У нас вы можете посмотреть бесплатно “نعرے تم لگاتے رہے، لاشیں ہم اٹھاتے رہے — سرفراز بگٹی، انور کاکڑ اور یہ کھیل اب مزید نہیں چلے گا" или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
“نعرے تم لگاتے رہے، لاشیں ہم اٹھاتے رہے — سرفراز بگٹی، انور کاکڑ اور یہ کھیل اب مزید نہیں چلے گا" سرفراز بگٹی۔ غلام قادر بگٹی کا بیٹا۔ اور انور الحق کاکڑ۔ یہ تینوں نام آج اس کہانی کے مرکز میں ہیں، جس کی قیمت بلوچستان اور پنجاب کی ماؤں نے ادا کی۔ نواب اکبر بگٹی ہمیشہ پاکستان کے خلاف نہیں تھے۔ 90 کی دہائی سے پہلے اور 90 کی دہائی تک وہ پاکستان کے ساتھ تھے، ریاستی دھارے کا حصہ تھے، اختلافات کے باوجود نظام کے اندر تھے۔ اصل بگاڑ اُس وقت شروع ہوا جب مشرف دور میں نواب اکبر بگٹی کے ساتھ اختلافات بڑھے۔ لیکن یہ اختلافات خودبخود جنگ میں نہیں بدلے — اس آگ پر تیل چھڑکنے والا ایک کردار تھا: غلام قادر بگٹی۔ یہ بات واضح ہونی چاہیے: غلام قادر بگٹی کی دشمنی پہلے ذاتی دشمنی اور ذاتی نفرت تھی۔ یہ نفرت نجی تھی، یہ جھگڑا ذاتی تھا، اور اسی ذاتی سطح پر وہ نواب اکبر بگٹی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکا۔ لیکن مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ غلام قادر بگٹی نے اپنی ذاتی دشمنی کو ذاتی دائرے میں رکھنے کے بجائے ملک پر مسلط کر دیا۔ اس نے ذاتی نفرت کو سیاسی اور قومی سطح کا مسئلہ بنا دیا، اور اسی نے نواب اکبر بگٹی اور مشرف کے درمیان اختلافات کو مزید بھڑکانے میں کردار ادا کیا۔ بعد میں جب: نواب اکبر بگٹی پہاڑوں پر گئے مسلح تنظیمیں میدان میں آئیں دشمنی اپنی انتہا پر پہنچی تو سوال اور بھی سنگین ہو جاتا ہے: غلام قادر بگٹی اتنا ہی بڑا دشمن تھا، ، اگر جنگ اپنی انتہا پر تھی، تو پھر: غلام قادر بگٹی شہید کیوں نہیں ہوا؟ سرفراز بگٹی کے تین سگے بھائیوں میں سے کوئی ایک کیوں شہید نہیں ہوا؟ خود سرفراز بگٹی اب تک محفوظ کیوں رہا؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کیونکہ اسی دوران: بلوچستان کے نوجوان شہید ہوتے پنجاب کے نوجوان شہید ہوتے رہے مائیں بیٹے دفناتی رہیں یہ کیسی دشمنی تھی جو دشمن کے گھر تک نہ پہنچی؟ یہ کیسی جنگ تھی جس میں لاشیں صرف عام لوگوں کی گریں؟ حقیقت یہ ہے کہ غلام قادر بگٹی اس پورے بحران میں بینیفیشری رہا، اور سرفراز بگٹی اسی سیاست کا تسلسل ہے۔ اور ان ہی پالیسیوں کا ایک اور واضح بینیفیشری ہے: انور الحق کاکڑ۔ انور کاکڑ بھی اسی کشیدگی، اسی بحران، اور اسی عدمِ امن کی سیاست سے اوپر آنے والا نام ہے۔ کیونکہ: بحران رہے گا تو اقتدار بچے گا کشیدگی رہے گی تو حکومت چلے گی جنگ رہے گی تو پیسہ، بجٹ اور اختیار بڑھے گا امن میں نہ سرفراز بگٹی کی سیاست چلتی ہے نہ انور کاکڑ کا کردار باقی رہتا ہے۔ اب سوال یہ ہے: پنجاب کے لوگوں کو کیا ملا؟ بلوچستان کے لوگوں کو کیا ملا؟ اسلام آباد کے عوام کو کیا ملا؟ سوائے: جنازوں کے اجڑی ہوئی ماؤں کے اور کھوکھلے نعروں کے ہم نے سب کچھ دیا: اختیار وسائل عزت اور اپنے بیٹوں کی قربانیاں اور بدلے میں؟ لاشیں۔ 20 سال ہو گئے۔ 15 سال ہو گئے۔ اگر تم: جانوں کی حفاظت نہیں کر سکتے امن نہیں لا سکتے اس خون کا حساب نہیں دے سکتے تو پھر پاکستان کے نام پر نعرے لگانے کا اخلاقی حق بھی تمہیں نہیں۔ اب آنکھوں سے پٹی ہٹانی ہو گی۔ اب یہ ماننا ہو گا کہ یہ پاکستان کے خیر خواہ نہیں، یہ پاکستان کے نام پر سیاسی اور مالی بینیفیشری ہیں۔ اور اب بس۔ نہ مزید لاشیں، نہ مزید دھوکہ، نہ مزید منافقت۔ یہ کھیل اب اور نہیں چلے گا۔