У нас вы можете посмотреть бесплатно Zabur-e-Ajam-03 Dua - Prayer |زبورِ عجم-03 | دعا | اے رب! سینے میں دلِ باخبر کر دے или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
یارب درون سینہ دل با خبر بدہ در بادہ نشۂ را نگرم آن نظر بدہ, این بندہ را کہ با نفس دیگران نزیست یک آہ خانہ زاد مثال سحر بدہ سیلم ، مرا بجوی تنک مایہ ئی مپیچ جولانگہے بوادی و کوہ و کمر بدہ سازی اگر حریف یم بیکران مرا بااضطراب موج ، سکون گہر بدہ شاہین من بصید پلنگان گذاشتی ہمت بلند و چنگل ازین تیز تر بدہ رفتم کہ طایران حرم را کنم شکار تیری کہ نافکندہ فتد کارگر بدہ خاکم بہ نور نغمۂ داؤد بر فروز ہر ذرہ مرا پر و بال شرر بدہم اے رب! سینے میں دلِ باخبر کر دے جام میں نشۂ دیدارِ آن نظر کر دے یہ بندہ جو نفسِ غیر سے زندہ نہ رہا ایک آہِ سحری سی مانندِ سحر کر دے سیلِ بلا! مجھے تنک مایہ نہ سمجھ، پیچ نہ جولاں گاہِ بیابان و کوہ و کمر کر دے اگر سازِ بے کراں کا حریف ہوں میں موج کی اضطراب میں سکونِ گہر کر دے میرا شاہین پلنگوں کی صید پر چھوڑا ہمت بلند اور چنگل تیز تر کر دے رفتہ طائرانِ حرم کو شکار کرنے تیر ایسا دے جو نہ فلک کرے گر کر دے خاک کو داؤد کی نغمہ سے نورانی کر ہر ذرے کو پروں والا شرر شرر کر دے یا رب! میرے سینے کے دل کو خبر عطا کر مے کی مستی میں وہی صاحبِ نظر عطا کر اس بندے کو، جو اوروں کے نفس پر نہ جیا ایک آہ دے، جو سحر جیسی اثر عطا کر میں سیلاب ہوں، مجھے تنگ مایہ میں نہ سمیٹ مجھے دشت و جبل، کوہ و کمر عطا کر اگر تو مجھے بے کناروں کا حریف بنائے تو موج کے اضطراب میں سکونِ گہر عطا کر میرے شاہین کو پلنگوں کے شکار پر رکھا اب ہمتِ بلند اور تیزتر چنگل عطا کر میں حرم کے طیور کا شکار کرنے چلا تھا ایسا تیر دے جو گرے تو کارگر عطا کر میری خاک کو داؤدؑ کے نغمے کے نور سے جگا ہر ذرّے کو پر و بالِ شرر عطا کر یا رب! مرے سینے میں دلِ با خبر دیدے ساغر میں جو پنہاں ہے، مجھے وہ نظر دیدے جیا نہ جو غیروں کے نفس پر، ترے اس بندے کو اک آہِ خانہ زاد، مثالِ سحر دیدے سیلاب ہوں میں، تنگ ندی میں نہ سمیٹ مجھے صحرا و دشت و کوہ، مرا بال و پر دیدے بنائے اگر تو مجھے بحرِ بے کراں کا حریف موج کی تڑپ کے ساتھ، سکونِ گہر دیدے شاہیں کو مرے ذوقِ شکارِ پلنگ بخش کر ہمت بلند اور چنگال تیز تر دیدے نکلا ہوں کہ میں طائرانِ حرم کو جیت لوں وہ تیر، جو چلے نہ، مگر کارگر دیدے مری خاک کو نغمہِ داؤدی سے منور کر دے مرے ذرے ذرے کو پر و بالِ شرر دیدے