У нас вы можете посмотреть бесплатно Ancient Mari Indus Temple | Adventure Ride & Hike или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
ماڑی انڈس کے قدیم مندر: کالاباغ کیمپنگ ایونٹ، کالاباغ نمک کی کان اور ماڑی انڈس ریلوے اسٹیشن کے وزٹ کے بعد ہمارا قافلہ تاریخ کے اوراق پلٹنے کے لیے ماڑی انڈس کے مندروں کی جانب روانہ ہوا۔ ماڑی کی خاموش بستی سے کچھ فاصلے پر ایک بلند و بالا پہاڑی چوٹی پر قدیم مندروں کے آثار ہماری منزل تھے۔ اب ان مندروں تک رسائی کے لیے محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے جیپ ٹریک بنایا جا چکا ہے جو اگرچہ کچا راستہ ہے، مگر مہم جوئی کا جذبہ ہمیں اپنی موٹر سائیکلوں سمیت پہاڑی کی چوٹی تک لے گیا۔ ہمارے ہمسفر درجن بھر دوستوں میں سے صرف چند ایک اس ایڈوینچر سے محظوظ ہوۓ جن میں مشتاق انصاری صاحب، ارشد نیازی، عاصم بھائ اور بابر مقبول شامل تھے۔ چوٹی پر پہنچ کر جو منظر سامنے آیا وہ الفاظ میں بیان کرنا مشکل تھا۔ نیچے پھیلی ماڑی کی آبادی، بل کھاتا دریائے سندھ اور اردگرد کے سنگلاخ پہاڑ قدرت کے حسین امتزاج کی تصویر پیش کر رہے تھے۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اور خاموش فضا گویا صدیوں پرانی داستانیں سنا رہے تھے۔ ان تاریخی مندروں کے آثار کو دیکھ کر یوں محسوس ہوا جیسے وقت کی رفتار رک گئی ہو اور ہم ماضی کی کسی گمشدہ تہذیب میں داخل ہو گئے ہوں۔ تاریخی حوالوں کے مطابق ماڑی انڈس کا علاقہ اہم تجارتی مرکز تھا جہاں سے نمک اور دیگر اشیا دریائے سندھ کے ذریعے مختلف علاقوں تک پہنچائی جاتی تھیں۔ اسی علاقے کی پہاڑی پر واقع حفاظتی قلعے اور مندر قدیم تہذیبی و مذہبی سرگرمیوں کے مراکز سمجھے جاتے ہیں۔ محققین کے مطابق یہ مندر برصغیر کے اس خطے میں موجود اُن تاریخی عبادت گاہوں کے سلسلے کا حصہ ہیں جو دریائے جہلم اور دریائے سندھ کے درمیانی علاقے میں واقع ہیں اور ان کی تعمیر عموماً ہندو شاہی دور (تقریباً آٹھویں سے گیارہویں صدی عیسوی) سے منسوب کی جاتی ہے۔ ان مندروں کی تعمیر میں استعمال ہونے والا پتھر اور نفیس سنگ تراشی قدیم معماروں کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تاریخی ریکارڈ میں یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ یہ مندر کسی زمانے میں ایک وسیع مذہبی کمپلیکس کا حصہ تھے جہاں متعدد عمارتیں موجود تھیں، لیکن وقت گزرنے، موسمی اثرات، قدرتی کٹاؤ اور انسانی لاپرواہی کے باعث ان میں سے بیشتر آثار مٹ چکے ہیں۔ اس کے باوجود باقی رہ جانے والے مندر آج بھی اپنی مضبوط تعمیر اور قدیم تہذیبی عظمت کی گواہی دیتے ہیں۔ ان آثار کے درمیان کھڑے ہو کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ خاموش دیواریں اپنے عروج و زوال کی داستان سنانا چاہتی ہوں۔ وقت کے تھپیڑوں کے باوجود ان مندروں کا وجود اس خطے کی متنوع تہذیبی تاریخ اور مذہبی ہم آہنگی کا روشن ثبوت ہے۔ ماڑی انڈس کے یہ تاریخی مندر صرف پتھروں کی عمارتیں نہیں بلکہ ماضی کی وہ زندہ یادگاریں ہیں جو ہمیں اپنی تہذیبی جڑوں سے جوڑتی ہیں۔ ایسے مقامات نہ صرف سیاحت بلکہ تحقیق و مطالعہ کے لیے بھی بے حد اہم ہیں اور ان کا تحفظ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوئ محکمہ آرکیالوجی کی جانب سے اس تاریخی ورثہ کی بحالی کا کام جاری ہے۔ During our return journey from Kalabagh, we explored the ancient temples of Mari Indus, located on a hilltop a short distance from the town. A rough jeep track now leads to the site, but our adventurous spirit pushed us to ride our motorcycles all the way to the top. The breathtaking panoramic view of Mari town and the mighty Indus River from the hill was truly unforgettable. These historic temples are believed to belong to the Hindu Shahi period (8th–11th century CE) and reflect the rich cultural and religious heritage of the region. Built with beautifully carved stone, the remaining structures stand as silent witnesses to centuries of history, trade, and civilization that once flourished along the Indus River. Visiting these ancient ruins felt like stepping back in time and discovering a forgotten chapter of South Asian history. This journey was not just about travel, but about exploring heritage, adventure riding, and discovering hidden historical gems of Pakistan. #MariIndus #AncientTemples #Kalabagh #IndusRiver #PakistanTourism #HistoricalPlaces #AdventureRide #MotorcycleTravel #HiddenPakistan #HeritageTour #TravelPakistan #ExplorePakistan #HistoryLovers #CulturalHeritage #WasaibExplorer