У нас вы можете посмотреть бесплатно Shrine Hazrat Manghoo pir R.a Karachi или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
دربار حضرت منگو پیر: مگرمچھوں، چشموں اور صدیوں کی تاریخ دربار حضرت پیر منگھو (اصل نام حاجی سید شیخ سلطان) کراچی کے قدیم ترین اور مشہور ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ دربار نہ صرف صوفی بزرگ کے مزار کے طور پر پہچانا جاتا ہے بلکہ مگرمچھوں کے ایک بڑے تالاب اور شفا بخش گندھک کے گرم چشموں کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ یہ کراچی کے شمال میں، گڈاپ ٹاؤن میں واقع ہے۔ حضرت پیر منگھو کا تعارف 13ویں صدی کے صوفی بزرگ: حضرت پیر منگھو 13ویں صدی کے ایک صوفی بزرگ تھے۔ وہ بابا فرید گنج شکر کے خلیفہ بنے اور ان کی ہدایت پر تبلیغ کے لیے ملتان اور پھر منگوپیر میں آ کر آباد ہوئے۔ عربی نسل: کچھ روایات کے مطابق، وہ حضرت علی کی نسل سے تھے۔ کرامات: کہا جاتا ہے کہ حضرت پیر منگھو کی کرامات کی وجہ سے یہ مقام لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا۔ سیدھی کمیونٹی کے سرپرست: منگوپیر کو خاص طور پر کراچی کی سیدھی کمیونٹی کا سرپرست سمجھا جاتا ہے، جن کے آباء و اجداد کا تعلق افریقہ سے تھا۔ دربار کی اہم خصوصیات مگرمچھوں کا تالاب: دربار کی سب سے منفرد خصوصیت ایک تالاب میں رہنے والے سینکڑوں مگرمچھ ہیں۔ عقیدت مند ان مگرمچھوں کو پیر منگھو کے مرید سمجھتے ہیں اور ان کی نذرونیاز کے لیے تازہ گوشت پیش کرتے ہیں۔ شفا بخش گرم چشمے: دربار کے قریب موجود گرم چشموں سے نکلنے والے پانی میں گندھک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جسے جلد کی بیماریوں کے علاج کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ سالانہ عرس اور میلہ: حضرت پیر منگھو کا عرس ہر سال اسلامی مہینے ذی الحجہ میں منعقد ہوتا ہے۔ سیدھی کمیونٹی اس موقع پر "سیدھی میلہ" کا بھی اہتمام کرتی ہے، جس میں روایتی رقص اور رسم و رواج دیکھنے کو ملتے ہیں۔ تاریخی تناظر قدیم آثار: ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے منگوپیر کے مقام پر کانسی کے زمانے (2500-1700 قبل مسیح) کی بستی کے آثار دریافت کیے ہیں، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہاں مگرمچھوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ برطانوی دور کے ریکارڈ: 19ویں صدی کے برطانوی نوآبادیاتی مصنفین نے بھی اس دربار اور یہاں موجود مگرمچھوں کے بارے میں لکھا ہے۔