У нас вы можете посмотреть бесплатно Eik Salam say Namaz Khatam Karna B Sunnat Hai (By Moulana Ishaq & Engineer Muhammad Ali Mirza) или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
EIK TARAF SALAM SAY NAMAZ KHATAM KARNA Sunnan e Ibn e Maja Hadees No 919 ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہﷺ اپنے سامنے کی جانب ایک سلام پھیرتے تھے. قال الشيخ الألباني : صحيح قال الشيخ زبیر علی زئی : ضعيف Jam e Tirmazi Hadees No 296 ام المؤمنین عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول ﷺ نماز میں اپنے چہرے کے سامنے داہنی طرف تھوڑا سا مائل ہو کر ایک سلام پھیرتے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح قال الشيخ زبیر علی زئی : ضعيف وضاحت : شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے کسی نے سوال کیا کہ میں نے ایک شخص کے پیچھے نماز پڑھی ، اس نے صرف دائیں جانب سلام پھیرا، کیا ایک سلام پر اکتفا کرنا جائز ہے اور کیا یہ سنت میں وارد ہے؟ تو شیخ نے جواب دیا کہ جمہور اہل علم ایک سلام کو کافی سمجھتے ہیں اس لئے کہ بعض احادیث ایسی وارد ہیں جو اس پر دلالت کرتی ہیں اور بہت سے اہل علم اس جانب گئے ہیں کہ دونوں طرف سلام پھیرنا ضروری ہے کیونکہ نبی ﷺ سے ایسا ہی ثبوت ملتا ہے ۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے : صلوا كما رأيتموني أصلي رواه البخاري في صحيحه ۔ ترجمہ: تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو۔ اسے بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے (صحیح بخاری حدیث نمبر 631)۔ یہی قول درست ہے۔ اور ایک طرف سلام پھیرنے کو کافی کہنا ضعیف ہے کیونکہ اس بابت وارد احادیث یا تو ضعیف ہیں یا غیر صریح ہیں ۔ اگر صحیح بھی مان لیں تو شاذ ہوگی اس لئے کہ یہ زیادہ صحیح ، زیادہ ثابت اور زیادہ صریح کے مخالف ہوگی ، البتہ جو جہالت یا احادیث کی صحت کا اعتقاد رکھتے ہوئے ایسا کر لے تو اس کی نماز درست ہے۔ (مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ابن باز 11/166) اور شیخ ابن عثیمین نے کہا کہ اگر ایک سلام پر اکتفا کیا جائے تو کیا کفایت کرے گا؟ شیخ کا جواب یہ ہے علماء کے درمیان اس میں اختلاف ہے ، بعض نے کہا کفایت کرے گا اور بعض نے کہا کہ کفایت نہیں کرے گا اور بعض نے کہا کہ نفل میں کفایت کرے گا مگر فرض نماز میں کفایت نہیں کرے گا۔ یہ تین اقوال ہیں اور احتیاط اسی میں ہے کہ دونوں طرف سلام پھیرا جائے اس لئے کہ اگر دونوں طرف سلام پھیرا جائے تو کوئی نہیں کہے گا کہ تمہاری نماز باطل ہے اور اگر ایک طرف سلام کرے تو بعض اہل علم کہیں گے کہ تمہاری نماز باطل ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ نبی ﷺ نے اس امر میں احتیاط کرنے کا حکم دیا جس میں دلیل واضح نہ ہو۔ (جامع ترمذی حدیث نمبر ۲۵۱۸). خلاصہ یہ ہوا کہ نماز میں دونوں طرف سلام پھیرا جائے گا اور اگر ایک طرف سلام پھیرنا کفایت نہیں کرے گا۔ لوگوں میں ایک غلط فہمی یہ ہے کہ بائیں جانب شیطان ہوتا ہے اس لئے صرف دائیں جانب ہی سلام کیا جائے ، یہ قول مردود و باطل ہے۔ Sunnan e Nisai Hadees No 598 See from Islam360 قال الشيخ الألباني : حسن قال الشيخ زبیر علی زئی : ضعيف DO TARAF SALAM SAY NAMAZ KHATAM KARNA Sunnan Abu Dawood Hadees No 618 علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ”نماز کی کنجی وضو ہے، اس کی تحریم «الله اكبر» کہنا اور اس کی تحلیل «السلام علیکم» کہنا ہے“۔ وضاحت : نماز کی ابتداء لفظ «اللہ اکبر» سے ہے اور اس سے نکلنے کے لیے «السلام علیکم ورحمة اللہ» مشروع ہے نہ کہ کوئی اور کلمات یا اعمال، پس سلام ہی کے ذریعہ آدمی کی نماز پوری ہو گی نہ کہ کسی اور چیز سے۔ ایک اہم غلطی یہ ہے کہ اگر کبھی کسی وجہ سے نماز توڑنی پڑ جائے تو تب بھی نمازی کو چاہیے کہ وہ سلام پھیر کر ہی نماز سے باہر آئے نہ کہ بغیر سلام پھیرے چل دیے۔ Jam e Tirmazi Hadees No 3 Sunnan e Ibn e Maja Hadees No 275 علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ”نماز کی کنجی وضو ہے، اور اس کا تحریمہ صرف «اللہ اکبر» کہنا ہے اور نماز میں جو چیزیں حرام تھیں وہ «السلام علیکم ورحمة اللہ» کہنے ہی سے حلال ہوتی ہیں“ وضاحت : تکبیر اولیٰ کہنے کے بعد وہ سارے کام حرام ہو جاتے ہیں، جسے اللہ تعالیٰ نے نماز میں حرام قرار دیا ہے، اور سلام پھیرنے کے بعد وہ سارے کام جائز ہو جاتے ہیں جو نماز میں ناجائز ہو گئے تھے Sahih Muslim Hadees No 1315 سعد بن ابی وقاص ؓ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہﷺ کو اپنی دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے دیکھا کرتا تھاٰ حتی کہ میں آپ کے رخساروں کی سفیدی دیکھتا تھا۔ Jam e Tirmazi Hadees No 295 Sunnan e Nisai Hadees No 1323 Sunnan e Ibn e Maja Hadees No 914 Sunnan Abu Dawood Hadees No 996 عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنے دائیں اور بائیں السلام عليكم ورحمة الله، السلام عليكم ورحمة الله کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کی گال کی سفیدی دکھائی دیتی۔ وضاحت : ایک اہم غلطی یہ ہے کہ عموما برصغیر پاک و ہند میں مقتدی حضرات امام کے ساتھ ہی سلام پھیرنے لگ جاتے ہیں یعنی جیسے ہی امام سلام پھیرنا شروع کرتا ہے مقتدی بھی شروع کر دیتے ہیں جبکہ مقتدی کو امام کی متابعت کا حکم ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ امام کے پیچھے پیچھے چلے ، امام کے ساتھ ساتھ یا آگے آگے نہیں ۔ بعض لوگ اس عجلت میں سلام پھیرتے ہیں کہ امام کا دوسرا سلام مکمل بھی نہیں ہوتا کہ مقتدی کا دوسرا سلام ختم ہوچکا ہوتا ہے۔ سنت یہ ہےکہ جب امام سلام پھیر لے تب مقتدی سلام پھیرے۔