У нас вы можете посмотреть бесплатно Bani Israel Wadi E Teeth | Complete History Of Mann-O-Salwa | InFo at Umair или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
#baniisrael #manosalwa #baniisrailkawaqia Bani Israel Wadi E Teeth | Complete History Of Mann-O-Salwa | InFo at Umair وادی تیہ میں بنی اسرائیل کے چالیس برس اور خدائی انعامات کی بارش وادی تیہ کی حقیقت یہ ہے کہ بنی اسرائیل کا اصلی وطن ملک شام تھا ، حضرت یوسف علیہ السلام کے وقت میں مصر آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے ، اور ان کے اپنے وطن ملک شام میں عمالقہ نامی قوم کا تسلط ہو گیا، فرعون جب غرق ہوا اور یہ لوگ مطمئن ہو گئے ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ قوم عمالقہ سے جہاد کرو اور اپنی اصلی جگہ کو اُن کے قبضہ سے چھڑاؤ بنی اسرائیل والے اس ارادہ سے مصر سے چل نکلے جب ان کی حدود میں پہنچے اور قوم عمالقہ کے زورو قوت کا حال معلوم ہوا تو ہمت ہار بیٹھے اور جہاد کرنے سے صاف انکار کر دیا، اللہ تعالٰی نے اُن کو اس انکار کی یہ سزا دی کہ چالیس برس تک ایک میدان میں سرگرداں و پریشان پھرتے رہے، اور انہیں گھر پہنچنا نصیب نہ ہوا۔ یہ میدان کوئی بہت بڑے رقبے پر مشتمل نہیں تھا بلکہ مصر اور شام کے درمیان پانچ چھ کوس یعنی تقریباً دس میل کا رقبہ تھا، روایت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے وطن مصر جانے کے لیے دن بھر سفر کرتے اور رات کو کسی منزل پر اترتے صبح کو دیکھتے کہ جہاں سے چلے تھے وہیں ہیں، اسی طرح چالیس سال سرگرداں و پریشاں اس میدان میں پھرتے رہے، اسی لیے اس میدان کو وادی تیہ کہا جاتا ہے ، تیہ کے معنی ہیں سرگردانی اور پریشانی کے۔ وادی تیہ ایک کھلا میدان تھا، نہ اس میں کوئی عمارت تھی نہ درخت، جس کے نیچے دھوپ اور سردی اور گرمی سے بچا جا سکے، اور نہ یہاں کوئی کھانے پینے کا سامان تھا، نہ پہننے کے لیے لباس ، مگر اللہ تعالیٰ نے معجزے کے طور پر حضرت موسی علیہ الصلاۃ والسلام کی دعا سے اسی میدان میں ان کی تمام ضروریات کا انتظام فرما دیا، بنی اسرائیل نے دھوپ کی شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے ایک سفید رقیق ابر کا سایہ کر دیا، اور بھوک کا تقاضا ہوا تو من وسلوی نازل فرما دیا ، یعنی درختوں پر ترنجبین جو ایک شیریں چیز ہے بکثرت پیدا کردی، یہ لوگ اس کو جمع کر لیتے ، اس کو من کہا گیا ہے، اور بہت بڑی تعداد میں بٹیر ان کے پاس جمع ہو جاتے ، اُن سے بھاگتے نہ تھے ، یہ ان کو آسانی سے پکڑ لیتے ، اور ذبح کر کے کھاتے اس کو "سلوی" کہا گیا ہے اسی طرح یہ لوگ ان دونوں لطیف چیزوں سے پیٹ بھر لیتے چونکہ ترنجبین کی کثرت معمول سے زیادہ تھی ، اور بٹیروں کا وحشت نہ کرنا یہ بھی معمول کے خلاف تھا ، لہذا اس حیثیت سے دونوں چیزیں خزانہ غیب سے قرار دی گئیں ہیں ان کو پانی کی ضرورت پیش آئی تو حضرت موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کو ایک پتھر پر لاٹھی مارنے کا حکم دیا گیا اس پتھر سے چشمے پھوٹ پڑے جیسا کہ دوسری آیات قرآنی میں مذکور ہے ان لوگوں نے رات کے اندھیرے کا شکوہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے غیب سے ایک روشنی عمودی شکل میں ان کے محلہ کے درمیان قائم فرمادی، کپڑے میلے ہوئے اور پھٹنے لگے اور لباس کی ضرورت محسوس ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے بطور معجزہ یہ صورت کر دی کہ ان کے کپڑے نہ میلے ہوتے اور نہ ہی پھٹتے تھے، اور بچوں کے بدن پر جو کپڑے ہوتے وہ ان کے بدن کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑھتے رہتے ۔ اسی طرح یہ لوگ چالیس سال تک ایک محدود علاقہ میں محصور ومقید ہو کر رہ گئے کہ بظاہر نہ ان کے گرد کوئی حصار تھا، نہ ان کے ہاتھ پاؤں کسی قید میں جکڑے ہوئے تھے۔ بلکہ کھلے میدان میں تھے ۔ اسی دوران حضرت موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام اور حضرت ہارون علیہ الصلاۃ والسلام کی وفات ہوگئی اور یہ لوگ اسی طرح وادی تیہ میں حیران و پریشان پھرتے رہے۔ ان کے بعد اللہ تبارک و تعالی نے دوسرے پیغمبران کی ہدایت کے لیے بھیجے۔ چالیس برس اس طرح پورے ہونے کے بعد پھر ان کی باقی ماندہ نسل نے اس وقت کے پیغمبر کی قیادت میں جہادِ شام و بیت المقدس کا عزم کیا اور اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ "کہ یہ ارض مقدس تمہارے حصہ میں لکھ دی گئی ہے" پورا ہوا ۔