У нас вы можете посмотреть бесплатно ڈاکٹر وزیر آغا کی تنقید نگاری کا جائزہ или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
ڈاکٹر وزیر آغا کی تنقید نگاری کا جائزہ ڈاکٹر وزیر آغا نے جب اپنی ادبی زندگی کا آغا ز کیا اس وقت ترقی پسند تحریک اپنے عروج پر تھی۔ ایک نو وارد ادیب کی حیثیت سے وہ اس تحریک کے مثبت پہلوو¿ں سے متاثر بھی ہوئے اور وہ اثرات ان کی ابتدائی نگارشات میں نظر بھی آتے ہیں۔ مثلاً ان کی پہلی نظم ’دھرتی کی آواز‘ اور نظم ’ننھے مزدور‘ میں طبقاتی امتیاز اور کشمکش کو ظاہر کیا گیاہے، اسی طرح ان کی پہلی کتاب ’مسرت کی تلاش‘ میں بھی ایسے خیالات کا اظہار کیا گیا:’دولت کی ناروا تقسیم نے انسان کو طبقوں اور گروہوں میں تقسیم کرکے اوریوں جنگ، قحط، بادشاہت اور سرمایہ داری کو معرض وجود میں لاکر فرد اور سماج کو ایک ایسی غلط روش پر گامزن کردیا ہے کہ آج انسان اس کے خلاف پورے عزم اور شد ت کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔‘ لیکن ترقی پسند تحریک زندگی کی ایک قاش کا صرف ایک ہی رخ دیکھنے پر مُصر تھی جبکہ وزیر آغا پوری زندگی کے بھید کو سمجھنے کی جستجو میں تھے۔ اس لئے ان کے لئے محض خارجی عوامل کی بنیادوں پر لکھتے چلے جانا ممکن نہ تھا اور وہ پوری زندگی کے اسرار کو سمجھنے کی دھن میں مگن ہوگئے۔ ان کی تخلیقات کی طرح ان کی تنقید بھی اسی جستجو سے عبارت ہے۔وزیر آغا شروع میں نصیر آغا کے قلمی نام سے ’ادبی دنیا‘ میں مضامین لکھتے رہے۔ ’محبت کا تدریجی ارتقا‘ ان کا پہلا مضمون تھا جو ان کے نام کے ساتھ شائع ہوا۔ 1954 میں ان کی پہلی کتاب ’مسرت کی تلاش‘ شائع ہوئی۔ اس کتاب کے ساتھ وزیر آغا کے ہاں دو فکری تجسس نمایاں ہوئے۔ ایک زندگی کو اس کی ’کلیت‘ (TOTALITY) میں دیکھنے کی خواہش دوسرا مسرت کی ماہیت کی تلاش اور جستجو۔یہی دو تجسس آگے چل کر پھیلاو¿ کی صورت اختیار کر گئے۔مسرت کی ماہیت کی تلاش میں انہوں نے ’اردو ادب میںطنز و مزاح‘ لکھی۔ اس کتاب کو لکھتے وقت وزیر آغا انسان کے دو طبعی رجحانات سے آشنا ہوئے۔ ایک تشدد اور دفاع کا اور دوسرا پھیلاو¿ اور آفاقیت کا۔ آرتھر کوئسلر کے خیال میں ہنسی اور طنز پہلے رجحان کے نتیجہ میں ظاہر ہوتے ہیں جب کہ ’المیہ‘ دوسرے رجحان میں سامنے آتاہے۔ یہ در اصل ’عام طنز و مزاح‘ اور ’تخلیقی فن پارے‘ کا بنیادی فرق ہے۔ وزیر آغا نے ’عام طنز و مزاح‘ سے ہٹ کر انشائیہ نگاری شروع کی اور نمائش دنداں کے مقابلے میں زیر لب تبسم اور داخلی شگفتگی و تازگی پر زور دیا تاکہ جذبے کا اخراج نہ ہو بلکہ مسرت ہماری رگ و پے میں سرایت کر جائے۔ تخلیقی سطح پر اب گویا مسرت کی ماہیت کی تلاش اور پوری زندگی کی جستجو کے سفر ایک ہوگئے تھے۔ ’نظم جدید کی کروٹیں‘ کے مضامین میں ڈاکٹر وزیر آغا نے مختلف شعرا کی اصل بنیادیں دریافت کیں۔ فیض کے بارے میں وزیر آغا کا مضمون ’انجماد کی ایک مثال‘ خاصا ہنگامہ خیز ثابت ہوا اور ترقی پسندوں کی طرف سے نظریاتی بنیادوں پر (ادبی بنیادوں پر نہیں) اس کی مخالفت کی گئی۔ تاہم اس کتاب کا سب سے اہم اور سب سے زیادہ مشہور ہونے والا مضمون میرا جی کے بارے میں تھا۔ ’دھرتی پوجا کی ایک مثال۔ میراجی۔۔ ‘اس مضمون کو سنجیدہ ادبی حلقوںنے سراہا جبکہ مخالفین نے وزیر آغا کی اصطلاح ’دھرتی پوجا‘ کو بطور الزام وزیر آغا کے ماتھے پر سجادیا۔ انہیںدھرتی پوجا کی تبلیغ کا مجرم قرار دیا گیا۔)( لاہور میں 5 سیٹوں پرضمنی انتخاب، لیگی امیدواروں کیلئے جوڑ توڑ قطع نظر اس سے کہ مخالفین کے الزام کا تجزیہ کیا جائے تو وزیر آغا ’ارض وطن‘ سے محبت کے مجرم ہی قرار پاتے ہیں، اس مضمون کی اصل اہمیت یہ تھی کہ وزیر آغا کا فکری سفر صاف آگے کو بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ ابھی تک ان کاادبی تصور یہ تھا کہ جس طرح مجسمہ ساز پتھر سے مجسمہ نہیں تراشتابلکہ پتھر سے فاضل مواد کو ہٹاکر اس میں موجود تخلیق کوآشکار کرتاہے۔ اسی طرح ادیب بھی دو چیزوں کے بُعد میں نیا ربط تلاش کرتاہے۔ یہ زندگی میں کلیت دیکھنے کی ہی ایک صورت ©تھی، لیکن میراجی کے بارہ میں اپنے مضمون میں وزیر آغا نے ثنویت کے انوکھے تصور سے آگاہی حاصل کی۔ اسٹیٹ بینک نے پلاسٹک نوٹ جاری کرنے کی خبر جھوٹ قرار دے دی ایک حدیث قدسی ہے! ”میں ایک مخفی خزانہ تھا سو میں نے چاہا کہ میں جانا جاو¿ں“ نور کے مقابلے میں اگر تاریکی نہ ہو تو نور کی پہچان ممکن نہیں۔ یزداں اور اہر من، ین اور یانگ، پرش اور پرکرتی، آدم اور حوا —— ان سب کے باہمی ربط اور اختلاف سے زندگی کی ایک نئی صورت ابھری۔ ثنویت کا یہ تصور وزیر آغا کی شہرہ آفاق تصنیف ’اردو شاعری کا مزاج‘ میں زیادہ وضاحت کے ساتھ سامنے آیا، گویا کائنات میں یکسریکتائی کا عالم نہیں بلکہ ہر پارٹیکل کا اینٹی پارٹیکل موجود ہے اور دونوں کی بقا کا انحصار ایک دوسرے کے وجود پر ہے۔ ’اردو شاعری کا مزاج‘ کا بنیادی نظریہ ہیگل کی جدلیات،THESIS‘اور ANTITHESIS کے تصادم اور ملاپ سے SYNTHESIS کے وجود میں آنے کے نظرےے پر قائم تھا۔ مارکس نے معاشی، سماجی اور سیاسی حوالے سے اسے اپنایا مگر وزیر آغا نے اسے ادبی اور ثقافتی تناظر میں منطبق کیا۔ ہیگل نے ثنویت کے دونوں پہلوو¿ں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔دونوں کو ایک دوسرے کا حریف قرار دینے کی بجائے ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم کا درجہ دیا ۔ یہ بہت بڑی حقیقت تھی مگر اس سے