У нас вы можете посмотреть бесплатно نمازِ خوف کا ایک عملی طریقہ или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
بالکل! صلاۃ الخوف (نمازِ خوف) کا طریقہ مختلف صورتوں میں نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے، جو دشمن کے سامنے یا خطرے کی حالت میں پڑھی جاتی ہے۔ یہاں ایک آسان اور معروف عملی طریقہ اردو میں درج ہے: --- نمازِ خوف کا ایک عملی طریقہ (دو رکعت امام کے ساتھ): 1. صف بندی: لشکر کو دو گروپوں (دو جماعتوں) میں تقسیم کیا جاتا ہے: پہلا گروپ امام کے ساتھ نماز پڑھے گا، دوسرا گروپ دشمن کے مقابلے میں ہوگا۔ 2. پہلی رکعت: پہلا گروپ امام کے پیچھے پہلی رکعت پڑھے گا۔ امام رکوع اور سجدہ کروائے گا۔ امام کھڑا ہو کر دوسری رکعت کے لیے قیام کرے گا۔ یہ گروپ اپنی ایک رکعت مکمل کر کے خاموشی سے پیچھے ہٹ جائے اور دشمن کی طرف چلا جائے۔ 3. دوسرا گروپ آتا ہے: دوسرا گروپ امام کے ساتھ شامل ہو کر دوسری رکعت امام کے ساتھ پڑھے گا۔ امام سلام پھیر دے گا۔ یہ دوسرا گروپ اب اپنی پہلی رکعت مکمل کرے گا (جو اس نے امام کے بغیر پڑھی) اور سلام پھیر دے گا۔ --- اہم نکات: نماز فرض (ظہر، عصر یا عشاء) کی دو رکعت پڑھی جاتی ہیں۔ اگر خطرہ زیادہ ہو تو اشارے سے بھی نماز جائز ہے۔ یہ نماز جماعت کے ساتھ ہوتی ہے۔ دشمن کی طرف سے حفاظت کا انتظام ضروری ہے۔ --- یہ نبی کریم ﷺ سے جنگ کے دوران ثابت ہے، خاص طور پر غزوہ ذات الرِّقاع میں۔ اگر آپ کو کسی خاص فقہ (حنفی، شافعی وغیرہ) کے مطابق تفصیل درکار ہو تو وہ بھی بتا دیں۔