У нас вы можете посмотреть бесплатно سرُ سنگیت کی دُنیا کے دو بُھولے بِسرے سُریلے گلوکار - سجاد رسول اور سلیم گردیزی или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
یوں تو دنیائے موسیقی میں ایک سے بڑھ کر ایک عہد ساز گلو کار نے اپنی آواز سے شائقینِ موسیقی کو محظوظ کیا مگر کچھ نام ایسے بھی ہیں جنھیں آج کے دور میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ عہدِ ماضی کے اُن با صلاحیت گلوکاروں میں سلیم گردیزی اور سجاد رسول بھی شامل ہیں۔ اُن کے غیر معروف رہنے کی ممکنہ وجوہات یہ ہیں کہ جس دور میں اُنھوں نے گانے کی ابتدا کی وہ در اصل فنِ موسیقی کے عُروج کا دور تھا۔ فلم، ریڈیو، ٹیلی وژن اور محافل غرضیکہ ہر سطح پر اپنے فن کے اساتذہ کا طوطی بولتا تھا۔ لہٰذا اُن اساتذہ کی اختیار کردہ اصناف کو تقریباً جن گلوکاروں نے اپنایا اور اپنا الگ فکری اُسلوب تخلیق نہ کر سکے، تمام تر خوبیوں کے باوجود وہ آہستہ آہستہ گمنامی کے مراحل میں داخل ہو گئے۔ اس گمنامی کی ایک اور بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ پسِ پردہ گلوکاری سے وابستہ نہ تھے کیونکہ اکثر ایسا دیکھا گیا کہ ریڈیو، ٹیلی وژن پر لا تعداد آئیٹم ریکارڈ کرانے والے گلوکاروں کو خصوصاً وہ پزیرائی نہیں ملی جو کہ فلم کے چند نغمات گانے کی وجہ سے نصیب ہوئی اور انہی کی بدولت آج بھی ان کو ایک زمانہ جانتا ہے۔ ریڈیو اور ٹیلی وژن کی ریکارڈنگز چونکہ عام طور پر دستیاب نہیں ہوتیں اس لیے صرف اِن ذرائع ابلاغ سے وابستہ گلوکاروں کو (جو اِسی طبقے سے متعلق تھے) کما حقہ پذیرائی حاصل نہیں ہوئی اور اکثر گمنامی کی زندگی گزار کر رخصت ہو گئے۔ سجاد رسول اور سلیم گردیزی کا شمار خانصاحب مہدی حسن کے باقاعدہ شاگردوں میں ہوتا ہے۔ دونوں نے ہی مہدی صاحب کے فکری اسلوب کو اپنایا۔ موسیقی چونکہ محتاجِ زُباں نہیں، بہ ایں سبب اُنہوں نے جس زبان میں بھی گایا تو چاہے بول ، تان، مُرکھی، پھندہ، مینڈ، گمک الغرض ہر جگہ مہدی اَنگ اُن کی گائیکی سے بالکل عیاں ہے۔ سجاد رسول مہدی حسن صاحب سے پہلی بار اُس وقت ملے جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا تھا اور خانصاحب مہدی حسن شیدانی شریف کے روحانی خاندان کے فرد خواجہ تاج محمود کوریجہ عرف کالے میاں سائیں کے پاس بہ طور ملازم کے کام کرتے تھے اور ساتھ ساتھ ریاض بھی جاری تھا۔ اسی طرح وہ استاد نہال عبداللہ اور پنڈت غلام قادر خانصاحب کے بہت قریب رہے۔ وہ ایک اچھے موسیقار بھی ہیں جن کی مرتب کردہ بے شمار دھنیں اُن کے علاوہ ثریا ملتانیکر، نسیم اختر، سلیم گردیزی وغیرہ نے گائیں۔ ریڈیو پاکستان ملتان کی شناخت سمجھی جانے والی قابلِ ذکر دھنیں جیساکہ " بھلا مستانہ" " پَتنڑوں جیویں پار پُجا " ، "سرِ تسلیم خم" "وا جھلارا بوچھنڑ دا" "ماکھی توں مٹھڑا" وغیرہ اُنھوں نے مرتب کیں۔ ایڈمن پیشکش: سُر سہانے بہ شکریہ: ریڈیو پاکستان و پی-ٹی-وی