У нас вы можете посмотреть бесплатно انبیاء کرامؑ کا تسلسل اور ایک قادیانی اعتراض или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
چند سال پہلے جنوبی افریقہ میں ایک ختم نبوت کانفرنس کے دوران میں نے قادیانیت کے حوالے سے ایک پہلو پر گفتگو کی گئی تھی، وہ گفتگو الحمد للہ پسند کی گئی اور دنیا بھر میں اس کو بہت وسیع پیمانے پر سنا گیا پھیلایا گیا۔ اس پر قادیانی حضرات کی طرف سے ایک اعتراض سامنے آیا ہے اور وہ بھی دنیا بھر میں پھیلایا گیا ہے۔ میں آج اس حوالے سے تھوڑی سی گفتگو کرنا چاہوں گا۔ میں نے یہ گزارش کی تھی کہ قدرت کا قانون یہ ہے اور تسلسل یہ بتاتا ہے حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کا، کہ نئے نبی کے آنے سے مذہب بدل جاتا ہے، نبی مطاع ہوتا ہے مطلقًا اور نبی کے بدلنے سے اطاعت کا مرکز تبدیل ہو جاتا ہے۔ چونکہ نبی وہ واحد شخصیت ہوتی ہے جس کی بات کسی دلیل کے بغیر ماننا ضروری ہوتی ہے، نبی سے دلیل نہیں پوچھی جاتی، نبی جو کہتا ہے وہ دلیل ہوتی ہے۔ بنیادی طور پر یہ بات کہی تھی علامہ محمد اقبالؒ نے، تو میں نے ان کی اس بات کو بنیاد بنا کر ایک بات کی تھی کہ نبی کے بدلنے سے مذہب بدل جاتا ہے، اور قادیانی چونکہ نئی نبوت کی بات کرتے ہیں تو ان کا مذہب ہمارے مذہب سے الگ ہے، وہ نیا نام رکھیں گے۔ جس طرح یہودیت سے عیسائیت الگ ہوئی، نئے نبی کی بنیاد پر، نئی وحی کی بنیاد پر، نئی کتاب کی بنیاد پر۔ اور عیسائیت سے ہم الگ ہیں، نئے نبی کی بنیاد پر، نئی کتاب کی بنیاد پر، نئی وحی کی بنیاد پر۔ ہم حضرت موسٰی علیہ السلام کو بھی مانتے ہیں، توراۃ کو بھی مانتے ہیں، حضرت عیسٰی علیہ السلام کو بھی مانتے ہیں، انجیل کو بھی مانتے ہیں، لیکن چونکہ ہم ان کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور قرآن کریم پر بھی ایمان رکھتے ہیں اس لیے ہمارا مذہب ان سے الگ ہے، عیسائیوں کا یہودیوں سے الگ ہے۔ یہ میں نے بنیادی بات کی تھی کہ نبی کے بدلنے سے، وحی کے بدلنے سے مذہب بدل جاتا ہے، پہلا مذہب اور ہوتا ہے دوسرا اور ہوتا ہے، نام الگ ہوتا ہے۔ غلط یا صحیح اپنے مقام پر لیکن مذہب بہرحال تبدیل ہو جاتا ہے، کہ اطاعت کا مرکز تبدیل ہو جاتا ہے تو مذہب بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ میں نے بات کی تھی، اس پر قادیانی حضرات کی طرف سے یہ اعتراض کچھ عرصہ پہلے سامنے آیا ہے اور دنیا بھر میں اس کو دوہرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولوی صاحب نے بات کی ہے تو موسٰی علیہ السلام کی بات کر کے پھر سیدھا عیسٰی علیہ السلام پر چلے گئے ہیں، یہ درمیان کے انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات جو تھے ان کے آنے سے تو مذہب نہیں بدلا تھا، ان کا ذکر مولوی صاحب نے کیوں نہیں کیا؟ یہ ان کا استدلال و اعتراض کہ درمیان میں بہت سے پیغمبر آئے تھے، ہزاروں کی تعداد میں آئے تھے، وحی بھی آتی رہی ہے۔ تو درمیان کے جو نبی آتے رہے ان نبیوں کے آنے سے مذہب کیوں نہیں بدلا، یہ عیسٰی علیہ السلام تک بات کیوں گئی ہے؟ یہ ان کا اعتراض ہے اور بادی النظر میں یہ اعتراض سمجھ میں آتا ہے۔ اصل میں یہ اعتراض اس لیے پیدا ہوا کہ میری گفتگو میں کچھ اجمال رہ گیا تھا، میں نے پوری وضاحت نہیں کی تھی، میں معترضین کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے یہ سوال پیدا کر کے مجھے اپنی گفتگو کا اجمال دور کرنے کا موقع دیا ہے۔ بات یہ ہے کہ میں مانتا ہوں کہ حضرت موسٰیؑ کے بعد حضرت عیسٰیؑ تک درمیان میں سینکڑوں نہیں، بعض روایات کے مطابق ہزاروں پیغمبر آئے ہیں، ان کے آنے سے مذہب نہیں بدلا، مذہب بدلا ہے عیسٰی علیہ السلام کے آنے پر آخری مرحلے میں۔ اس کی دو وجوہات ہیں کہ وہ کیوں نہیں بدلا اور ہمارا کیوں بدل گیا ہے۔ اس کے دو بنیادی اسباب ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں حضرت عیسٰیؑ تک نبیوں کا آنا جاری تھا، ختم نبوت کا کوئی تصور تھا نہیں۔ حضرت عیسٰیؑ کو بھی خاتم الانبیاء کہا جاتا ہے لیکن خاتم انبیاء بنی اسرائیل، بنی اسرائیل کے آخری پیغمبر۔ لیکن اس سے پہلے ختم نبوت کا تصور بنی اسرائیل میں نہیں تھا، نبوت کا سلسلہ جاری تھا، ختم نبوت کا عقیدہ نہیں تھا، اس لیے ان کے آنے سے فرق نہیں پڑتا تھا، اور وہ نہیں پڑا۔ ایک وجہ تو یہ ہے۔ دوسری وجہ یہ بنی کہ موسٰی علیہ السلام سے شروع ہو کر حضرت زکریاؑ اور حضرت یحیٰیؑ تک جس نے بھی اس دائرے میں نبوت کی بات کی ہے اس کو تسلیم کیا گیا ہے۔ لیکن حضرت عیسٰیؑ کا انکار کر دیا گیا۔ عیسٰی علیہ السلام نے نبوت کا دعوٰی کیا تو بنی اسرائیل نے یہود نے ماننے سے انکار کر دیا، الگ ہو گئے۔ اب جب انکار کی بنیاد پر الگ ہوئے تو یہ مذہب الگ ہو گیا اور وہ مذہب الگ ہو گیا۔ یہ دوسری وجہ ہے کہ عیسٰی علیہ السلام کا انکار کر دیا گیا، انکار کرنے والے پہلے مذہب کے ماننے والے رہے، اور ان کو تسلیم کرنے والے نئے مذہب کے پیروکار بن گئے۔ مکمل تحریر http://zahidrashdi.org/3598