У нас вы можете посмотреть бесплатно نظم طلوع اسلام کا فنی و فکری جائزہ Tulu e Islam или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
نظم طلوع اسلام کا فکری وفنی جائزہ بسم اللہ الرحمن الرحیم نظم طلوع اسلام علامہ اقبال نے ۱۹۲۳ میں انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں خود پڑھ کر سنائی۔ یہ وہ دور تھا جب پہلی جنگ عظیم کے شعلے سرد ہوچکے تھے۔ اس جنگ میں جہاں دنیا کی بڑی طاقتوں نے فرعونیت و تکبر کے نشے میں پوری دنیا کو آگ کے شعلوں کے سپرد کردیا تھا۔ انگلینڈ ، امریکہ اور روس جیسے ممالک ایک طرف اپنے زخم چاٹ رہے تھے جبکہ دوسری طرف امت مسلمہ کے خلافتی مرکز ترکی پر آخری کاری وار کرنا چاہتے تھے تاکہ مسلمانوں کی اس مرکزیت کا خاتمہ ہوسکے۔ اس مقصد کی خاطر مذکورہ ممالک کی شہ پر یونان ترکی کے مرکزی شہر پر چڑھ دوڑا لیکن دوسری طرف دلیر ترک مسلمانوں نے بے سروسامانی کے باوجود قوت ایمانی کا وہ ثبوت دیا کہ انھوں نے نہ صرف استنبول کا کامیاب دفاع کیا بلکہ یونانیوں کو ترکی سے مار بھگایا۔ کئی صدیوں بعد مسلمانوں کی طرف سے ایک کامیاب جنگ لڑی گئی تھی۔ اس فتح سے پورے عالم اسلام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ علامہ اقبال نے بھی ترک مسلمانوں کے اس دلیرانہ اقدام پر بڑی خوشی کا اظہار کیا۔ اس فتح کو علامہ نے نشات ثانیہ سے تعبیر کیا۔ اسی وجہ سے علامہ نے اس نظم کا نام بھی طلوع اسلام رکھا ہے یعنی اسلام کا سورج دنیا کے افق پر ایک بار پھر چمکنے کو ہے۔ علامہ نے اس نظم کو نو بندوں میں مکمل کیا ہے۔ اس نظم کی بحر بحر ہزج مثمن ہے یعنی مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن۔ بعض اوقات اس بحر کا آخری رکن محذوف ہو کر فعولن بن جاتا ہے۔ پہلے بند میں علامہ کی خوشی دیدنی ہے۔ اس بند میں علامہ کو اس بات کی خوشی ہے کہ مسلمان پھر سے بیدار ہونے کو ہے اور اس بیداری کا بڑا سبب طوفان مغرب ہے۔ اب وہ حالت بن چکی ہے کہ مدد خداوندی بھی مسلمانوں کے شامل حال ہوگی۔ علامہ ہر مسلمان سے یہ خواہش رکھتے ہیں کہ وہ اس جذبہ ایمانی کو کم نہ ہونے دے۔ دوسرے بند میں علامہ نے مسلمانوں کی دعا کی قبولیت کا ذکر کیا ہے۔ اب مسلمانوں کے اتحاد کا وقت قریب آچکا ہے۔ اگرچہ عثمانیوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام ہوا ہے لیکن خوشی اس بات کی ہے کہ شہیدوں کا خون رنگ لے آیا ہے۔ ترک مسلمانوں کو مصطفی کمال پاشا جیسا ایک دلیر اور زیرک راہنما مل چکا ہے۔ علامہ نے اپنا مشہور شعر مصطفی کمال پاشا کے نام لکھا تھا ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا یاد رہے اسی مصطفی کمال پاشا نے جب خلافت کے خاتمے کا اعلان کیا تو علامہ کو بہت دکھ ہوا تھا۔ تیسرے بند میں علامہ نے مسلمان کا مقام بلند بیان کیا ہے۔ مسلمان کا مقام ستاروں سے بھی اوپر ہے۔ یہ خدا کا آخری پیغام ہے اور اسی سے نئی دنیا کی تعمیر ہوگی۔ ایشیا کی سرزمین کا آئندہ پاسباں مسلمان ہوگا مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس منصب کے لیے خود کو تیار رکھے سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا چوتھے بند میں علامہ نے مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کا درس دیا ہے۔ اتفاق کا دامن تھام کر تین خصلتیں انتہائی ضروری ہیں جو دنیا و اخرت میں کامیابی کی کنجی ہیں یعنی حضرت علی کا زور، حضرت ابوذر کا سا فقر اور حضرت سلمان کی طرح سچائی۔ آزاد صفت لوگ کبھی بھی غلامی پر راضی نہیں ہوتے جبکہ غلام صرف تماشا کرتے ہیں ہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سے تماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانی پانچویں بند میں علامہ فرماتے ہیں کہ ذوق یقیں ہو تو زنجیریں کٹ جاتی ہیں اورمرد مومن کی نگاہ سے تقدیر بھی بدل جاتی ہے۔ ایمان کی روشنی سے ہر مشکل کا حل نکل آتا ہے۔ مسلمان کو یقین محکم، عمل پیہم اور دنیا کو فتح کرنے کے جذبے سے ہر وقت معمور رہنا چاہیے۔ چھٹے بند میں علامہ نے مغربی قوتوں کے بلند بانگ دعووں پر طنز کیا ہے۔ یہ قوتیں پوری طاقت سے ترکی کے مرکز پر حملہ آور ہوئی تھیں لیکن مسلمانوں نے ان کو پیچھے بھگا دیا۔ انتہائی افسوس ناک کام شریف مکہ نے کیا جس نے مغربی طاقتوں سے ساز باز کرکے حجاز مقدس کو خلافت سے الگ کردیا۔ اہل ایمان کی عجب شان ہے کہ سورج کی طرح اگر ایک جگہ ڈوب گئے تو دوسری جگہ پوری آب و تاب کے ساتھ پھر آسمان پر چمکنے لگے جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں ادھر ڈوبے ادھر نکلے ، ادھر ڈوبے ادھر نکلے یقین افراد کا سرمایہ تعمیر ملت ہے یہی قوت ہے جو صورت گر تعمیر ملت ہے ساتویں بند میں علامہ مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ اپنی ایمانی طاقت سے فائدہ اٹھاو۔ خودی کے ذریعے خدا سے رابطہ بناو۔ اخوت اور محبت اپنے اندر پیدا کرو اور فرقہ بندی کو چھوڑ دو۔ اگر کوئی طاقت سے مرعوب کرنا چاہے تو طاقت سے جواب دو اور اگر دوستی کا ماحول ہو تو محبت سے کام لو۔ آٹھویں بند میں علامہ نے مغربی فتنہ پسندی اور منافقت پر تنقید کی ہے۔ ان لوگوں نے انسان کو غلام بنانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے ہیں۔ تہذیب کے نام پر منافقت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے، ان کی ساری حکمت ہوس کی غلام بن چکی ہے ، ان کا سارا نظام سرمایے پر کھڑا ہے جہاں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں۔ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی ، جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے آخری بند میں علامہ کا جوش و خروش دیدنی ہے۔ ترکوں کی اس کامیاب کارروائی سے علامہ کو جو خوشی نصیب ہوئی اس کو اردو میں بیان کرنے سے پورا سرور نصیب نہیں ہوا اس لیے انھوں نے فارسی کا سہارا لیا۔ فرماتے ہیں میں تو ایک خوش الحان پرندے کی طرح چیخ چیخ کر کہہ رہا ہوں کہ بہار آگئی ہے اور میری صدیوں کی ناکامیوں کے بعد ایک بار پھر جہاد کا جذبہ اپنا رنگ دکھا رہا ہے۔ میری بڑی تمنا ہے کہ یہ جوش اب ماند نہ ہونے پائے، بدر و حنین کے معرکے یاد کرکے اپنے جذبہ ایمانی کو تقویت پہنچاو۔ شہیدوں کی قربانیوں کو ضائع نہ ہونے دو۔ ہماری یہ فتح آخری نہیں ہوگی بلکہ یہ سلسلہ چل نکلا ہے۔ امید ہے یہ تبصرہ پسند آیا ہوگا۔ ویڈیو کو لائک کریں اور اگر ابھی تک آپ نے ہمارا چینل بانگ اردو سبسکرائب نہیں کیا ہے سبسکرائب کرنے کی درخواست ہے۔ خداحافظ