У нас вы можете посмотреть бесплатно مسجد سقیا مدینہ منورہ کی ایک تاریخی مسجد или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
مسجد سقیا مدینہ منورہ کا ایک تاریخی مسجد ہے جس کا تعلق رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے ہے۔ اس مسجد کی تاریخ کے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں: 1. *تاسیس اور ابتدائی تاریخ* مسجد سقیا کی بنیاد رسول اللہ ﷺ کے دور میں رکھی گئی، جب آپ ﷺ غزوہ بدر کے لیے روانہ ہوئے۔ اس مقام پر آپ ﷺ نے اپنے لشکر کا جائزہ لیا، نماز پڑھی، اور اہل مدینہ کے لیے برکت کی دعا فرمائی . بعض روایات کے مطابق، یہ مسجد عمر بن عبدالعزیز کے دور میں تعمیر کی گئی، جس نے اسے رسول اللہ ﷺ کے نماز پڑھنے کی جگہ پر بنوایا . 2. *نام کی وجہ* اس مسجد کا نام "سقیا" (پانی پلانے کی جگہ) اس لیے رکھا گیا کیونکہ یہ چاہِ سقیا کے قریب واقع ہے، جہاں سے رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا اور پانی پیا . اسے "قبة الرئوس" (سروں کا گنبد) بھی کہا جاتا تھا، کیونکہ عثمانی دور میں یہاں مجرموں کے سروں کو رکھا جاتا تھا . 3. *تاریخی اہمیت* یہ مسجد رسول اللہ ﷺ کی دعا کی یادگار ہے، جس میں آپ ﷺ نے اہل مدینہ کے لیے ابراہیم علیہ السلام کی طرح برکت کی دعا فرمائی . غزوہ بدر سے پہلے، رسول اللہ ﷺ نے یہاں نوجوانوں کو واپس بھیجا اور صرف تجربہ کار مجاہدین کو ساتھ لے گئے . 4. *تعمیراتی تبدیلیاں* مسجد کو متعدد بار مرمت اور تعمیر نو کیا گیا، جس میں عثمانی دور کی تعمیرات اور 1380-1381 ہجری شمسی (2001-2002ء) میں سعودی حکومت کی طرف سے کی گئی تازہ کاریاں شامل ہیں . موجودہ مسجد تین گنبدوں والی ایک چھوٹی سی عمارت ہے، جس کا رقبہ تقریباً 56 مربع میٹر ہے . 5. *موجودہ مقام* یہ مسجد مدینہ کے علاقے عنبریہ میں، ریلوے اسٹیشن کے احاطے کے جنوب مشرقی حصے میں واقع ہے . کچھ مورخین کا خیال ہے کہ اصل مسجد تباہ ہو چکی ہے، جبکہ دوسروں کا ماننا ہے کہ موجودہ عمارت ہی تاریخی مسجد سقیا ہے . مسجد سقیا آج بھی زائرین کے لیے ایک اہم مقام ہے، جہاں وہ رسول اللہ ﷺ کی سنتوں اور دعاؤں کو یاد کرتے ہیں۔ مزید تفصیلات کے لیے آپ مذکورہ مصادر کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔