У нас вы можете посмотреть бесплатно Biography of Mazhar Sb Nanotvi Bani e Mazahir или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
Biography of Mazhar Sb Nanotvi Bani e Mazahir حضرت مولانا محمد مظہر نانوتوی یکی از بانیان مظاہر علوم سہارنپور نام و نسب جناب حضرت مولانا محمد مظہر بن شیخ حافظ الطف علی بن حافظ غلام شرف نانوتوی صدیقی رحمہم اللہ رحمة واسعة آپ کا سلسلہ نسب قاسم بن محمد بن ابو بکر صدیق سے ملتا ہے ولادت مولانا مظہر نانوتوی کی پیدائش ۱۳۲۷ھ میں قصبہ نانو تہ میں ہوئی۔ تعلیم و تربیت حفظ قرآن اور ابتدائی تعلیم اپنے والدمحترم سے حاصل کی پھر علم شرعیہ تقلیہ و عقلیہ میں کمال حاصل کرنے کے لئے استاذ المشائخ حضرت مولانا مملوک علی صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر زانوئے تلمذ طے کیا۔ شیخ صدر الدین اور شیخ رشید الدین دہلوی بھی آپ کے اساتذہ میں سے ہیں علم حدیث کی بعض کتا بیں شاہ محمد اسحاق صاحب دہلوی سے اور بعض کتب حضرت شاہ عبدالغنی اور حضرت مولانا احمدعلی محدث سہارنپوری سے پڑھیں فراغت کے بعد اجمیری کالج اور پھر آگرہ کالج میں تقرر ہوا حضرت مولانا بھی ۱۸۵۷ء کے مجاہدین میں سے ہیں ۔ لے ہونٹ چاٹنے کا دلچسپ واقعہ حضرت مولانا مفتی محمود احسن گنگوہی مفتی اعظم ہند نے فرمایا کہ مجھ سے ہردوئی کے ایک شخص نے بیان کیا کہ حضرت مولانا مظہر نانوتوی صاحب زبان بہت کثرت کے ساتھ اپنے ہونٹوں پر پھیرتے رہتے تھے کسی نے اصرار کے ساتھ دریافت کیا تو فرمایا کہ ۱۸۵۷ء میں میں بھی جہاد میں شریک تھا میرے گولی لگی میں گر پڑا اسی حال میں دیکھا کہ حور میں شربت کے گلاس لئے ہوئے آئیں اور شہداء کو پلانا شروع کر دیا ایک گلاس میرے سامنے بھی لایا گیا۔ میں نے جس وقت اس کو منھ سے لگایا اور میرا لب تر ہوا تو دوسری حور نے یہ کبکر وہ گلاس ہٹالیا کہ ابھی اس کی حیات باتی ہے یہ ان میں سے نہیں چنانچہ وہ لذت ہونٹوں پر آج تک باقی اور محسوس ہوتی ہے۔ مظاہر علوم میں آپ کی آمد و خدمات مظاہر علوم کی بنیاد مادر جب ۱۲۸۳ھ میں پڑی اور حضرت مولانا مظہر صاحب نانوتوی تین ماہ کے بعد شوال المکرم میں تشریف لائے آمد کا سبب حضرت مولانا سعادت علی صاحب کا یاد فرمانا تھا حضرت مولانا مظہر نانوتوی نے یہاں آکر نظام تعلیم کو بہتر بنان اور اپنی پوری توجہ یہاں کی تعلیم وتربیت کومضبوط بنانے پر مرکوز کردی اور اس میں وہ کامیاب بھی ہوئے۔ چنانچہ حضرت قاضی فضل الرحمن صاحب ، مولانا سعادت علی صاحب اور مولا نا ذوالفقار علی صاحب (والد ماجدحضرت شیخ الہند) امتحان کی کامیابی اور طلبہ کی استعداد کی پختگی تحریر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ سب نتیجہ کار گزاری اور محنت مولانا مظہر نانوتوی کی ہے ہم امید کرتے ہیں کہ دوسرے مدرس بھی ایسی ہی محنت کرینگے جیسا کہ مولوی صاحب نے کی ہے درس و تدریس مظاہر علوم میں کم و بیش انیس (۱۹) سال رہے اس عرصہ میں مختلف علوم و فنون کی کتابیں پڑھا ئیں مثلاً تمام صحاح ستہ، مشکوۃ، موطا امام مالک سنن دارمی، شمایٔل ترمذی، ہدایه، در مختار، قد وری، کنز الدقائق ، شرح وقایہ، جلالین بیضاوی تفسیر کشاف، نورالانوار اور اصول الشاشی وغیرہ ان میں سے اکثر کتابوں کو سال میں دو مرتبہ پڑھاتے تھے۔ مدرسہ کے معاملہ میں انتہائی احتیاط حضرت مولانا مظہر نانوتوی مدرسہ کے معاملات میں تدین و تقوی پر کار بند رہتے تھے بالخصوص اوقات مدرسہ میں بے جا تصرف سے بہت احتیاط فرماتے تھے چنانچہ حضرت شیخ مولانا محمد زکریا صاحب مہاجر مدنی تحریر فرماتے ہیں۔ حضرت مولانا مظہر صاحب نانوتوی قدس سرہ کا یہ معمول میری جوانی میں عام طور پر مشہور اور لوگوں کو معلوم تھا کہ مدرسہ کے اوقات میں جب مولانا کا کوئی عزیز ذاتی ملاقات کے لئے آتا تو اس سے باتیں شروع کرتے وقت گھڑی دیکھ لیتے اور واپسی پر گھڑی دیکھ کر ایک پرچہ پر تحریر کرتے رہتے پرچہ حضرت کی کتاب میں ہی رکھا رہتا تھا اس پر تاریخ اور منٹوں کا اندراج فرما لیتے اور ماہ کے ختم پر ان منٹوں کو جمع فرما کر گر نصف یوم سے کم ہوتا تو نصف یوم کی اور اگر نصف یوم سے زیادہ ہوتا تو مکمل دن کی رخصت مدرسہ میں لکھا دیے البتہ اگر کوئی فتویٰ پوچھنے آتا یا مدرسہ کے کسی کام سے آتا تو اس کا اندراج نہیں فرماتے تھے حج و زیارت حضرت مولانا١٢٩٤ھ میں حضرت گنگوہی کے زیر سایہ چھ ماہ کی رخصت لیکر حج کو تشریف لے گئے اس حج کے نے قافلے میں حضرت شیخ الہند حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتوی اور مولا نا رفیع الدین صاحب بھی تھے آپ کا عدم موجودگی میں صدارت اور تدریس کی ذمہ داری حضرت مولانا احمد علی محدث سہار پنپوری نے انجام دی بیعت و ارشاد اور اجازت و خلافت آپ نے بیعت و ارشاد کا تعلق حضرت اقدس مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی سے قائم کیا تھا اور حضرت ہی کی جانب سے بیعت و خلافت بھی ملی تھی۔ حضرت مولا نا عاشق الہی صاحب میر بھی تذکرۃ الرشید میں تحریر فرماتے ہیں کہ مولانامحمد مظہر نانوتوی عمر میں حضرت امام ربانی سے بڑے تھے مگر عقیدت کے اعتبار سے گویا حضرت کے جاں نثار خادم اور عاشق جانباز تھے جب تشریف لاتے بے اختیار حضرت کے قدموں کو بوسہ دیتے اور آنکھوں میں آنسوں بھر لایا کرتے تھے حضرت امام ربانی شرماتے اور یوں فرماتے کہ مولانا آپ مجھے کیوں نادم فرمایا کرتے ہیں آپ میرے بڑے ہیں مجھ پر آپ کا ادب ضروری ہے اور آپ ایسا کام کرتے ہیں جس سے مجھے شرم آتی ہے#biography #haalat #zindgi #shekh