У нас вы можете посмотреть бесплатно Mutalia Muntakhab Nisab Part 1Dars 2- Ayat ul Bir - Lecture 6 | Dr Anwar Ali или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
مطالعہ منتخب نصاب - حصہ اول درس دوم - آیۃ البر - لیکچرپنجم Speaker: Dr Anwar Ali Location: Masjid Jame-ul-Quran, Block 14, Gulistan e Jauhar, Karachi اس بیان میں سورۃ البقرہ آیت 177 (آیتُ البر) کے ایک حصے "وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا" کی روشنی میں نیکی کا جامع اور متوازن تصور بیان کیا گیا ہے، جس میں ایمان، عبادات، خدمتِ خلق اور وفائے عہد سب کو نیکی کے لازمی اجزاء کے طور پر سمجھایا گیا ہے۔ نیکی کے ظاہری اور باطنی دونوں پہلوؤں پر گفتگو کی گئی ہے: ایک طرف دل کا ایمان اور اللہ سے تعلق، دوسری طرف بندوں کے حقوق، انصاف اور سچائی، تاکہ سننے والا نیکی کو محض چند رسومی اعمال تک محدود نہ سمجھے بلکہ پوری شخصیت اور کردار کے ساتھ وابستہ حقیقت کے طور پر پہچانے۔ آیتِ بر کے پہلے دو عملی مظاہر (انسانی ہمدردی اور نماز) کا حوالہ دے کر بتایا گیا کہ ہمارے معاشرے میں چیریٹی، دسترخوان اور مساجد کی آبادی کی شکل میں کچھ جزوی تصورات تو زندہ ہیں، لیکن تیسرا اہم مظہر یعنی وعدوں اور معاہدوں کو پورا کرنا بہت کمزور یا تقریباً غائب ہو چکا ہے، جس سے پورا اخلاقی نظام متاثر ہو رہا ہے۔ وفائے عہد کو انسان کے انسان سے بنیادی تعلق کی بنیاد کے طور پر پیش کیا گیا ہے: انسان اپنے والدین، خاندان، پڑوسی، ساتھی، ملازم، استاد، شاگرد اور پورے سماج کے ساتھ ان دیکھے مگر حقیقی معاہدوں میں جکڑا ہوا ہے؛ ہر جگہ کچھ لو کچھ دو کا اصول جاری ہے، اور یہیں عدل یا ظلم، دیانت یا خیانت سامنے آتی ہے۔ ناپ تول میں کمی کی مثال سے یہ واضح کیا گیا کہ دکان پر وزن میں کمی دراصل ایک معاہدے کی خلاف ورزی اور حقوق العباد کی پامالی ہے؛ بظاہر وہ صرف ترازو کی گڑبڑ لگتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ رویہ ہے کہ اپنے لیے حق پورا لیا جائے، مگر دوسرے کو حق پورا نہ دیا جائے، اور یہی ذہن ہر میدان میں جھوٹ، دھوکے اور دو نمبری کی صورت میں پھیل جاتا ہے۔ بیان میں سمجھایا گیا کہ ہمارے معاشرے میں ہر سطح پر تین طرح کے معاہدے چل رہے ہیں: 1) انسان کا انسان کے ساتھ (خاندان، محلہ، ملازمت، تجارت وغیرہ)، 2) انسان کا اپنے آپ سے (نیکی کا ارادہ، توبہ، عزم و عہد)، 3) انسان کا اللہ کے ساتھ (کلمہ، نماز، عبادات)؛ اور نیک انسان وہ ہے جو ان تینوں دائروں میں اپنی کمٹمنٹس کو سنجیدگی سے لیتا اور نبھاتا ہے۔ کلمہ طیبہ اور نماز میں پڑھے جانے والے "ایاک نعبد و ایاک نستعین" کو ایک زندہ، روزمرہ عہد کے طور پر بیان کیا گیا کہ مسلمان ہر نماز میں رب کے حضور یہ وعدہ دہراتا ہے کہ وہ صرف اسی کی بندگی کرے گا اور صرف اسی سے مدد مانگے گا، لہٰذا عملی زندگی میں عبادات کو چھوڑ کر گناہ پر ڈٹے رہنا اس عظیم عہد کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ منافق کی تین علامتوں والی حدیث کی روشنی میں واضح کیا گیا کہ وعدہ خلافی محض اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ منافقت کی علامت ہے؛ اگر کسی کی زبان پر دین، عبادت اور ذکر کا چرچا ہو مگر وہ تعلقات، کاروبار، ملازمت اور گھریلو معاملات میں وعدہ پورا نہ کرتا ہو تو وہ نیکی کے خمیر میں خرابی رکھتا ہے، چاہے ظاہری اعمال بہت ہوں۔ قیامت کے دن مفلس کی حدیث کے ذریعے بتایا گیا کہ اصل خسارہ اس انسان کا ہے جو نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور صدقہ و خیرات کی گٹھری لے کر آئے گا، مگر ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی آئیں گے جن کے حقوق اس نے دنیا میں مارے ہوں گے؛ ہر مظلوم اس کی نیکیوں سے اپنا حق لے گا، یہاں تک کہ نیکیاں ختم ہو جائیں گی اور دوسروں کے گناہ اس پر ڈالے جائیں گے، اور یوں وہ شخص حقیقی مفلس اور بد نصیب ثابت ہوگا۔ حقوق اللہ، حقوق العباد اور شرک کے فرق کو تفصیل سے سمجھایا گیا: شرک ناقابلِ معافی جرم، حقوق اللہ (عبادات وغیرہ) اللہ کی مشیت کے تحت، اور حقوق العباد اس اصول کے ساتھ کہ جب تک مظلوم بندہ خود نہ معاف کرے، اللہ بھی معاف نہیں فرماتا؛ اس سے روزمرہ زندگی میں معاہدوں، وعدوں اور لین دین کی سنجیدگی اُجاگر کی گئی۔ ملازمت اور ادارہ جاتی معاہدوں کی مثالوں سے واضح کیا گیا کہ تحریری کنٹریکٹ پر دستخط کرنے کے بعد وقت، کام اور ذمہ داری میں ڈنڈی مارنا، یا ادارہ کی طرف سے اضافی کام لے کر اضافی حق نہ دینا دونوں عہد شکنی اور گناہ ہیں؛ اسی طرح گھریلو ملازمین، ماسیوں اور مزدوروں کے ساتھ زبانی طے شدہ شرطوں میں خیانت بھی قیامت کے دن سخت مواخذے کا سبب بن سکتی ہے۔ بیان میں مختلف عبرت انگیز واقعات (صحابی کا غلاموں کو سزا دینے والا واقعہ، ان کا سارے غلام آزاد کر دینا، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک مسافر سے غلط فہمی پر چابک مارنے کے بعد خود سزا کی درخواست کرنا) کے ذریعے صحابہ کے دلوں میں قیامت کے خوف اور وفائے عہد کے حساس شعور کو اجاگر کیا گیا ہے، تاکہ آج کا مسلمان اپنے رویے کا موازنہ ان اعلیٰ نمونوں کے ساتھ کر سکے۔ آخر میں سامعین کو اس بات کی طرف متوجہ کیا گیا کہ نیکی کا مکمل تصور اپنانے کے لیے صرف نماز، روزہ، ذکر اور چند خیرات کافی نہیں، بلکہ خاندان، معاشرہ، مسجد، دفتر، بازار، حتی کہ سوشل میڈیا اور آن لائن معاملات میں بھی سچائی، دیانت اور وعدہ پورا کرنے کا رویہ اختیار کرنا ضروری ہے، تاکہ ہماری ظاہری عبادات اور باطنی تعلق دونوں مل کر حقیقی نیکی کی صورت اختیار کر سکیں۔