У нас вы можете посмотреть бесплатно Man baap ki azmat ka ismein byan hai aap log jarur sune baki aapko yah pura byan description mein или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
yah aapko agar byan achcha Lage isko pura sune sunane ke bad video kuchh share Karen bail icon ko dabae subscribe Karen follow Karen. .. ماں باپ کی دعا — ایک دل ہلا دینے والا واقعہ ایک سرسبز و شاداب گاؤں تھا، جہاں مٹی سے سادگی کی خوشبو آتی تھی اور فضا میں اذان کی آوازیں دلوں کو نرم کر دیتی تھیں۔ اسی گاؤں کے ایک کچے مگر صاف ستھرے گھر میں ایک بوڑھا جوڑا رہتا تھا۔ باپ کا نام عبدالکریم اور ماں کا نام امّاں زلیخا تھا۔ عبدالکریم کبھی گاؤں کے بہترین کسانوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں محنت کی لکیر تھی، آنکھوں میں حیا، اور پیشانی پر سجدوں کا نور۔ امّاں زلیخا ایک سادہ دل، صابر اور اللہ پر بھروسہ رکھنے والی عورت تھیں۔ ان کی گود میں دعاؤں کی خوشبو بسی ہوئی تھی۔ اللہ نے انہیں ایک ہی بیٹا عطا کیا تھا — سلمان۔ سلمان بچپن میں ماں باپ کی آنکھوں کا تارا تھا۔ امّاں زلیخا اسے سینے سے لگا کر کہتیں: “بیٹا، تو ہماری دنیا بھی ہے اور آخرت کی امید بھی۔” عبدالکریم اکثر فجر کے بعد سلمان کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دیتے: “یا اللہ! میرے بیٹے کو نیک بنا، باادب بنا، اور ہمیں اس کے لیے باعثِ شرمندگی نہ بنانا۔” بچپن کی یادیں سلمان بچپن میں بہت معصوم تھا۔ ماں بیمار ہوتی تو پانی لاتا، باپ کھیت سے تھکا ہارا آتا تو پاؤں دباتا۔ گاؤں والے مثال دیا کرتے: “ایسا بیٹا ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔” وقت گزرتا گیا۔ سلمان جوان ہوا۔ پڑھائی میں اچھا تھا۔ گاؤں کے مولوی صاحب نے مشورہ دیا: “اس لڑکے کو شہر بھیجو، یہ بڑا آدمی بنے گا۔” امّاں زلیخا کا دل گھبرا گیا۔ “شہر بڑا ظالم ہوتا ہے، میرا بیٹا بگڑ نہ جائے۔” عبدالکریم نے آسمان کی طرف دیکھا: “اگر نیت صاف ہو تو شہر بھی گاؤں بن جاتا ہے۔” شہر کی زندگی سلمان شہر چلا گیا۔ ابتدا میں خط لکھتا، فون کرتا: “امّاں دعا کرنا، ابّا دعا دینا۔” ماں ہر نماز کے بعد ہاتھ اٹھاتیں۔ باپ تہجد میں آنسو بہاتا۔ مگر شہر نے آہستہ آہستہ سلمان کو بدلنا شروع کر دیا۔ نئی دوستیاں، نئی سوچ، نئی مصروفیات۔ فون کم ہوتے گئے۔ خط بند ہو گئے۔ امّاں زلیخا اکثر دروازے کی طرف دیکھتیں۔ “آج شاید سلمان آئے…” عبدالکریم خاموشی سے عصا پکڑ کر بیٹھے رہتے۔ بڑھاپا اور تنہائی وقت نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ عبدالکریم کی کمر جھک گئی۔ آنکھوں کی روشنی کم ہو گئی۔ امّاں زلیخا کے ہاتھ کانپنے لگے۔ ایک دن امّاں بیمار ہو گئیں۔ بخار نے توڑ دیا۔ عبدالکریم نے کانپتے ہاتھوں سے فون ملایا۔ “بیٹا… امّاں کی طبیعت ٹھیک نہیں…” سلمان نے مصروف لہجے میں کہا: “ابّا، میں میٹنگ میں ہوں، بعد میں بات کرتا ہوں۔” فون کٹ گیا۔ امّاں کی آنکھ سے آنسو بہہ نکلا۔ “شاید ہم اس کے لیے بوجھ بن گئے ہیں…” ماں کی آخری رات اس رات امّاں زلیخا نے عبدالکریم سے کہا: “سنیں… اگر میں نہ رہی تو سلمان کو کہنا، میں نے اسے معاف کر دیا ہے۔” فجر سے پہلے امّاں زلیخا دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ عبدالکریم کی دنیا اجڑ گئی۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے سلمان کو فون کیا۔ “بیٹا… تمہاری امّاں نہیں رہیں…” سلمان کچھ لمحے خاموش رہا۔ “میں کوشش کرتا ہوں آنے کی…” مگر وہ جنازے میں نہ آ سکا۔ باپ کی بددعا نہیں، دعا عبدالکریم نے امّاں کو اپنے ہاتھوں سے دفن کیا۔ قبر پر بیٹھ کر کہا: “یا اللہ! میں ناراض نہیں ہوں، بس میرا بیٹا بھٹک گیا ہے، اسے واپس لے آ۔” انجام چند سال بعد سلمان کو سب کچھ ملا — دولت، گاڑی، عہدہ مگر سکون نہیں۔ ایک رات خواب میں امّاں زلیخا آئیں۔ “بیٹا، جس نے ماں باپ کو رلا دیا، اس کی ہنسی میں بھی آنسو ہوتے ہیں۔” سلمان چیخ کر اٹھا۔ اسی وقت گاؤں کی طرف روانہ ہوا۔ دروازہ کھولا تو اندر خاموشی تھی۔ عبدالکریم چارپائی پر لیٹے تھے — ہمیشہ کے لیے خاموش۔ سلمان چیخ پڑا۔ “ابّاااااا…!” مگر وقت لوٹ کر نہیں آیا۔ سبق سلمان آج بھی کہتا ہے: “اگر ماں باپ زندہ ہوں تو سمجھ لو جنت تمہارے قدموں میں ہے۔ اور اگر نہیں… تو پوری دنیا بھی خالی لگتی ہے۔” پیغام ماں کی دعا تقدیر بدل دیتی ہے باپ کی خاموشی سمندر سے گہری ہوتی ہے جو ماں باپ کو وقت پر وقت نہیں دیتا، وقت اسے سب سے زیادہ رلاتا ہے