У нас вы можете посмотреть бесплатно Saqi Nama Compete ساقی نامہ مکمل متن، الفاط معنی اور شرح کے ساتھ или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
ساقی نامہ ہُوا خیمہ زن کاروانِ بہار۔اِرم بن گیا دامنِ کوہسار گُل و نرگس و سَوسن و نسترن۔ شہیدِ ازل لالہ خونیں کفن جہاں چھُپ گیا پردۂ رنگ میں۔ لہُو کی ہے گردش رگِ سنگ میں فضا نِیلی نِیلی، ہوا میں سُرور ۔ ٹھہَرتے نہیں آشیاں میں طیُور وہ جُوئے کُہستاں اُچکتی ہوئی۔ اَٹکتی، لچکتی، سرکتی ہوئی اُچھلتی، پھِسلتی، سنبھلتی ہوئی۔ بڑے پیچ کھا کر نِکلتی ہوئی رُکے جب تو سِل چِیر دیتی ہے یہ۔ پہاڑوں کے دل چِیر دیتی ہے یہ ذرا دیکھ اے ساقی لالہ فام!۔ سُناتی ہے یہ زندگی کا پیام پِلا دے مجھے وہ میء پردہ سوز۔ کہ آتی نہیں فصلِ گُل روز روز وہ مے جس سے روشن ضمیرِ حیات۔ وہ مے جس سے ہے مستیِ کائنات وہ مے جس میں ہے سوزوسازِ ازل۔ وہ مے جس سے کھُلتا ہے رازِ ازل اُٹھا ساقیا پردہ اس راز سے۔ لڑا دے ممولے کو شہباز سے زمانے کے انداز بدلے گئے۔ نیا راگ ہے، ساز بدلے گئے ہُوا اس طرح فاش رازِ فرنگ۔ کہ حیرت میں ہے شیشہ بازِ فرنگ پُرانی سیاست گری خوار ہے۔ زمیں مِیر و سُلطاں سے بیزار ہے گیا دَورِ سرمایہ داری گیا۔ تماشا دِکھا کر مداری گیا گراں خواب چِینی سنبھلنے لگے۔ ہمالہ کے چشمے اُبلنے لگے دلِ طُورِ سینا و فاراں دو نِیم ۔ تجلّی کا پھر منتظر ہے کلیم مسلماں ہے توحید میں گرم جوش۔ مگر دل ابھی تک ہے زُنّار پوش تمدّن، تصوّف، شریعت، کلام۔ بُتانِ عَجم کے پُجاری تمام! حقیقت خرافات میں کھو گئی۔ یہ اُمّت روایات میں کھو گئی لُبھاتا ہے دل کو کلامِ خطیب۔ مگر لذّتِ شوق سے بے نصیب! بیاں اس کا منطق سے سُلجھا ہُوا۔ لُغَت کے بکھیڑوں میں اُلجھا ہُوا وہ صُوفی کہ تھا خدمتِ حق میں مرد۔ محبّت میں یکتا، حمِیّت میں فرد عَجم کے خیالات میں کھو گیا۔ یہ سالک مقامات میں کھو گیا بُجھی عشق کی آگ، اندھیر ہے۔ مسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہے شرابِ کُہن پھر پِلا ساقیا۔ وہی جام گردش میں لا ساقیا! مجھے عشق کے پَر لگا کر اُڑا۔ مری خاک جُگنو بنا کر اُڑا خِرد کو غلامی سے آزاد کر۔ جوانوں کو پِیروں کا استاد کر ہری شاخِ مِلّت ترے نم سے ہے۔ نفَس اس بدن میں ترے دَم سے ہے تڑپنے پھٹرکنے کی توفیق دے۔ دلِ مرتضیٰؓ، سوزِ صدّیقؓ دے جگر سے وہی تِیر پھر پار کر۔ تمنّا کو سِینوں میں بیدار کر ترے آسمانوں کے تاروں کی خیر۔ زمینوں کے شب زندہ داروں کی خیر جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے۔ مرا عشق، میری نظر بخش دے خودی کیا ہے، رازِ درُونِ حیات۔ خودی کیا ہے، بیداریِ کائنات خودی جلوہ بدمست و خلوَت پسند۔ سمندر ہے اک بُوند پانی میں بند اندھیرے اُجالے میں ہے تابناک۔ من و تُو میں پیدا، من و تُو سے پاک ازل اس کے پیچھے، اَبد سامنے۔ نہ حد اس کے پیچھے، نہ حد سامنے زمانے کے دریا میں بہتی ہوئی ۔ سِتم اس کی موجوں کے سہتی ہوئی تجسّس کی راہیں بدلتی ہوئی۔ دمادم نگاہیں بدلتی ہوئی سبک اس کے ہاتھوں میں سنگِ گراں۔ پہاڑ اس کی ضربوں سے ریگِ رواں سفر اس کا انجام و آغاز ہے۔ یہی اس کی تقویم کا راز ہے کِرن چاند میں ہے، شرر سنگ میں۔ یہ بے رنگ ہے ڈُوب کر رنگ میں اسے واسطہ کیا کم و بیش سے۔ نشیب و فرازوپس و پیش سے اَزل سے ہے یہ کشمکش میں اسِیر۔ ہُوئی خاکِ آدم میں صُورت پذیر خودی کا نشیمن ترے دل میں ہے۔ فلک جس طرح آنکھ کے تِل میں ہے خودی کے نِگہباں کو ہے زہرِ ناب۔ وہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آب وہی ناں ہے اس کے لیے ارجمند ۔ رہے جس سے دُنیا میں گردن بلند فرو فالِ محمود سے درگزر۔ خودی کو نِگہ رکھ، ایازی نہ کر وہی سجدہ ہے لائقِ اہتمام۔ کہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرام یہ عالم، یہ ہنگامۂ رنگ و صوت۔ یہ عالم کہ ہے زیرِ فرمانِ موت یہ عالم، یہ بُت خانۂ چشم و گوش۔ جہاں زندگی ہے فقط خورد و نوش خودی کی یہ ہے منزلِ اوّلیں۔ مسافر! یہ تیرا نشیمن نہیں تری آگ اس خاک داں سے نہیں۔ جہاں تجھ سے ہے، تُو جہاں سے نہیں بڑھے جا یہ کوہِ گراں توڑ کر۔ طلسمِ زمان و مکاں توڑ کر خودی شیرِ مولا، جہاں اس کا صید۔ زمیں اس کی صید، آسماں اس کا صید جہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمود۔ کہ خالی نہیں ہے ضمیرِ وجود ہر اک منتظر تیری یلغار کا۔ تری شوخیِ فکر و کردار کا یہ ہے مقصدِ گردشِ روزگار ۔ کہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکار تُو ہے فاتحِ عالمِ خوب و زِشت۔ تجھے کیا بتاؤں تری سرنوشت حقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگ ۔ حقیقت ہے آئینہ، گُفتار زنگ فروزاں ہے سِینے میں شمعِ نفَس۔ مگر تابِ گُفتار کہتی ہے، بس! ’اگر یک سرِ مُوے برتر پَرم۔ فروغِ تجلّی بسوزد پَرم،