У нас вы можете посмотреть бесплатно اسلام آباد | Ep. 221 | آج سانس بھاری ہے — نبض مختلف или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
آج کا بوجھ کچھ زیادہ ہے۔ اپ ڈیٹ : تازہ ترین تفصیل اپ ڈیٹ : تازہ ترین تفصیل اپ ڈیٹ : تازہ ترین تفصیل مین روڈ کے کنارے، ٹائروں کی نمی اور بجلی کی خوشبو گٹر میں پیروں کے نقش، بارش کا شور اور ہارن کی کھنک لوگ ہاتھوں میں پوسٹر، دل کے تالے لٹکے ہوئے #Islamabad #خبریں #کاراوکے #سر #شہر Music style: Karachi Urdu Trap Rap Tags: islamabad, newskaraoke, news, karaoke, nyhetsrytm, trap, rap Lyrics: مین روڈ کے کنارے، ٹائروں کی نمی اور بجلی کی خوشبو گٹر میں پیروں کے نقش، بارش کا شور اور ہارن کی کھنک لوگ ہاتھوں میں پوسٹر، دل کے تالے لٹکے ہوئے سیکورٹی لائن، بندو بست، بھاری جوتوں کی چاپ مِکس ہوئی خماشہ نہیں، چیخیں مٹھیوں میں بند، کیمروں کی آنکھیں جھکیں پولیس نے روکا راستہ، ستونوں پہ ظلم کا سِتار چمکا بچوں کی آوازیں دور، شیشوں میں شہر کا عکس ٹوٹا ٹی وی کی لائٹ، موبائل کی فلیش، ہر چہرہ ایک نقش بنا ڈرائیور روکا ٹریفک، پانی نے سڑکوں کو نگل لیا نیچے پل کے پاس مائیں ڈھونڈیں راستہ، ٹائم بدل رہا تھا چند قدم آگے دھرنا، چند قدم پیچھے ہاتھ فولاد کے درمیاں کچھ کو پکڑا، کچھ چھوڑا، وکیل کی آواز ہوا میں کٹی بیرلر گیٹ کے بجھتے روشن، سفارتی چوک کے پاس سرگوشیاں چیک پوسٹ، شناختی کا سوال، کسی نے کہا یہ محض حکم نہیں نعرے بند نہیں، ریڈ زون کی دیواروں نے کان پکڑ لیے بارش نے سب رنگ ملا دیے، کاغذ سہیٹوں پہ مچل گئے ہونٹ گِر گئے، لہجے تیز، ہر آنکھ میں ساموئی اکسیجن کم یہیں کہیں خاتون نے کہا یہ زمین ہمارا بھی ہے، سانس رکھی ہاں، پکڑا گیا، ہاتھوں میں رَشوتِ خوف، حراست کی ٹھنڈی چوکھٹ شہری کہتے کہ یہ سچ ہے، مگر سچ کی قیمت چپ کا بستر میں نے گِنا ہر قدم، کنکریوں میں خواب چُبھتے گئے ہوا نے سرگوشی کی، "چلو" اور "رُکو" کے درمیان کشمکش ہک: آواز اُٹھی، آواز دُہرائی گئی، آواز لگی آگ آواز اُٹھی، آواز دُہرائی گئی، آواز لگی آگ مائیک بند، جوتے بھیگے، مگر ایک تال دلوں میں رہ گیا کاغذی نشانیاں بہتی ندی میں گھل گئیں، مگر قدم رکے نہیں مقصد کی تپش، سڑکوں کی ٹھنڈی چکنی مٹی سینے میں پیوست ہر چہرہ ایک سوال، ہر سوال میں سانسوں کی کمی ریڈ زون کی روشنیاں مدھم، بارش کی مسکان کڑوی پاس کھڑے لوگ، آنکھوں میں سراب اور بازوؤں میں جوش کوئی ہاتھ بارڈر پر، کوئی ہاتھ اپنے ہاتھوں میں بندھی سفارتی دیواریں سنبھلیں، مگر شہر کی دھڑکن کھلتی گئی آخری قدم کم، پانی نے جوتوں کی آواز چھینا بارش رکی، ہارڈوئیر کی ٹھنڈی بو رہی، زمین گیلی مگر جامد چاہتیں وہاں رہ گئیں، قدموں نے خود کو سنبھالا شہر نے سانس لی، مگر سینے میں دباؤ کا نشان رہا