У нас вы можете посмотреть бесплатно حدیث اور ما انزل اللہ علی نبیہ или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
حدیث، علوم حدیث اور ھماری معروضات؛ حدیث اور متعلقات حدیث کے علوم کے حوالے سے ایک بار پھر اپنی معروضات ھم دہرا رھے ھیں۔ یہ ضرورت اس لیے پیش آ رھی ھے تاکہ حدیث اور متعلقات حدیث کے علوم پر روایتی سوالات و اعتراضات اور ان کے روایتی جوابات سے ھمارے موقف کو الگ رکھا جائے اور سمجھا جائے۔ حدیث پر ھمیں یہ اعتراض نہیں ھے کہ وہ لفظی روایت نہیں ھے یا معنوی نہیں ھے، خبر واحد ھے یا خبر متواتر و مشہور ھے۔ اسی طرح ھمیں راوی کے صادق و امین ھونے، نہ ھونے کا کھوج درپیش نہیں ھے۔ ھمیں یہ مسئلہ بھی نہیں ھے کہ "متن حدیث" کا انتساب نبی علیہ السلام کی طرف درست ھے یا نہیں ھے۔ الغرض "سند حدیث" اور "متن حدیث" پر کیے جانے والے روایتی اعتراض، سوالات اور ان جوابات سے ھمارا لینا دینا کچھ نہیں ھے۔ جلیل القدر علماء اس موضوع پر زیادہ بہتر کام کر چکے ھیں، ان کے کام پر ھمیں اعتماد ھے اور اعتراض نہیں ھے۔ ھم اھل ایمان کو بالکل مختلف سمت متوجہ کر رھے ھیں، یہ سمت حدیث اور متعلقات حدیث کے مروجہ علوم میں پہلے کبھی موضوع بحث نہیں بنی۔ "حدیث" کا لفظ مسلمانوں کے مذھبی علوم میں بطور اصطلاح فقط راوی کے اس قول کے لیے استعمال ھوا ھے جس میں رسول اللہ کی طرف کسی قول و عمل کو منسوب کیا گیا ھے۔ متعین و مشخص راوی، "حدیث" کے لیے اتنا ھی ضروری ھے جتنا رسول اللہ کی طرف منسوب قول و عمل ضروری ھے۔ متعین و مشخص راوی کے بغیر جس طرح حدیث کوئی شے نہیں اسی طرح رسول اللہ کی طرف منسوب قول و عمل کے بغیر حدیث کا کوئی شے نہیں۔ گویا "حدیث" متعین و مشخص راوی کا وہ قول ھے جس میں رسول اللہ کی جانب کسی قول و عمل کو منسوب کیا گیا ھو۔ جس طرح قرآن پاک نبی علیہ السلام کے اس قول مبارک کا نام جسے آپ علیہ السلام نے فرمایا ھے کہ یہ قرآن ھے یا یہ "کلام اللہ" ھے۔ جسے آپ علیہ السلام نہ فرمائیں وہ قرآن نہیں ھے۔ جس طرح قرآن پاک کی وجودی شرائط دو ھیں؛ ایک یہ کہ آپ علیہ السلام کی زبان مقدس سے نکلا ھو اور دوسرا یہ کہ آپ فرمائیں کہ یہ قرآن ھے۔ بالکل اسی طرح حدیث کی وجودی شرائط دو ھیں؛ ایک یہ متعین و مشخص راوی کا قول ھو اور دوسرا وہ راوی کسی قول و عمل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرے کہ آپ علیہ السلام نے یہ کہا ھے اور یہ کیا ھے۔ حدیث کے وجودی شرائط میں غیرنبی (راوی) ناگزیر ھے۔ راوی کے بغیر حدیث کا کوئی وجود نہیں۔ ھم اھل ایمان کو اس جانب متوجہ کر رھے ھیں کہ غیرنبی نبوت اور محتویات نبوت کا ناگزیر نہیں ھوتا۔ یہ وہ بات جو ہر "صاحب ایمان" کے ایمان میں بدیہات کا درجہ رکھتی ھے۔