У нас вы можете посмотреть бесплатно Munajaat Mola Hussain - Bab-e-Sakha-Hussain as -nohay 2025 | ZAIGHAM ABBAS или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
بہ اسم رب الحسین ص اس برس ماہ رمضان کی 20 تاریخ تھی میں تھا ،اور شاعر اہلبیت جاوید مرزا میرے ساتھ تھے ہم نے کربلا میں مولا حسین ص کے روضے پر حاضری دی ، میں جیسے ہی ضریح اقدس سے زیارت کر کے پلٹا تو میرے ذہن میں ایک مناجات کا مصرعہ آیا وہ میں نے جاوید بھائی کو بتایا ہم جاکر قتل گاہ امام حسین ص کے سامنے بیٹھ گئے اور یوں مصرعے عطا ہونے لگے اور طرز بھی وہیں بن گئی جیسے ہی کوئی شعر ہوتا میں وہاں مولا کے حضور پڑھتا اور ایک عجیب کیفیت ہوگئی یہ مناظر لاہور سے آئے ہوئے آغا عباس بھائی دیکھ رہے تھے کہ یہ سب کیسے ہو رہا ہے لیکن وہ جانتے تھے کہ اس وقت عطاؤں کی منزلیں ہیں مالک نے حسین ترین مناجات عطا کی وہی مناجات ریکارڈ کروائی گئی ہے اے حسین ابن علی ع باب سخا یا مولا اس سے پہلے مولا عباس ع کی مناجات چہرے سے شاہ دی۔ کے غم کو ہٹانے والے بگڑی میری بنادے صدقے میں سیدہ کے یا عباس آپ سن چکے ہیں اور اسکے معجزاتی اثرات بھی دیکھے ہیں ، اسکے علاوی بی بی زینب کی مناجات میں نے لائیو پڑھی ہے جو بی ، بی زینب کے حرم مقدس میں لکھی تھی اب مولا حسین ص کی مناجات کو مومنین کے لئے پیش کررہا ہوں کلام سنیے گا اور اپنی مرادیں امام حسین ص سے پایئےگا نوحہ خواں، سوز : ضیغم عباس رضوی شاعر : جاوید مرزا صاحب آڈیو : دانیال حسن ویڈیو : جری اسٹوڈیو Team Zaigham Abbas ZAIN UL ABIDIN , AON HASNI , ARHAM , HADI HASHAM ---_----------------------------------------------------------------------- ہم فقیروں کی صدا مولا سدا سنتے ہیں دل میں پوشیدہ نوا مولا سدا سنتے ہیں التجا جو بھی ہو زہرا کے پسر سے کہہ دو پوری ہوگی وہ دعا مولا سدا سنتے ہیں اے حسین ابن علی باب سخا یا مولا صدقہ اکبر کا ہمیں کردو عطا یا مولا جیسے راہب کو ملی ویسے ہی امداد ملے مجھ کو مجلس کے لیے ماتمی اولاد ملے ہم فقیروں کو دو ماتم کا صلہ یا مولا جو ہیں بیمار عزادار شہِ والا کے بھیک سجاد کے صدقے میں زرا مل جائے صدقے بےشیر کے دو ان کو شفاء یامولا جو کرائے کے مکانوں میں رہا کرتے ہیں دل میں حسرت لیے ہر روز دعا کرتے ہیں پرسہ داری کے لیے گھر ہو میرا یا مولا قرض مجھ پر ہے زمانے کے امیروں کا بہت اپ رکھتے ہیں خیال اپنے فقیروں کا بہت غیب سے اپنا بھی ہو قرض ادا یا مولا ماتمی سب ہی جوانو کو سلامت رکھنا بوڑھے ماں باپ کو بچوں کو سلامت رکھنا بخش دو ماتمی مومن کو جِلا یا مولا امتحانوں میں فتح مند عزادار رہیں نوجواں علم کی میراث سے سرشار رہیں علم کے در کا ہو صدقہ یوں عطا یا مولا موت سے پہلے ہی دیدار کرا دو مولا آخری حجتِ دوراں سے ملا دو مولا پردہِ غیب کو اُٹھوا دو ذرا یا مولا اے حسین ابن علی ہم کو خدا دکھلائیں خلد دکھ جائے ہمیں کرب و بلا دکھلائیں ہو عطا زادِ سفر بہرِ خدا یا مولا مجھ کو منظور زمانے کا خفا ہو جانا اور دنیا کے امیروں کا جدا ہو جانا مجھ سے ہونا نہ مگر آپ خفا یا مولا جب تلک صدقہ زہرا نہ عطا ہو جائے جب تلک انکھوں کو حاصل نہ ضیا ہو جائے ہوں گا اپ کے در سے نہ جدا یا مولا رزق ضیغم کو کثیر اور عطا ہو جائے سوز آواز میں ضیغم کی سوا ہو جائے آپ کے در پہ ہے مرزا کی صدا یا مولا رشتے ہر ایک بہن کے مری آساں کر دو مفلسی دور کرو رب کو مہرباں کر دو صدقہ زینب کا کرو سب کو عطا یا مولا ہوں جنازے میں مرے صرف عزادارِ حسین اور اٹھائیں مری میت کو وفادارِ حسین ہے وصیت یہ مری شاہ ہدا یا مولا اپ کے در سے نہیں جاتا ہے کوئی خالی اپ مسکینوں یتیموں کے ہیں اعلی والی کر دیں مشکل کو کشا عقدہ کشا یا مولا بے گھری کا مجھے طعنہ جو جہاں دیتا ہے اشک انکھوں سے لہو بن کے میری بہتا ہے مجھ کو اس دہر کے تانوں سے بچا یا مولا #noha #karbala #nadeemsarwar #shia #alishanawar