У нас вы можете посмотреть бесплатно علامہ شبلی نعمانی کی شعر العجم . или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
شعرالعجم (شبلی نعمانی)۔ " حالی کی بعد شبلی تنقید کے سٹیج پر جلوہ فرما ہوتے ہیں متعدد و دلچسپ اور اہم تنقیدی تصانیف ملک کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ شبلی حیرت انگیز اوصاف کا مجموعہ تھے۔ بلند پایہ مورخ ، ادیب، شاعر ، محقق اور تنقید نگار تھے۔ طبیعت میں بلا کی شوخی اور تیزی موجود تھی بڑے گہرے عالم ، دقیقہ رس فاضل اور سخن سنج ماہر اور ماہر ادبیات تھے۔“ تنقید کے حوالے سے شبلی کی شخصیت اس قدر مقبول ِ عام نہیں جتنی کہ ایک مورخ ، سوانح نگار ، سیرت نگار اور شاعر وغیر ہ کے حوالے سے معروف ہے ۔ فنونِ نظر کے بارے میں بھی شبلی کے تنقیدی افکار مختلف مقالات اور تصانیف میں خال خال پائے جاتے ہیں۔ مگر ان کا خاص میدان شاعری کی تنقید ہے۔ جہاں تک ”موازنہ انیس و دبیر“ کا تعلق ہے اس میں شبلی نے مرثیہ نگاری کے فن پر اصولی بحث کی ہے اور ساتھ ہی انیس اور دبیر کے مرثیوں کا تقابلی مطالعہ بھی کیا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے انیس کے کلام کو خاص طور پر اپنے پیش نظر رکھا ہے۔ اور اس کی مختلف خصوصیات کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ کچھ جانبداری کے ساتھ ساتھ اس بحث کا انداز تشریحی اور توضیحی زیادہ ہے لیکن اس میں جگہ جگہ اعلیٰ درجہ کی تنقید کا احساس ضرور ابھرتا ہے۔ ایک اور اہم بات اس کتاب میں یہ ہے کہ اس میں شبلی نے فصاحت و بلاغت پر روشنی ڈالی ہے اور اس کے مختلف پہلوئوں پر اصولی اورنظریاتی انداز ِ نقد برتا ہے جس میں شبلی کا تنقیدی شعور نمایاں ہے ۔ بہر حال یہ کتاب بھی تنقیدی اعتبار سے اہمیت رکھتی ہے۔ چونکہ شبلی کا اہم موضوع شعر و شاعری ہے اس سلسلے میں انہوں نے شاعری کے اصولوں پر بھی بحث کی ہے ۔ اصناف سخن کے اصول بھی وضع کئے ہیں ۔ اور شاعروں پر عملی تنقید بھی کی ہے۔ پروفیسر احسان الحق لکھتے ہیں کہ، ” شبلی کی سب سے اہم تنقیدی تصنیف” شعرالعجم“ ہے جس کی تمام جلدوں میں عمل تنقید غالب ہے۔“ اس لحاظ سے ان کی تصنیف شعرالعجم خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہے جس کی کل پانچ جلدیں ہیں ان میں چوتھی اور پانچویں جلد تنقیدی اعتبار سے زیادہ اہم ہے۔ جن میں نظریاتی ، اصولی اور عملی تنقید کے دلنشین مظاہر ہیں۔ شاعر ی کے مختلف پہلوئوں پر بصیرت افروز تنقیدی بحث اور اصناف ِ سخن کا تنقیدی تجزیہ ہے۔ تصور ِ شعر:۔ شبلی شعر کو ذوقی اور وجدانی شے قرار دیتے ہیں اسی بناءپر اُن کے خیال میں شاعری کی جامع اور مانع تعریف آسانی سے نہیں کی جا سکتی بلکہ مختلف ذریعوں سے اور مختلف انداز میں اس حقیقت کا ادراک کرنا پڑتا ہے۔ شعر العجم جلد چہارم میں شبلی کے اپنے الفاظ کچھ یوں ہیں۔ ” شاعری چونکہ وجدانی اور ذوقی چیز ہے اس لئے اس کی جامع مانع تعریف چند الفاظ میں نہیں کی جا سکتی اس بناءپر مختلف طریقوں سے اس حقیقت کا سمجھانا زیادہ مفید ہوگا کہ ان کے مجموعہ سے شاعری کا ایک صحیح نقشہ پیش نظر ہو جائے۔“ یوں شبلی نے مختلف مثالیں دے کر شاعری کی اہمیت واضح کی ہے ان کے نزدیک شاعری کا منبع ادراک نہیں بلکہ احساس ہے ۔ احساس سوچنے اور غور کرنے کا نام نہیں ، وہ اس سے مختلف قوت ہے۔ جو ہر انسان میں پائی جاتی ہے۔ انسان متاثر ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے مختلف واقعات اس پر اثر کرتے ہیں اور اس طرح اس پر مختلف کیفیات طاری ہوتی ہیں۔ بقول شبلی جب انسان کو کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو وہ متاثر ہوتا ہے۔ عبادت بریلوی کہتے ہیں، ” ان کا خیال صحیح ہے کیونکہ احساس کے بغیر شاعری کوئی معنی نہیں رکھتی یہ احساس جب شدید ہوتا ہے تو فطری اور اضطراری طور پر انسان کی زبان سے موزوں الفاظ نکلتے ہیں ۔ اسکا نام شعر ہے۔ اس میں شاعرکی شعور کا دخل نہیں ہوتا۔“ شبلی کے نزدیک یہ کم و بیش ایک ایسی کیفیت ہے جو شیر کو گرجنے ، مور کو چنگھاڑنے، کوئل کو کوکنے ، مور کو ناچنے اور سانپ کو لہرانے پر مجبور کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شبلی شاعری میں جذبات کی اہمیت کے قائل ہیں۔ جذبات کے بغیر شاعری کا وجود نہیں ہوتا اور وہ جذبات سے پیدا ہوتی ہے شاعری کا کام جذبات میں تحریک پیدا کرنا اور ان کو ابھارنا ہے۔ مگر اس کا مطلب ہیجان اور ہنگامہ برپا کرنا نہیں بلکہ جذبات میں زندگی اور جولانی پیدا کرنا ہے۔ شبلی کے نزدیک شاعری کے لئے جذبات ضروری ہیں اور وہ شاعری کو جذبات کے برانگیختہ کرنے کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔ شاعری اور جمالیاتی پہلو:۔ شبلی کے خیال میں تمام عالم ایک نگارہیں۔ شاعر کے سامنے قوت تخیل کی بدولت