У нас вы можете посмотреть бесплатно Manam Mehve Khayal-e-oo | Hafiz Taimor Ali | Bu Ali Qalandar مَنَم محوِ جمالِ اُو - بو علی قلندر или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
پیدائش: 1208هجري خورشيدی وفات: 1323هجري خورشيدی شیخ شریف الدین ، ملقب بہ بو علی شاہ قلندر در سال 1208ء در ٭ مقام پانی پتِ ھندوستان دیدہ بہ جھان گشود- پدرش در سال 1203م از کشور عراق بہ ھند کوچ فرمودہ بود- او ھنوز کم سن بود کہ ماھرِ بسیار علوم ظاھری گردید۔ قبل از قدم انداختن در دریای عمیق تصوف او چند سال نزد ٭ قطب مینار دھلی ٭ سلسلہء درس و تدریس را جریان داد۔ بعد از آن ، جنون تصوف او را در آغوش گرفت - مقبرہء او در شھرِ پانی پت واقعہ میباشد کہ ھنوز جایی زیارت است مثنویِِ بو علی شاہ قلندر - ء بسم اللہ الرحمن الرحیم مرحبا ای بُلبُلِ باغِ کھن از گُلِ رعنا بگو با ما سُخن- مرحبا ای قاصدِ طیارِ ما می دھی ھر دم خبر از یارِ ما - مرحبا ای ھُدھُدِ فرخندہ فال مرحبا ای طوطیی شکر مقال- در زمان ھفت آسمان را طی کنی مُرکّبِ حرص و ھوا را پی کنی- دم بدم روشن کنی در دلِ څراغ ھر نفس از عشق سازی سینہ داغ- از تو روشن گشت فانوس ِ تنم از تو حاصل شد مرا وصلِ صنم- مرحبا ای رہنمای راہء دین از تو روشن شد مرا چشمِ یقین- یافت قالب طنیتِ پاک زتو شد پریشان آدمِ خاکی زتو- مرحبا ای فیض بخشِ کائنات یافت ترکیب از وجودِ تو حیات- غرق بودی در محیطِ ذاتِ پاک از تو روشن شد چرا این تیرہء خاک- ای کہ بودی در حریمِ لامکان چوں جدا گشتی ، بگو رازِ نھان- پاک بودی در حریمِ کبریا از چہ پیدا شد ترا حرص و ھوا- خوش خرامیدی تو از کنمِ عدم خوش نہادی بر سرِھستی ندم - گاہ در دوزخ روی سازی مقام گاہ در جنت روی ای خوش خرام - گاہ کنی جلوہ در اقلیمِ فنا گہ روی در عالمِ ملکِ بقا - جانِ من بہ من بگو اسرارِخویش چشمِ دل روشن کن از اسرارِ خویش آفریدہ حق تری از جنسِ جان از تو افتادہ ست شور اندر جھان - باز گو با من سخن ای اھل ِ راز از حقیقت غُلغُل افگن در مجاز- خاک افشان بر سرِ نفسِ لعین چشمِ دل روشن کن از نورِ یقین - ھمچو آئینہ نما عکسِ نگار تا نماید جلوہء رخسارِ یار - صاف کن آئینہء دل از غبار آتشی زن در دلِ این بیقرار - راہ نما ای ھادئی راہء ھدا ز آنکہ ھستی در حقیقت راہ نما- گرنہ کردی طالبان را دستگیر طالبان ھرگز نہ گیرند دستِ پیر - از تو روشن ایمانِِ کوکبِ من پردہ ھا بردار از رُخِ جانِ من - شیخ شرف الدین پانی پتی معروف بہ بوعلی قلندر کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں، آپ کا شمار برصغیر کے نامور اولیاء میں ہوتا ہے اور کئی کرامات آپ سے منسوب ہیں، پانی پت میں آپ کا مزار، بلا تفریقِ مذہب و ملت، مرجعِ خلائق ہے جس کی دو تصاویر نیچے عقیدت مندوں کیلیے بطور تبرک شامل کر رہا ہوں۔ آپ ایک بلند پایہ اور قادر الکلام شاعر بھی تھے۔ انسائیکلوپیڈیا اسلامیکا (دانشنامۂ جہانِ اسلام) کا مضمون نگار آپ کی شاعری کے متعلق لکھتا ہے۔ "بوعلی قلندر در نظم و نثر پارسی استاد بود۔" اسی مضمون سے علم ہوتا ہے کہ آپ کا ایک دیوان بھی شائع ہوا تھا جو آپ کی غزلیات، قصائد اور رباعیات کا مجموعہ تھا، حیدرآباد دکن سے آپ کے اشعار کا ایک مجموعہ "کلامِ قلندری" نامی بھی شائع ہوا تھا، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اب یہ کتب کہیں سے ملتی ہیں یا نہیں۔ اسکے علاوہ آپ نے تین مثنویاں بھی تخلیق کی تھیں جس میں ایک کا نام "گل و بلبل" ہے۔ آپ کے کلام کے اردو اور پنجابی ترجمے بھی شائع ہو چکے ہیں۔ آپ کا ایک قطعہ تو انتہائی معروف ہے، اور کیا خوبصورت اور عقیدت سے بھرا قطعہ ہے حیدریّم، قلندرم، مستم بندۂ مرتضیٰ علی ہستم پیشوائے تمام رندانم کہ سگِ کوئے شیرِ یزدانم میں حیدری ہوں، قلندر ہوں، مست ہوں، علی مرتضیٰ (ع) کا بندہ ہوں، میں تمام رندوں کا امام ہوں کہ شیرِ خدا (ع) کے کوچے کا کتا ہوں۔ مطلع سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزل کے قوافی "جمال، وصال" وغیرہ ہیں لیکن دوسرے اشعار میں ان قوافی کا تتبع نہیں کیا گیا بلکہ ہر شعر کو بظاہر چار ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا ہے، اور ہر ٹکڑے میں قافیہ لایا گیا ہے جو کہ مطلع کے قوافی سے مختلف ہیں اور پھر ردیف وہی مطلع والی۔ غزل کی ہیت میں ایسا لکھنا میرے لیے واقعی ایک نئی بات ہے۔ مَنَم محوِ جمالِ اُو، نمی دانم کُجا رفتم شُدَم غرقِ وصالِ اُو، نمی دانم کجا رفتم میں اسکے جمال میں محو ہوں اور نہیں معلوم کہاں جا رہا ہوں، بس اُسی کے وصال میں غرق ہوں اور نہیں جانتا کہاں جا رہا ہوں۔ غلامِ روئے اُو بُودَم، اسیرِ بُوئے اُو بودم غبارِ کوئے اُو بودم، نمی دانم کجا رفتم میں اس کے چہرے کا غلام ہوں، اسکی خوشبو کا اسیر ہوں، اسکے کُوچے کا غبار ہوں، اور نہیں جانتا کہاں جا رہا ہوں۔ بہ آں مہ آشنا گشتم، ز جان و دل فدا گشتم فنا گشتم فنا گشتم، نمی دانم کجا رفتم اُس ماہ رُو کا آشنا ہو کر گھومتا ہوں، جان و دل فدا کیے ہوئے گھومتا ہوں، خود کو فنا کیے ہوئے گھومتا ہوں اور نہیں جانتا کہاں جا رہا ہوں۔ شدم چوں مبتلائے اُو، نہادم سر بہ پائے اُو شدم محوِ لقائے او، نمی دانم کجا رفتم میں اس کے عشق میں ایسے مبتلا ہوں کہ اس کے پاؤں پر سر رکھے ہوں اور ہمہ وقت اسکے دیدار میں محو اور نہیں جانتا کہاں جا رہا ہوں۔ قلندر بُوعلی ہستم، بنامِ دوست سرمستم دل اندر عشقِ اُو بستم، نمی دانم کجا رفتم میں بُو علی قلندر ہوں اور دوست کے نام پر سرمست ہوں اور میرے دل میں بس اُسی کا عشق ہے، اور نہیں جانتا کہاں جا رہا ہوں۔ #ManamMehveKhayal-e-oo #BuAliQalandar