У нас вы можете посмотреть бесплатно خطبہ جمعہ | فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر مقبول احمد مکی حفظہ اللہ или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
خطبہ جمعہ | فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر مقبول احمد مکی حفظہ اللہ السّلامُ علیکم ورحمةُ اللہ وبركاته خطبہ جمعہ 16؍ جنوری 2026ء عذاب الٰہی اور اس کے اسباب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر مقبول احمد مکی حفظہ اللہ مدیر مجلہ اسوہ حسنہ سینئرمدرس جامعہ ابی بکر الاسلامیہ ↓ ↓ اللہ کا عذاب کیوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق پیدا کی تو عرش کے اوپر اپنے پاس لکھ دیا کہ ’’إن رحمتي سبقت غضبي‘‘ ’’بے شک میری رحمت میرے غصے پر سبقت لے گئی‘‘۔(صحیح البخاری:7422) یعنی اللہ کی رحمت اس کے غصے اور عذاب پر غالب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ رحمت کا معاملہ ہے۔ اس کے بندے اسے بے حد محبوب ہیں۔ وہ اپنے بندوں کو عذاب دینے کیلئے پیدا نہیں کیا ہے اور نہ ہی وہ انہیں عذاب دینا چاہتا ہے۔ پھر بھی بعض بندوں پر عذاب کا کوڑا برسا، بعض اقوام پر عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور دنیا سے ان کا نام و نشان مٹ گیا؟ یہ عذاب کیوں آتے ہیں؟ کوئی قوم عذاب میں کیوں گرفتار ہوتی ہے؟ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ہی دیا ہے، فرمایا: ۔ ۔ ۔ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ ۗ وَإِذَا أَرَادَ اللَّـهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ ۚ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَالٍ (11) سورة الرعد ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وه خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے اور جب اللہ کسی قوم پر عذاب کا ارادہ کر لیتا ہے تو کوئی ٹال نہیں سکتا ہے اور نہ اس کے علاوہ کوئی کسی کا والی و سرپرست ہے‘‘(11) سورة الرعد اللہ کا عذاب بنیادی طور پر نافرمانی، گناہوں کی کثرت، اور حدود اللہ کو توڑنے کی وجہ سے آتا ہے۔ سب سے بڑی وجہ شرک، ظلم و ستم، بے حیائی اور اللہ کے احکامات سے روگردانی ہے۔ جب کسی قوم میں اخلاقی بگاڑ اور گناہ حد سے بڑھ جاتے ہیں، تو یہ ان پر اللہ کے غضب اور عذاب کا باعث بنتا ہے۔ قرآنی تعلیمات اور روایات کے مطابق، اللہ کے عذاب کی وجوہات درج ذیل ہیں: شرک اور کفر: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور اس کے احکامات کو ماننے سے انکار کرنا۔ نافرمانی اور گناہ: اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرنا اور گناہوں میں مسلسل ملوث رہنا۔ ظلم اور بے حیائی: معاشرے میں ظلم، زیادتی، اور بے حیائی کا عام ہو جانا۔ حقوق العباد کی پامالی: لوگوں کے حقوق مارنا اور ناانصافی کرنا۔ شکر گزاری نہ کرنا: اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنا۔ عذاب کا مقصد انسانوں کو ان کی غلطیوں پر متنبہ کرنا اور توبہ کی طرف لانا ہوتا ہے، کیونکہ اللہ رحیم ہے اور وہ نافرمانی پر فوراً پکڑ نہیں کرتا، بلکہ مہلت دیتا ہے۔ اے مسلمانوں خود اپنی گریبان میں جھانکیں! کیا ہم اپنی گناہوں پر نادم ہیں؟ کیا ہم نے گناہیں کرنی چھوڑ دی ہیں؟ کیا ہم نے اپنے رب کی طرف رجوع کیا ہے؟ کیا ہم نے اپنے رب کے حضور سچی توبہ کی ہے؟ کیا ہم اپنی توبہ کو برقرار رکھنے کا عزم رکھتے ہیں؟ کیا اب مسلم ملک و معاشرہ سود، کرپشن و بدعنوانی کا پاک رہے گا؟ کیا چور بازاری، رشوت خوری، خیانت، جھوٹ، فریب و مکاری سے پاک رہے گا؟ کیا اب یہاں دوسروں کے حقوق غصب نہیں کئے جائیں گے اور کمزوروں پر ظلم نہیں ہوگا؟ ↓ ↓ #islamicreminders #spiritualgrowth #deenoverdunya #allahﷻ #strengthenyouriman #muslimlife #islamicquotes #prayertosuccess #quranicteachings #dhikrullah #tawakkul #sabr #shukr #duas #innerpeace #godconsciousness #faithingod #islamicguidance #connectiontoallah #spiritualjourney