У нас вы можете посмотреть бесплатно وادیِ ہنزہ شنگریلا سے آگے Hunza Valley beyond Shangri-La или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
وادی ہنزہ اپنے لوگوں کی طویل عمری اور غیر معمولی شرح خواندگی کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ ذرائع کے مطابق ان دونوں پہلوؤں کے پیچھے درج ذیل اہم عوامل کارفرما ہیں: بلند شرح خواندگی کے عوامل: ہنزہ میں خواندگی کی شرح 95 فیصد سے زیادہ ہے، جو کہ پاکستان کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ اس کامیابی کی بڑی وجوہات یہ ہیں: • معیاری تعلیمی ادارے: یہاں ایسے کمیونٹی سکولز قائم کیے گئے ہیں جو اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ • خواتین کی تعلیم: ہنزہ میں خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دی گئی ہے، جس نے مجموعی شرح خواندگی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ • آغا خان کا کردار: مقامی لوگ آغا خان پنجم (موجودہ امام) کو اپنی تعلیمی کامیابیوں اور فلاح و بہبود کا سب سے بڑا محرک اور معاون مانتے ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے یونیورسٹیوں کے قیام اور تعلیمی ڈھانچے کی بہتری میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ طویل عمری اور صحت کے عوامل: اگرچہ بعض محققین پیدائشی ریکارڈ کی کمی کی وجہ سے طویل عمری کو ایک "افسانہ" قرار دیتے ہیں، لیکن اس بات پر اتفاق ہے کہ یہاں کے لوگ انتہائی صحت مند طرزِ زندگی گزارتے ہیں۔ اس کے اہم عوامل درج ذیل ہیں: • جسمانی سرگرمی: وادی کے دشوار گزار جغرافیہ اور پہاڑی ماحول کی وجہ سے یہاں کے لوگ بہت زیادہ جسمانی ورزش کرتے ہیں، جو انہیں چست اور توانا رکھتا ہے۔ • صحت بخش غذا: ہنزہ کے لوگ روایتی طور پر خوبانی کے بیجوں اور اس کے تیل کا استعمال کرتے ہیں، جو ان کی غذا کا لازمی حصہ ہے۔ • قدرتی پانی: یہاں کے لوگ گلیشیئرز کا پانی پیتے ہیں جو قدرتی طور پر معدنیات سے بھرپور ہوتا ہے۔ • بیماریوں سے پاک معاشرہ: رابرٹ میک کاریسن جیسی تحقیق کے مطابق، یہاں کے لوگوں میں کینسر، معدے کے السر اور اپینڈیسائٹس جیسی بیماریاں نہیں پائی گئیں۔ ہنزہ کی اس ترقی کو ایک قدیم درخت سے تشبیہ دی جا سکتی ہے، جس کی جڑیں (صحت اور طرزِ زندگی) پہاڑوں کی معدنیات سے توانائی حاصل کرتی ہیں، جبکہ اس کی شاخیں (تعلیم اور شعور) آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہیں