У нас вы можете посмотреть бесплатно پاکستان ریلوے کی سست کاریاں || لاہور کا یخ بستہ موسم اور گرم شاپِنگ مال или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
بِلا آخر ہم لاہور یاترا ختم کر کے کراچی پہنچ گئے. کچھ دِن پہلے تو لاہور کا موسم عجیب سا تھا. سمجھ نہیں آتا تھا کہ آسمان پر بادل ہیں یا دھند اور یا پھر آسمان پر بادل اور دھند کا مِکسچر. کِسی نے کہا یہ فوگ ہے. مگر ہماری عقل ماننے کو تیار نہ تھی. فوگ اگر ہوتی یا دھند ہوتی تو سطحِ زمین پر حرکت کرتی نظر آتی. مگر ماحول تو خاموش تھا حالانکہ سرد ہوا چل رہی تھی۔ بہرکیف ایک دِن تو صبح سے سورج شام تک نظر نہ آیا. سردی بھی اتنی کہ توبہ. ساتھ سرد ہوا بھی چل رہی تھی. اِرد گِرد کا ماحول سکوت میں مبتلا تھا. تاہم اِس کے باوجود لوگ چائے خانوں, بازاروں اور شاپِنگ مال میں گھوم پِھر رہے تھے. باہر موسم جتنا سرد تھا، شاپِنگ مالز میں موسم اتنا ہی دلفریب تھا. سنٹرلی گرم ماحول نے سب کچھ آسودہ کر دِیا تھا. خوبصورت صحت مند چہرے۔ چار جنوری کو ہم کراچی واپسی کے لیئے لاہور ریلوے اسٹیشن پہنچے. کراچی میں جو کچھ ہم نے سُنا تھا کہ لاہور ریلوے اسٹیشن کی بہت کمال تزئین و آرائش کی گئی ہے, وہ سب کچھ ہمیں کہیں نظر نہ آیا. قراقرم ایکسپریس نے تین بجے چلنا تھا, جو کہا گیا کہ سوا چار بجے روانہ ہوگی. سرد موسم میں سوائے کھڑے ہونے کے کوئی حل نہیں تھا. مسافروں کے لیئے بینچ نہایت کم تعداد میں تھے. اعلانات کوئی ایسا شخص کر رہا تھا جیسے اُس نے کوئی نشہ کِیا ہو. جب بھی کوئی اعلان ہوتا تو سوائے یائیں, بائیں کائیں کائیں کے کچھ سنائی نہ دیتا. خاتون انائونسر کی آواز پھر بھی کِسی حد تک سمجھ آتی تھی. خدا خدا کر کے قراقرم ایکسپریس 5 بجے شام کو پلیٹ فارم سے لگی. ابھی کیبن میں بیٹھے ہی تھے کہ ایک شخص کیبن کے دروازے میں آ کھڑا ہوا. کہنے لگا اب قراقرم ایکسپریس میں ڈائیننگ کار نہیں لگتی, سو کراچی تک چائے پانی اور کھانا نہیں ملے گا.اِس لیئے آپ یہیں پلیٹ فارم کے ریسٹورنٹ سے کھانا لے لیں. تکیہ اور چادر اگر چاہیئے تو وہ خریدنی ہو گی. مرتے کیا نہ کرتے جدید ریلوے کے کیبن میں بریانی منگوائی. آدھی رات کو کھائی اور آدھی صبح کو. ہمسفر ایک ریٹائرڈ آفیسر تھے جو اپنی بیوی اور جواں سال بیٹی کے ہمراہ سفر کر رہے تھے. بظاہر وہ بڑے تمیز دار تھے, مگر اُنہوں نے کچھ یوں معاملہ اختیار کیا کہ ہمیں بھی گیارہ بجے لیٹنا پڑا. کئی دفعہ آرام سے بتایا بھی کہ آپ تینوں ایک سائڈ کی برتھوں پر سو جائیں تاکہ ہم دوسری سائڈ کی نچلی برتھ پر بیٹھ کر کوئی کتاب پڑھ سکیں مگر اُن کے سپاٹ دماغ میں یہ بات اتر نہ سکی. ایسے تیسے کر کے رات گزری. قراقرم ایکسپریس, کراچی ایکسپریس کے پیچھے پیچھے ہی آہستہ آہستہ چلتی رہی حالانکہ وہ بعد میں لاہور سے روانہ ہوئی تھی. یوں قراقرم ایکسپریس صبح دس بجے پہنچنے کی بجائے تین بجکر چالیس منٹ پر پہنچی. ہم سوچنے لگے کہ نئے نئے ناموں سے ٹرینیں چلانے سے یا اُنہیں رنگ روغن کرنے سے ریلوے ترقی نہیں کر سکتا. اِس کی ترقی کے لیئے ضروری ہے کہ نئے ٹریک بچھائے جائیں, ریل اِنجن خود بنائے جائیں, بریجز نئے بنائے جائیں, اور ٹرینوں کی رفتار بڑھائی جائے.