У нас вы можете посмотреть бесплатно مسلمہ کی بقاء کے لیے دینی مدارس کی اہمیت کیا ہے؟ Importance of Deen Madris или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
مسلمہ کی بقاء کے لیے دینی مدارس کی اہمیت کیا ہے؟ Importance of Deen Madris دینی مدارس ہماری اسلامی تاریخ، تہذیب اور شناخت کے تحفظ کا ایک مضبوط قلعہ ہیں۔ ان کا وجود معاشرے کے لیے اسی طرح ضروری ہے جیسے زمین کی زرخیزی فصلوں کے لیے۔ آج کل مختلف تحریکوں اور تنظیموں کے نمائندے مدارس کی اہمیت کو محدود یا غیر ضروری قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ مغربی تعلیم کے زیرِ اثر مدارس کے نظام اور نصاب کو فرسودہ اور غیر نفع بخش سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مدارس ہماری اسلامی تعلیمات کے حقیقی وارث اور اسلامی اقدار کے محافظ ہیں۔ یہ مدارس قرآن و حدیث کی گہرائیوں تک رسائی، دینی علوم میں مہارت اور اسلامی شعور کی بیداری کے مراکز ہیں۔ آزادیِ ہند کے بعد سے، اسلامی اصلاحی تحریکوں کی بنیاد انہی مدارس کے فارغ التحصیل علماء کے ہاتھوں رکھی گئی۔ آج بھی یہ مدارس دینی و اخلاقی تعلیمات کو زندہ رکھنے اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے کام کر رہے ہیں۔ مدارس کے نصاب پر اعتراضات اور حقیقت کچھ لوگ مدارس کے نصاب میں مکمل تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ نصاب ہماری 800 سالہ علمی و تعلیمی تاریخ کا نچوڑ ہے۔ یہ نصاب مختلف ادوار میں ضروری تبدیلیوں سے گزرتا رہا ہے اور آج بھی علماء وقت کے تقاضوں کے مطابق اس میں جزوی تبدیلیاں کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، جدید ضروریات کے تحت انگریزی زبان کی تعلیم بھی شامل کی گئی ہے۔ یہ نصاب وہی ہے جس نے بڑے بڑے علماء اور مصلحین پیدا کیے ہیں اور آج بھی طلبہ کو دین کے اصولوں پر مضبوطی سے قائم رکھتا ہے۔ امتِ اسلامیہ پر مدارس کا احسانِ عظیم دینی مدارس امت مسلمہ کے ایمان و عقیدے کی حفاظت اور اسلامی شعائر کے تحفظ کے لیے بے مثال کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگر آج ہماری مساجد آباد ہیں، اخلاقی اور روحانی اصلاح کی تحریکیں موجود ہیں، اور دین اسلام کے چراغ ہر طرف جل رہے ہیں تو یہ سب انہی مدارس کی بدولت ہے۔ یہ مدارس دین کی حفاظت کے ساتھ ساتھ غریب طبقوں کو مفت تعلیم فراہم کرکے ان کے معیار زندگی کو بلند کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ علامہ سید سلیمان ندویؒ نے فرمایا کہ دینی مدارس اسلام کی بنیاد اور مرکز ہیں، اور ان کا سنبھالنا امت مسلمہ کا سب سے بڑا فریضہ ہے۔ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے الفاظ میں، دینی مدارس مسلمانوں کے لیے سب سے بڑی نعمت ہیں اور اسلام کے بقاء کی ضمانت ہیں۔ مدارس کا معاشرتی کردار مدارس اسلامی معاشرے کی وہ نرسری ہیں جو دین کے ہر شعبے کو زندہ اور متحرک رکھنے کا کام انجام دیتی ہیں۔ یہ معاشرے کو ایسے علماء، اساتذہ، خطباء، مفتیان اور مصلحین فراہم کرتے ہیں جو دینی و دنیاوی دونوں مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔ یہ مدارس ایک کسان کی طرح ہیں جو اپنی تمام توانائیاں زمین کو زرخیز کرنے اور فصل تیار کرنے میں صرف کرتا ہے تاکہ انسانوں کی بھوک مٹائی جا سکے۔ اسی طرح مدارس اسلامی روحانی بھوک کو مٹانے اور معاشرتی اصلاح کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ نتیجہ دینی مدارس اسلام کے حقیقی محافظ ہیں اور ان کی ضرورت آج کے دور میں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ہمیں ان مدارس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ان کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ ہماری نسلیں بھی دین کی روشنی سے مستفید ہو سکیں۔ یہ مدارس ہمارے دین، ایمان اور اسلامی شناخت کی حفاظت کے ضامن ہیں۔ ہمیں ان کا احترام کرنا چاہیے اور ان کی بقاء کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ #DeeniMadaris #IslamicEducation #مدارس_کی_اہمیت #Islam #QuranAurHadith #IslamicIdentity #روحانی_ترقی #TehzeebAurSaqafat #MadarisKiAhmiyat #DarsENizami #IslamicTradition #MuslimUmmah #امت_مسلمہ #IslamiTaleem #IslamKaPaigham #MadarisAurMuasra #DeenAurTaleem #FaithAndKnowledge #روحانیت #IslamicHeritage #IslamicValues #IslamZindabad