ممالک کے اسفار بھی کیے۔مولانا طلحہ رحمانی کے مطابق اس وقت جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں آپ سب سے قدیم استاد تھے، اور موجودہ اکثر اساتذہ کے استاد اور مربی بھی تھے۔آپ کو جامعہ بنوری ٹاؤن کے علاوہ پانچ، چھ دیگر بڑے مدارس و جامعات میں بھی حدیث کی تدریس کا اعزاز حاصل تھا۔ دو روز قبل آپ کو دل کے عارضے کے باعث ہسپتال میں داخل کیا گیا، جہاں علاج جاری تھا کہ اچانک حرکتِ قلب بند ہو جانے سے آپ 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔آپ کے انتقال کی خبر سے دنیا بھر میں آپ کے ہزاروں علماء اور طلبہ میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ آپ کی نمازِ جنازہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی میں ادا کی جائے گی، جس میں ہزاروں علماء، طلبہ اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کی کثیر تعداد کی شرکت متوقع ہے۔پسماندگان میں دو بیویاں، چار بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔مولانا قاری مفتاح اللہؒ کے انتقال پر قائدین وفاق المدارس مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا انوار الحق حق انی، مولانا محمد حنیف جالندھری، مولانا عبید اللہ خالد، مولانا سعید یوسف اور دیگر نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے علمی حلقوں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی جامعہ بنوری ٹاؤن کے شیخ الحدیث مولانا قاری مفتاح اللہؒ کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اپنے تعزیتی بیان میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مولانا قاری مفتاح اللہؒ کی رحلت علمی و دینی حلقوں کے لیے ایک بڑا اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ وہ ایک ثقہ عالمِ دین، کہنہ مشق مدرس، صاحبِ طرز خطیب، علمِ قراءت کے ماہر اور علومِ عقلیہ و نقلیہ کے جامع تھے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کی پوری زندگی علومِ اسلامیہ کی خدمت، تدریس اور اشاعت میں گزری، اور ان کے علم و فیض سے ہزاروں طلبہ مستفید ہوئے، جو آج مختلف میدانوں میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مولانا قاری مفتاح اللہؒ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، انہیں اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے، اور ان کی دینی و علمی خدمات کو شرفِ قبولیت بخش کر اپنے شایانِ شان اجر سے نوازے۔ انہوں نے مرحوم کے اہلِ خانہ، متعلقین، تلامذہ اور تمام عقیدت مندوں سے دلی اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی۔ @alzujajahtvofficial