У нас вы можете посмотреть бесплатно { کیا یہ حدیث صحیح}گھر میں بکری کا ہونا محتاجی کے { ستر 70} دروازے بند کرتا ہے или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
۔ وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا گھر میں بکری کا ہونا محتاجی کے {ستر۔70} دروازے بند کرتا ہے بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم الجواب وباللہ التوفیق روایت کا متن: عن أنس بن مالك مرفوعا : الشاة في البيت ترد سبعين بابا من الفقر *روایت کی تخریج*: مذکورہ الفاظ کے ساتھ یہ روایت بلاسند مسند الفردوس (٢/ ٣٦٤) میں موجود ہے۔ کچھ الفاظ کے فرق کے ساتھ امام سیوطی رحمہ اللہ نے جمع الجوامع (٣/ ٧٧٤) میں، امام سخاوی نے الاجوبۃ المرضیة (١/ ٢٦٣) میں اور شیعہ مصنف الشیخ طبرسی نے مکارم الاخلاق (ص ١٢٩) میں یہ روایت ذکر کی ہے۔ تمام نے مسند الفردوس کے حوالہ سے بلاسند ذکر کی ہے۔ *روایت کا حکم*: یہ روایت بالکل غیر معتبر ہے کیونکہ اس روایت کا اول ماخذ مسند الفردوس ہی مل رہا ہے اور اس میں بھی یہ بلا سند ہے، نیز امام سخاوی نے الاجوبۃ المرضیہ میں اس کے بلاسند ہونے کے ساتھ اس کے بلا اصل ہونے کا بھی ذکر کیا ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں: وذكر أيضًا بلا إسناد عن أنس مرفوعًا: "الشاة ترد سبعين بابًا من الفقر" أحسبه لا يصح. (الاوجبۃ المرضیة/١/ ٢٦٣/ تاہم بکری کے حوالہ سے اس کے علاوہ دیگر روایات بھی کتب حدیث میں موجود ہیں، جن میں صحیح، ضعیف، شدید ضعیف، موضوع درجہ کی روایات نقل کی گئی ہیں، جن پر الگ سے لکھنے کی ضرورت ہے. *خلاصہ کلام*: پوسٹ میں موجود روایت بلاسند ہے، اس لئے اس کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہ کی جائے تاوقتیکہ اس کی معتبر سند میسر نہ آجائے۔ البتہ بکریاں پالنے کے فضائل روایات میں وارد ہیں جیسا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ بھیڑ بکریاں پالا کرو، اس میں برکت ہے۔ *📒والدلیل علی ما قلنا*📒 عن أم هانئ، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لها: "اتخذي غنما، فإن فيها بركةً". حاشية السندي ۔ سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط/٣/ ٤٠٢/ قوله: (فإن فيها بركة) هي مجربة فإنه يكثر نماؤها، وفي الزوائد إسناده صحیح ورجالہ ثقات على سنن ابن ماجه (٢/ ٤٧) فقط واللہ اعلم بالصواب عاجز نوید بنگلوری ۔