У нас вы можете посмотреть бесплатно کیا ایران امریکہ تنازعہ تیسری عالمی جنگ بن سکتا ہے؟ или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
تجزیہ انجم رضا کے ساتھ موضوع: کیا ایران امریکہ تنازعہ تیسری عالمی جنگ بن سکتا ہے؟ مہمان تجزیہ نگار: انجینئر سید علی رضا نقوی میزبان: سید انجم رضا پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو سولات و موضوعات کیا ایران امریکہ تنازعہ تیسری عالمی جنگ بن سکتا ہے؟ کیاامریکہ دھکمیوں کے ذریعے ایران کو نفسیاتی دباؤ میں لانا چاہتا ہے کیارہبر کی ریجنل جنگ کی دھمکی امریکہ کو مذاکرات کی کی میز پہ لائی ہے؟ ممکنہ جنگ میں چین کی مداخلت اور جدید اسلحہ کا استعمال ہوسکتا ہے؟ علاقے میں موجود جن ممالک میں امریکی فوجی اڈے ہیں وہ بھی جنگ کا حصہ بنیں گے؟ کیا عمان مذاکرات سے امریکہ ایران جنگ ٹلنے کی توقع ہے؟ خلاصہ گفتگو و اہم نکات: ایران امریکہ عمان مذاکرات میں کوئی حوصلہ افزا پیش رفت نہیں ہوئی جنگ کے بادل ابھی خطے پہ منڈلا رہے ہیں رہبر معظم اور ایرانی قیادت کا امریکی دھمکیوں کے باوجود ثابت قدم رہنا دلیری کا اظہار ہے امریکہ کا مذاکرات کی ٹیبل پہ آنا اس بات کا واضح اظہار ہے کہ وہ ایران کو دباو میں نہیں لاسکا گزشتہ برس کے جون ۲۰۲۵ کی جارحیت کے باوجود امریکہ و اسرائیل کو ہزیمت اٹھانا پڑی تھی ایران کا پرامن ایٹمی پروگرام جاری و ساری اور موجود ہے امریکہ نے اپنی سب بڑی فوجی چھاؤنی ابراہم لنکن نے کیوں بھیجی؟ یہ سوال بہت اہم ہے امریکہ کا مطالبہ ایران کا میزائیل پروگرام رول بیک کرنے کا بھی ہے ایران اور اس کے اسلامی انقلاب نے امریکہ کا عالمی سپر پاور ہونے کا تکبر چکنا چور کردیا ہے ایران نے امریکہ و اسرائیل کے ناقبل تسخیر ہونے کا طلسم تو ڑدیا ایران نے اپنی جنگی حکمت عملی کے ذریعے پہلی بار جارح اسرائیل کو دفاعی مقام پہ پہنچادیا امریکہ کی گیدڑ بھبکیاں اس کی بوکھلاہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے امریکہ نفسیاتی و اعصابی جنگ کے باوجود اب مذاکرات کی میز پہ شکست سے بچنے کے لئے آیا ہے امریکہ و اسرائیل کو غلط فہمی تھی کہ ایران ماضی کی طرح مذاکرات میں دفاعی طرز اختیار کیا ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وفد نے مذاکرات میں بہت جارحانہ و دلیرانہ انداز اپنا یا ہے رہبر معظم کے مطابق امریکہ ہمیشہ اپنے مذاکرات میں کئے گئے وعدوں سے انحراف کرتا ہے ایران نے اس بار مذاکرات میں اپنی برتری کو قائم رکھا ہے ایرانی وفد نے اس بار بھی براہ راست گفتگو سے انکار کردیا اور عمان کے نمائندے ذریعے مذاکرات ہوئے امریکی وفد رجیم تبدیلی کی بجائے بیلسٹک میزائیل پروگرام کو رول بیک کرنے کی بات کرتا رہا ایران کا خرم شہر نامی میزائیل مبینہ طور پہ ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہے اطلاعات کے مطابق ایران بیلسٹک میزائیل پروگرام پہ کوئی کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں ایران اسرائیل کو اپنے نشانے پہ رکھنے کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتا اسی لئے اسرائیلی میڈیا "واشنگٹں تہران مذاکرات" ناکامی کا پراپیگنڈہ کرتا رہا ہے یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ اگر یہ جنگ چھڑ گئی تو محدود نہیں رہے گی عالمی میڈیا تو چین کے بحری جہازوں کی خلیج میں گشت اور روسی فائٹرز کا یارانی فضاؤںمیں ہونے ویڈیو چلاتا رہا ہے شنید ہےایران نے روس اور چین کی مدد سے الیکٹرانک وار فیئر جو کسی قسم کی جنگی مہم کو جام کرسکتے ہوں ، نصب کئے ہیں مبینہ طور پہ ایرانی فضا نے جام کرنے والا "الیکٹرانک وارفیئر" اوڑھا ہوا ہے روسی صدر اور چینی صدر کی پانچ فروری کو ٹیلی فون پر طویل وڈیو فون کال کا میڈیا پہ بہت تذکرہ ہے مبینہ طور پہ روسی صدر اور امریکی صدر کی طویل ٹیلی فونک گفتگو بھی ہوئی ہے ایران پہ حملے کی صورت میں روسی صدر نے خود پہ حملہ کہا ہے ایران نے اندرونی طور پہ ایٹمی حملہ سے محفوظ رہنے کے روسی طرز کے شلیٹرز بنا لئے ہیں امریکہ کا جارحانہ انداز صرف صیہونی حکومت کو محفوظ رکھنے کے لئے ہے