У нас вы можете посмотреть бесплатно روزے کی حقیقت - تاریخ، تصوف اور سائنس کے آئینے میں или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
اس ویڈیو میں روزے کی عالمگیر حقیقت اور اس کے کثیر جہتی فوائد پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ روح کی بالیدگی، جسم کی پاکیزگی اور انسانی ارادے کی پختگی کا ایک مکمل نظام ہے۔ اہم نکات: تاریخی پس منظر: روزہ انسانیت کے آغاز سے ہی موجود رہا ہے۔ سیدنا آدمؑ کے ایامِ بیض سے لے کر عیسائیت میں 'لنٹ' (Lent) تک، ہر دور میں یہ تزکیہ نفس کا ذریعہ رہا۔ یونانی فلاسفہ (سقراط، افلاطون) بھی ذہنی تیزی کے لیے اس کے قائل تھے۔ خیر القرون کی مثالیں: صحابہ کرامؓ کے لیے روزہ "روحانی ایندھن" تھا۔ غزوہ بدر اور فتحِ اندلس جیسی فتوحات روزے کی حالت میں ہوئیں۔ امام نوویؒ جیسے اکابرین روزے میں علمی ارتکاز حاصل کرتے تھے۔ تصوف (امام غزالیؒ و داتا گنج بخشؒ): امام غزالی کے مطابق روزے کے تین درجات ہیں: عوام، خواص اور خاص الخاص۔ داتا گنج بخشؒ فرماتے ہیں کہ روزہ انسان میں اللہ کی صفتِ "صمدیت" پیدا کرتا ہے۔ جدید سائنس: آٹوفیجی (Autophagy) کے ذریعے جسم زہریلے خلیات کو کھا جاتا ہے۔ روزہ دماغ میں BDNF پروٹین بڑھاتا ہے اور یادداشت تیز کرتا ہے۔ حاصلِ کلام: روزہ اللہ کی طرف سے ایک "خاموش ضیافت" ہے جو انسان کو خالق کے قریب کرتی ہے۔