У нас вы можете посмотреть бесплатно Nasir Abbas Nayyar I Naye Naqqad ke Naam Khutoot I 16th Letter I نئے نقاد کے نام خطوط (سولھواں خط) или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
سولھواں خط: اہم نکات 1۔قولِ محال کیاہے؟:ایک ایسامنظوم یا منثور بیان جس کے معنی کاادراک محال ہو۔معنی کا ادراک محال کب ہوتا ہے؟کئی بارتوہم اپنی غفلت کےسبب معنی کاادراک نہیں کر پاتے؛کئی دفعہ لاشعوری طورپر کہیں اورپھنسےہوتے ہیں؛اور کئی دفعہ کچھ صورتوں میں معنی کوقصداً اوجھل رکھاجاتاہے۔لیکن ایک صورت ان کے علاوہ بھی ہوتی ہے؛جس میں پیرایۂبیان بالکل سادہ اور ہرلفظ کے معنی معلوم ہوتے ہیں،مگرپورے بیان کے معنی آسانی سے ہاتھ نہیں آتے۔ایسا تب ہوتا ہے جب ایک ہی وقت میں دو باتیں کہی جائیں اور پہلی نظر میں دونوں ایک دوسرے کی تردید کریں اور بہ نظرِ غائردیکھیں تو تردید نہ کرتی ہوں،بلکہ تردید کےپردے میں کوئی گہری بات کرتی ہوں۔اسی تردید میں کوئی گہرامعنی مضمر ہو،یہ بات آسانی سے سمجھ نہیں آتی۔یہی قولِ محال ہوتا ہے۔ 2۔قولِ محال کی مثالیں:میں یہ جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا(سقراط)۔لوگ سورہے ہیں،جب مریں گےتوبیدارہوجائیں گے(حضرت علیؑ)۔ 3۔قولِ محال کو سمجھنےمیں دشواری اس لیے ہوتی ہے کہ ہم عام،سادہ اور سیدھی باتوں کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں اور مشکل بات سمجھنے کے لیے کوشش کرنانہیں چاہتے۔ 4۔قولِ محال میں زندگی کی کڑی حقیقتوں کے ڈنک موجود ہوتے ہیں اور ایسا ادب پڑھتے ہوئے،یہ ڈنک لگتے بھی ہیں۔ادب لکھنااور اس کا گہرا مطالعہ کرنا ذہن کو سلانے کا عمل نہیں بلکہ اسے بیدارکرنے اور زندگی کی سچائیوں کو روبرولانےکا عمل ہے۔ 5۔ہم جس دنیا میں جیتے ہیں،وہ ہمیں اپنی پیچیدگی،اپنےبھیانک پن اور تاریکی کو نظرانداز کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔لوگ اس ترغیب میں آجاتے ہیں،مگر سوچنے والے ذہن اور بڑے فنکاراس ترغیب کا شکار نہیں ہوتے۔ 6۔قولِ محال،زبان پر سچائی کے دباؤکے نتیجےمیں وجود میں آتاہے۔یہی زبان،جیسے ہی کسی خم دار،ٹیڑھی سچائی سے دوچار ہوتی ہے،اس پرشدید دباؤ پڑتا ہے۔زبان پچک جاتی ہے اور یہ اپنے مانوس پیرائے بھول جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ قولِ محال،روزمرہ کاپیرایۂ بیان نہیں ہے۔ 7۔ہمارےیہاں غالبؔ اورلاطینی امریکامیں بورخیسؔ( Jorge Luis Borges) قولِ محال کا بادشاہ ہے۔دونوں اس لیے بھی عظیم ہیں کہ وہ ہم جیسوں کی فراموشی کی عادت کا خاتمہ کرتے ہیں۔وہ چیزوں کو ان کی اصل کے ساتھ پیش کرنے کےخطرےکاسامنا کرتے ہیں۔اسی لیے دونوں مشکل ہیں۔تم تنقید کوپورے اخلاص اور ولولے کے ساتھ اختیار کرنےکاارادہ رکھتے ہوتومیرامشورہ ہے دونوں کوضرور پڑ ھو۔ ناصر عباس نیر مشمولہ؛ نئے نقاد کے نام خطوط #Tanqeed #UrduTanqeed #LiteraryCriticism #UrduLiterature #Adeb #Fikr #Nazriya #TheoryAndCriticism #Critique #UrduAdab #AdabiTanqeed #TakhleeqAurTanqeed #LiteraryTheory #FikriTanqeed #NazariTanqeed #PhilosophyAndLiterature #AqliTanqeed #AdabiTajziya #PostmodernCriticism #Structuralism #Poststructuralism #ReaderResponse #Deconstruction #CriticalThinking #AcademicDiscourse #ResearchAndCriticism #LiteraryDebate #PhilosophicalCritique #UrduAcademia #AdabKaTajziya #criticaltheory#احمد_سلیم #philosophy #InnerConflict #UrduLiterature #اردوکیپشن