У нас вы можете посмотреть бесплатно ہم دوسروں کی باتیں کیوں پھیلاتے ہیں؟ ایک سبق آموز واقعہ или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
اکثر ہم دوسروں کے بارے میں وہ باتیں آگے پہنچا دیتے ہیں جو ہم نے خود نہیں دیکھی ہوتیں بلکہ صرف کسی سے سنی ہوتی ہیں۔ یہی سنی سنائی باتیں کبھی کبھی کسی انسان کی عزت، اس کے کردار اور اس کی زندگی کو متاثر کر دیتی ہیں۔ اس ذکر کی محفل میں ایک حقیقی واقعہ بیان کیا گیا ہے جس میں ایک انسان نے صرف سنی ہوئی باتوں کو آگے پہنچایا، لیکن جب حقیقت سامنے آئی تو اسے شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس گفتگو میں یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ: گمان انسان کی سوچ کو کیسے بدل دیتا ہے سنی سنائی باتیں آگے پھیلانے کے نقصانات کیا ہیں زبان کی امانت کیا ہے اور ذکر کی محفلیں انسان کے دل اور زبان کو کیسے پاک کرتی ہیں یہ واقعہ ہمیں اپنی زندگی، اپنی گفتگو اور اپنے گمانوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ Sometimes we unknowingly spread stories about people that we never personally witnessed. These assumptions and repeated stories can shape how others see someone and may harm their reputation. In this spiritual gathering of Dhikr, a real-life story is shared where repeating what was heard from others led to a powerful moment of realization and deep embarrassment. This talk reflects on: • The danger of assumptions • How gossip spreads without verification • The responsibility of our words • How spiritual gatherings help purify the heart and the tongue This story invites us to reflect on how we speak about others and how we can develop sincerity, humility, and better assumptions. Qur'an References Surah Al-Hujurat (49:12) “اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔” Surah Al-Isra (17:36) “اور اس چیز کے پیچھے نہ پڑو جس کا تمہیں علم نہیں۔” Hadith رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات آگے بیان کر دے۔” (مسلم) ایک اور حدیث میں فرمایا: “جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔” (بخاری، مسلم) اقوالِ صوفیہ حضرت علیؓ: “زبان درندہ ہے، اگر اسے چھوڑ دو تو یہ زخمی کر دیتی ہے۔” حضرت حسن بصریؒ: “مومن اپنی زبان کو قابو میں رکھتا ہے، منافق اپنی زبان کے قابو میں ہوتا ہے۔” حضرت جنید بغدادیؒ: “سالک کی زبان کم اور اس کا دل زیادہ بیدار ہوتا ہے۔” دعا یا اللہ ہماری زبان کو سچائی اور خیر کا ذریعہ بنا ہمیں بدگمانی، غیبت اور سنی سنائی باتیں پھیلانے سے بچا ہمارے دلوں کو ذکر کے نور سے پاک فرما اور ہمیں لوگوں کی عزت کی حفاظت کرنے والا بنا۔ آمین۔