У нас вы можете посмотреть бесплатно Walida Marhooma Ki Yaad Mein - Dr. Allama Iqbal или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
Walida Marhooma Ki Yaad Mein (Bang-e-Dra-139) Jab Tere Daman Mein Palti Thi Woh Jaan-e-Natwan Baat Se Achi Tarah Mehram Na Thi Jis Ki Zuban Aur Ab Charche Hain Jis Ki Shoukhi-e-Guftar Ke Be-Baha Moti Hain Jis Ki Chashm-e-Gohar Baar Ke Ilm Ki Sanjeeda Guftari, Barhape Ka Shaur Dunyavi Izaz Ki Shoukat, Jawani Ka Gharoor Zindagi Ki Auj-Gahon Se Uter Ate Hain Hum Sohbat-e-Madir Mein Tifl-e-Sada Reh Jate Hain Hum Be Takaluf Khandazan Hain, Fikr Se Azad Hain Phir Ussi Khoye Huwe Firdous Mein Abad Hain Kis Ko Ab Ho Ga Watan Mein Aah! Mera Intizar Kon Mera Khat Na Ane Se Rahe Ga Be-Qarar Khak-e-Marqad Par Teri Le Kar Ye Faryad Aun Ga Ab Duaye Neem Shab Mein Kis Ko Main Yaad Aun Ga! Tarbiat Se Teri Main Anjum Ka Hum-Qismat Huwa Ghar Mere Ajdad Ka Sarmaya-e-Izzat Huwa Daftar-e-Hasti Mein Thi Zareen Waraq Teri Hayat Thi Sarapa Deen-o-Dunya Ka Sabaq Teri Hayat Umer Bhar Teri Mohabbat Meri Khidmat Rahi Main Teri Khidmat Ke Qabil Jab Huwa Tu Chal Basi (Bang-e-Dra-139) Walida Marhooma Ki Yaad Mein والدہ مرحومہ کی یاد میں جب ترے دامن میں پلتی تھی وہ جانِ ناتواں بات سے اچھی طرح محرم نہ تھی جس کی زباں معانی: جانِ ناتواں : کمزور، نومولود جان ۔ محرم: واقف، جاننے والی ۔ مطلب: بے شک مجھے وہ وقت یاد آ رہا ہے جب میرا کمزور جسم تیرے سایہ عاطفت میں پرورش پا رہا تھا اور میں نے ابھی اچھی طرح بولنا نہیں سیکھا تھا ۔ اور اب چرچے ہیں جس کی شوخیِ گفتار کے بے بہا موتی ہیں جس کی چشمِ گوہر بار کے معانی: شوخیِ گفتار: یعنی دل کش شاعری ۔ بے بہا: بہت قیمتی ۔ چشمِ گوہر بار: موتی برسانے والی آنکھ ۔ مطلب: جب کہ آج ہر جگہ میری شوخی گفتار یعنی شاعری کے چرچے ہو رہے ہیں اور میری آنکھوں سے بہنے والے آنسو موتی تصور کیے جاتے ہیں ۔ علم کی سنجیدہ گفتاری، بڑھاپے کا شعور دنیوی اعزاز کی شوکت، جوانی کا غرور معانی: سنجیدہ گفتاری: بات چیت میں احتیاط کا اور بڑوں کا سا طریقہ ۔ بڑھاپے کا شعور: بوڑھے ہونےکا احساس ۔ دنیوی اعزاز: دنیا کی عزت ۔ شوکت: شان، دبدبہ ۔ غرور: فخر، گھمنڈ ۔ مطلب: علم کے حصول اور اس کے بعد سنجیدگی سے گفتگو کرنے کا عمل، اپنی ضعیفی اور عمر کے باعث حاصل ہونے والی دانائی اور حکمت، زندگی میں ملنے والے مراتب اور منصب، اس کے ساتھ جوانی کی عمر کا غرور اور ولولہ زندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہم صحبتِ مادر میں طفلِ سادہ رہ جاتے ہیں ہم معانی: اوج گاہ: بلند مرتبہ ۔ صحبت مادر: ماں کے ساتھ ہونا، رہنا ۔ طفلِ سادہ: بے سمجھ سا بچہ، بھولا بھالا بچہ ۔ مطلب: بے شک عرف عام میں انہیں انسانی بلندی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے لیکن جب وہ ماں کے سامنے ہوتا ہے تو پھر ان تمام بلندیوں سے نیچے اتر آتا ہے اور محض ایک معصوم بچہ بن کر رہ جاتا ہے ۔ ماں کے روبرو تو بڑے سے بڑے شخص کی یہی کیفیت ہوتی ہے ۔ بے تکلف خندہ زن ہیں ، فکر سے آزاد ہیں پھر اسی کھوئے ہوئے فردوس میں آباد ہیں معانی: بے تکلف: بناوٹ، ظاہر داری کے بغیر ۔ خندہ زن: ہنسنے والا ۔ کھویا ہوا فردوس: یعنی بچپن کی بھولی بھالی معصوم زندگی ۔ آباد ہیں : رہ رہے ہیں ۔ مطلب: ماں کی محبت میں تو بڑے بڑے لوگوں کی یہی کیفیت ہوتی ہے کہ وہ سب تکلفات بالائے طاق رکھ کر بلند بانگ قہقہے لگاتے ہیں اور ہر نوع کے تفکرات سے آزاد ہو جاتے ہیں ۔ ماں کے سامنے وہ خود کو ماضی کی کھوئی ہوئی دنیا میں محسوس کرتے ہیں جو ایک طرح سے جنت گم گشتہ کی مانند تھی ۔ کس کو اب ہو گا وطن میں آہ! میرا انتظار کون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرار مطلب: اقبال کہتے ہیں کہ والدہ کے انتقال کے بعد اب وطن میں میرا اور میرے خط کا انتظار کون کرے گا ۔ واضح رہے کہ ان دنوں اقبال یورپ میں مقیم تھے ۔ خاکِ مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آوَں گا اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آوَں گا معانی: خاکِ مرقد: قبر کی مٹی، مراد قبر ۔ تربیت: زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھانا ۔ مطلب: واضح رہے کہ ان دنوں اقبال یورپ میں مقیم تھے وہ کہتے ہیں کہ جب میری وطن واپسی ہو گی تو اے ماں ! تیری قبر پر یہ فریاد لے کر آوَں گا کہ نصف شب کے وقت میری بہبودی کے لئے تو جو دعائیں کرتی تھی اب کون کرے گا تربیت سے تیری میں انجم کا ہم قسمت ہوا گھر مرے اجداد کا سرمایہَ عزت ہوا معانی: تربیت: زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھانا ۔ انجم کا ہم قسمت: مراد ستاروں کی طرح بلند مقدر والا ۔ اجداد: جمع جد، باپ دادا، پرانے بزرگ ۔ سرمایہَ عزت: شان اور مرتبے کی دولت ۔ مطلب: اے ماں تیری پرورش اور تربیت کا نتیجہ ہی تھا کہ آج مجھے یہ عزت و وقار حاصل ہوا ہے اور ساری دنیا کی نظروں میں ہمارے خاندان کے احترام میں اضافہ ہوا ہے ۔ دفترِ ہستی میں تھی زرّیں ورق تیری حیات تھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیات معانی: دفترِ ہستی: زندگی کی کتاب ۔ زریں ورق: سنہری ورقوں ، صفحوں والی ۔ سراپا: مکمل ۔ دین و دنیا کا سبق: دین اور دنیا کے مطابق تربیت ۔ مطلب: عملاً تیری زندگی دین و دنیا کے حوالے سے ایک سبق کی مانند تھی ۔ ساری عمر تو میری محبت و شفقت سے سرشار میری تربیت میں کوشاں رہی ۔ عمر بھر تیری محبت میری خدمت گر رہی میں تری خدمت کے قابل جب ہوا، تو چل بسی معانی: خدمت گر: خدمت کرنے والی ۔ تو چل بسی: تو فوت ہو گئی ۔ مطلب: ساری عمر تو میری محبت و شفقت سے سرشار میری تربیت میں کوشاں رہی لیکن جب میں تیری خدمت کے قابل ہوا تو کس قدر دکھ کی بات ہے کہ تو داغ مفارت دے گئی ۔ #AllamaIqbal #Walida #Marhooma #Mother #Maan #Iqbaliyat #Poetry #lines #Quotes #Sad #Emotional #Urdu #Iqbal#AakhriPaigham #AkhriPaigham #Akhripegham #AllamaIqbal #Poetry #AllamaMuhammadIqbal #MuhammadIqbal #PoetryWhatsApp #IqbalKaPaegham #PaighameIqbal 🎞️ Background(s): Zaid Amir - Feel the Mercy