У нас вы можете посмотреть бесплатно عطااللہ اثر کی شنا شاعری پر ایک تحقیتی بحث или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
شنا زبان کو زندہ رکھنے میں شنا شاعری اور اس میں استعمال ہونے والے استعاروں کا نہایت اہم کردار ہے۔ یہ استعارے صرف ادبی خوبصورتی نہیں پیدا کرتے بلکہ زبان کی گہرائی، اس کی فکر، ثقافت اور اجتماعی یادداشت کو بھی زندہ رکھتے ہیں۔ ہر استعارہ اپنے اندر صدیوں پرانی روایات، سماجی اقدار، فکری رویے اور جذباتی رنگ سموئے ہوئے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم شنا شاعری سنتے یا پڑھتے ہیں تو ہمیں نہ صرف زبان کی مٹھاس بلکہ اپنی تہذیب و ثقافت کی خوشبو بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ استعارے نئی نسل کے لیے زبان سیکھنے اور اسے اپنی زندگی میں برتنے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہیں۔ شاعری کے ذریعے نوجوان نسل زبان سے جڑتی ہے، کیونکہ شاعری میں موسیقیت، جذبات اور معنی کی تہہ در تہہ خوبصورتی انہیں اپنی طرف کھینچتی ہے۔ یوں شاعری ایک پُل کا کردار ادا کرتی ہے جو پرانی نسل کی یادوں اور تجربات کو نئی نسل تک منتقل کرتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ استعارے شنا زبان کے دل کی دھڑکن ہیں۔ یہی دھڑکن زبان کو زندہ رکھے ہوئے ہے اور مستقبل میں بھی زبان کی بقا اور ارتقا کا ذریعہ بنے گی۔ اگر ہم اپنی شاعری اور اس کے استعاروں کو زندہ رکھیں، انہیں پڑھیں، سنیں اور نئی نسل تک پہنچائیں، تو شنا زبان ہمیشہ کے لیے زندہ و تابندہ رہے گی۔