У нас вы можете посмотреть бесплатно “ماں کو نکالنے کے بعد جو ہوا، وہ بیٹا زندگی بھر نہیں بھول سکا” или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
ہ کہانی صرف ایک ماں اور بیٹے کی نہیں، بلکہ اُن دعاؤں کی ہے جو خاموشی میں مانگی جاتی ہیں، اُن قربانیوں کی ہے جو کبھی زبان پر نہیں آتیں، اور اُن گناہوں کی ہے جن کا حساب وقت سے پہلے شروع ہو جاتا ہے۔ زہرا بی بی ایک عام سی عورت نہیں تھی۔ وہ ماں بننے کے لیے برسوں روئی، صبر کیا، طعنے سہے اور صرف اپنے رب پر بھروسا رکھا۔ جب دعا قبول ہوئی اور فہد اس کی گود میں آیا تو اس نے اپنی پوری زندگی اسی ایک رشتے پر قربان کر دی۔ شوہر کی موت کے بعد اس عورت نے خود کو مٹا کر اپنے بیٹے کو سنوارا۔ لوگوں کے گھروں میں کام، ذلت، فاقے، بیماریاں — سب کچھ برداشت کیا، مگر ایک آنسو بھی بیٹے کے سامنے نہ گرنے دیا۔ وقت گزرتا گیا، فہد بڑا ہوا، پڑھا لکھا، اور ایک نئی دنیا میں داخل ہو گیا۔ وہ دنیا جہاں ماں کی محنت نظر نہیں آتی، اور قربانی کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ فہد کے قدم ماں سے دور اور خواہشوں کے قریب ہوتے گئے۔ زہرا بی بی سب کچھ دیکھتی رہی، مگر خاموش رہی — کیونکہ ماں بولے تو بوجھ بن جاتی ہے۔ شادی فہد کی زندگی میں آئی تو زہرا بی بی نے ایک بار پھر امید باندھی کہ شاید اب اس کا بیٹا سنبھل جائے۔ مگر یہاں کہانی ایک نیا موڑ لیتی ہے۔ جہاں ماں کا وجود آہستہ آہستہ گھر میں غیر ضروری سمجھا جانے لگتا ہے۔ وہی ماں جو کبھی اس گھر کی روح تھی، اب ایک بوجھ بننے لگتی ہے۔ بیماری، کمزوری اور بڑھتی عمر کے ساتھ اس کا مقام گھٹتا جاتا ہے۔ پھر وہ دن آتا ہے جب فیصلہ کیا جاتا ہے — ایک ایسا فیصلہ جو صرف زبان سے کہا جاتا ہے، مگر روح تک کو زخمی کر دیتا ہے۔ زہرا بی بی بغیر شور، بغیر سوال، بغیر شکایت کے گھر چھوڑ دیتی ہے۔ اس لمحے وہ صرف ایک ماں نہیں ہوتی، بلکہ ایک ٹوٹی ہوئی دعا بن جاتی ہے۔ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، بلکہ اصل سسپنس یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ جس گھر سے ماں کی دعا نکل جائے، وہاں سکون کیسے ٹھہر سکتا ہے؟ فہد کی زندگی میں سب کچھ بظاہر ویسا ہی رہتا ہے، مگر اندر سے سب کچھ بکھرنے لگتا ہے۔ جسم کمزور، دل خالی، اور رشتے ٹوٹتے چلے جاتے ہیں۔ وہ سزا جس کا کوئی ظاہری سبب نظر نہیں آتا، آہستہ آہستہ اپنی گرفت مضبوط کر لیتی ہے۔ اور پھر ایک دن فہد کو وہ سچ معلوم ہوتا ہے، جس نے اس کی نیند، اس کا غرور اور اس کی دنیا سب کچھ چھین لیا۔ وہ ماں جسے اس نے نظرانداز کیا، آج بھی دعا میں صرف ایک ہی نام لیتی ہے۔ لیکن کیا ہر غلطی کی معافی وقت پر ملتی ہے؟ کیا ہر دعا پلٹ کر حفاظت بن جاتی ہے؟ یا کبھی کبھی دعا خاموش فیصلہ بھی بن جاتی ہے؟ یہ کہانی اسی سوال پر ختم ہوتی ہے — جہاں معافی اور جدائی ایک ساتھ کھڑی ہوتی ہیں، اور قاری آخری لمحے تک سانس روکے رہتا ہے۔