У нас вы можете посмотреть бесплатно Poshto bayan/Molana Idrees Sab/Islamic videos/Islamic stories/غزوۂ تبوک — صبر و ایمان کی عظیم داستان или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
غزوۂ تبوک اسلامی تاریخ کا ایک نہایت اہم اور ایمان افروز واقعہ ہے جو 9 ہجری میں پیش آیا۔ یہ وہ وقت تھا جب اسلامی ریاست مدینہ میں مضبوط ہو چکی تھی، مگر بیرونی طاقتیں اسلام کی بڑھتی ہوئی قوت سے خائف تھیں۔ اطلاعات ملیں کہ رومی سلطنت کا بادشاہ ہرقل عرب کے شمالی علاقوں میں لشکر جمع کر رہا ہے اور مدینہ پر حملے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس خبر نے مسلمانوں کو چوکس کر دیا۔ رسولِ اکرم ﷺ نے اس ممکنہ خطرے کے پیش نظر صحابۂ کرامؓ کو تیاری کا حکم دیا۔ اس موقع پر حالات انتہائی دشوار تھے۔ سخت گرمی کا موسم تھا، طویل اور صحرائی سفر درپیش تھا، مالی تنگی عام تھی اور کھجوروں کی فصل تیار کھڑی تھی جسے چھوڑنا لوگوں کے لیے آسان نہ تھا۔ انہی سخت حالات کی وجہ سے اس لشکر کو “جیشُ العُسرہ” یعنی تنگی اور مشقت کا لشکر کہا جاتا ہے۔ لیکن جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی پکار آئی تو مخلص صحابہؓ نے دنیاوی مفادات کو پسِ پشت ڈال دیا۔ انہوں نے اپنی جان و مال کی ایسی مثالیں پیش کیں جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔ عثمان بن عفانؓ نے بڑی مقدار میں مال، سینکڑوں اونٹ اور گھوڑے پیش کیے۔ روایت ہے کہ انہوں نے اس قدر عطیات دیے کہ رسول اللہ ﷺ نے خوش ہو کر فرمایا کہ آج کے بعد عثمانؓ کو کوئی عمل نقصان نہیں دے گا۔ ابوبکر صدیقؓ اپنا سارا گھر کا مال لے آئے۔ جب آپ ﷺ نے پوچھا کہ گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟ تو عرض کیا: “اللہ اور اس کا رسول کافی ہیں۔” اسی طرح عمر فاروقؓ نے اپنا آدھا مال پیش کیا، یہ سوچ کر کہ شاید آج وہ ابو بکرؓ سے سبقت لے جائیں، مگر اخلاص کی دوڑ میں پھر بھی ابو بکرؓ آگے رہے۔ تقریباً تیس ہزار صحابہؓ کا عظیم لشکر مدینہ سے روانہ ہوا۔ یہ اسلامی تاریخ کے بڑے لشکروں میں شمار ہوتا ہے۔ سفر نہایت دشوار تھا؛ پانی کی قلت، گرمی کی شدت اور وسائل کی کمی نے مجاہدین کو آزمائش میں ڈال رکھا تھا۔ کئی صحابہؓ کے پاس سواری نہ تھی اور وہ باری باری اونٹوں پر سوار ہوتے یا پیدل چلتے۔ اس موقع پر ایمان کی سچائی اور منافقت کا فرق بھی نمایاں ہو گیا۔ کچھ منافقین نے بہانے بنائے اور ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ جب مسلمان تبوک پہنچے تو معلوم ہوا کہ رومی لشکر مقابلے کے لیے آگے نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دیا تھا۔ اس طرح بغیر کسی بڑی جنگ کے مسلمانوں کو اخلاقی اور سیاسی فتح نصیب ہوئی۔ اردگرد کے قبائل نے مسلمانوں کی طاقت کو تسلیم کیا اور کئی علاقوں نے اسلامی ریاست سے معاہدے کیے۔ اس مہم کا ایک اہم پہلو تین مخلص صحابہؓ کا واقعہ بھی ہے جو بغیر کسی عذر کے پیچھے رہ گئے تھے۔ انہوں نے سچائی کا راستہ اختیار کیا اور اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔ کچھ عرصہ سماجی بائیکاٹ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ سچائی اور اخلاص آخرکار کامیابی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ غزوۂ تبوک ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ایمان صرف زبانی دعویٰ نہیں بلکہ عملی قربانی کا تقاضا کرتا ہے۔ مشکل حالات میں صبر، قیادت پر اعتماد، اللہ پر کامل توکل اور دین کے لیے ایثار ہی اصل کامیابی ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ جب مسلمان متحد ہوں اور اخلاص کے ساتھ اللہ کی رضا کے لیے کھڑے ہوں تو بڑی سے بڑی طاقت بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ #غزوۂ_تبوک #جیش_العسرہ #اسلامی_تاریخ ⚔️ The Expedition of Tabuk — A Powerful and Faith-Inspiring Event The Expedition of Tabuk is one of the most significant and faith-inspiring events in Islamic history. It took place in the 9th year after Hijrah (9 AH). At that time, the Islamic state in Madinah had become strong and well-established, but external powers were alarmed by the growing influence of Islam. Reports were received that the Byzantine emperor Heraclius was gathering forces in the northern regions of Arabia and intended to attack Madinah. This news put the Muslims on high alert. The Messenger of Allah ﷺ, in response to this potential threat, instructed the Companions to prepare for the expedition. The circumstances were extremely difficult. It was the peak of summer, the journey ahead was long and through harsh desert terrain, financial hardship was widespread, and the date harvest was ready — something people were reluctant to leave behind. Because of these severe conditions, this army became known as “Jaysh al-‘Usrah” (the Army of Hardship). However, when the call of Allah and His Messenger ﷺ was made, the sincere Companions set aside worldly interests. They presented remarkable examples of sacrifice that will be remembered forever. Uthman ibn Affan (RA) donated a large amount of wealth, including hundreds of camels and horses. It is reported that he gave so generously that the Prophet ﷺ expressed great happiness and said that nothing would harm Uthman after what he had done that day. The Expedition of Tabuk conveys a powerful message: faith is not merely a verbal claim but requires practical sacrifice. In times of hardship, patience, trust in leadership, reliance upon Allah, and selflessness for the sake of religion are the keys to success. This event stands as clear proof that when believers remain united and sincere for the pleasure of Allah, even the greatest powers cannot harm them. #ExpeditionOfTabuk #JayshAlUsrah #IslamicHistory