У нас вы можете посмотреть бесплатно شب برات کی فضیلت اور اہمیت или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
شب برات کی فضیلت بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ تعالیٰ نے سال کے بعض اوقات کو خصوصی فضیلت اور برکت سے نوازا ہے تاکہ غفلت میں ڈوبی انسانیت ان لمحات کو غنیمت جان کر اپنے رب کی طرف رجوع کرے۔ انہی بابرکت اوقات میں سے ایک شعبان المعظم کی پندرہویں شب ہے جسے شبِ برأت کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مبارک رات ہے جس میں رحمتِ الٰہی کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، مغفرت کے فیصلے صادر ہوتے ہیں اور بندوں کو توبہ و انابت کا سنہری موقع عطا کیا جاتا ہے۔ سلفِ صالحین رحمہم اللہ نے اس رات کو محض ایک رسمی تہوار نہیں سمجھا بلکہ اسے اصلاحِ باطن، محاسبۂ نفس اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کا ذریعہ بنایا۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم اس رات کی حقیقت، فضیلت اور اس میں مطلوب طرزِ عمل کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھیں تاکہ افراط و تفریط سے بچتے ہوئے صحیح راستہ اختیار کیا جا سکے۔ شعبان کی پندرہویں شب”شبِ برأت“کہلاتی ہے،یعنی وہ رات جس میں مخلوق کوگناہوں سے بری کردیاجاتاہے،تقریبًادس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس رات کے متعلق احادیث منقول ہیں: 1- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ” شعبان کی پندرہویں شب میں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کواپنی آرام گاہ پرموجودنہ پایاتوتلاش میں نکلی، دیکھاکہ آپ ﷺ جنت البقیع یعنی قبرستان میں ہیں، پھرمجھ سے فرمایاکہ آج شعبان کی پندرہویں رات ہے ،اس رات میں اللہ تعالیٰ آسمان دنیاپرنزول فرماتاہے اورقبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعدادسے بھی زیادہ گناہ گاروں کی بخشش فرماتاہے“۔ 2-دوسری حدیث میں ہے : اس رات میں اس سال پیداہونے والے ہربچے کانام لکھ دیاجاتاہے ،اس رات میں اس سال مرنے والے ہرآدمی کانام لکھ لیاجاتاہے،اس رات میں تمہارے اعمال اٹھائے جاتے ہیں،اورتمہارارزق اتاراجاتاہے۔ 3- ایک روایت میں ہے کہ اس رات میں تمام مخلوق کی مغفرت کردی جاتی ہے سوائے سات اشخاص کے، وہ یہ ہیں:مشرک،والدین کانافرمان،کینہ پرور،شرابی،قاتل،شلوارکوٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا اورچغل خور،ان سات افرادکی اس عظیم رات میں بھی مغفرت نہیں ہوتی ،جب تک کہ یہ اپنے جرائم سے توبہ نہ کرلیں۔ 4- حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں منقول ہے کہ اس رات میں عبادت کیاکرواوردن میں روزہ رکھاکرو،اس رات سورج غروب ہوتے ہی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اوراعلان ہوتاہے:" کون ہے جوگناہوں کی بخشش کروائے؟کون ہے جورزق میں وسعت طلب کرے؟کون مصیبت زدہ ہے جومصیبت سے چھٹکاراحاصل کرناچاہتاہو؟ ان احادیثِ کریمہ اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم اوربزرگانِ دین رحمہم اللہ کے عمل سے اس رات میں تین کام کرنا ثابت ہے: 1- قبرستان جاکر مردوں کے لیے ایصالِ ثواب اور مغفرت کی دعا کی جائے،لیکن یاد رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ساری حیاتِ مبارکہ میں صرف ایک مرتبہ شبِ برأت میں جنت البقیع جاناثابت ہے؛ اس لیے اگرکوئی شخص زندگی میں ایک مرتبہ بھی اتباعِ سنت کی نیت سے چلاجائے تو اجر و ثواب کاباعث ہے،لیکن پھول پتیاں،چادر چڑھاوے،اور چراغاں کااہتمام کرنا اور ہرسال جانے کولازم سمجھنا،اس کو شب برأت کے ارکان میں داخل کرنا ٹھیک نہیں ہے۔جو چیزنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس درجے میں ثابت ہے اس کواسی درجہ میں رکھناچاہیے، اس کانام اتباع اوردین ہے۔ 2- اس رات میں نوافل،تلاوت،ذکرواذکارکااہتمام کرنا۔اس بارے میں یہ واضح رہے کہ نفل ایک ایسی عبادت ہے جس میں تنہائی مطلوب ہے، یہ خلوت کی عبادت ہے، اس کے ذریعہ انسان اللہ کاقرب حاصل کرتاہے،لہذانوافل وغیرہ تنہائی میں اپنے گھرمیں اداکرکے اس موقع کوغنیمت جانیں،نوافل کی جماعت اورمخصوص طریقہ اپنانادرست نہیں ہے،یہ فضیلت والی راتیں شوروشغب اورمیلے،اجتماع منعقدکرنے کی راتیں نہیں ہیں،بلکہ گوشۂ تنہائی میں بیٹھ کراللہ سے تعلقات استوارکرنے کے قیمتی لمحات ہیں ،ان کوضائع ہونے سے بچائیں۔ 3- دن میں روزہ رکھنابھی مستحب ہے، ایک تواس بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے اوردوسرایہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہرماہ ایام بیض(۱۳،۱۴،۱۵) کے روزوں کااہتمام فرماتے تھے،لہذااس نیت سے روزہ رکھاجائے توموجب اجروثوب ہوگا۔ باقی اس رات میں پٹاخے بجانا،آتش بازی کرنا اورحلوے کی رسم کااہتمام کرنایہ سب خرافات اوراسراف میں شامل ہیں،شیطان ان فضولیات میں انسان کومشغول کرکے اللہ کی مغفرت اورعبادت سے محروم کردیناچاہتاہے اوریہی شیطان کااصل مقصدہے۔ بہر حال اس رات کی فضیلت بے اصل نہیں ہے اور سلفِ صالحین نے اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھا یا ہے خلاصۂ کلام یہ ہے کہ شبِ برأت نہ تو بے اصل ہے اور نہ ہی خرافات کا مجموعہ۔ یہ ایک عظیم اور بابرکت رات ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمت، مغفرت اور عنایت کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ تاہم اس رات کی اصل روح اخلاص، توبہ، انفرادی عبادت اور اتباعِ سنت میں پوشیدہ ہے، نہ کہ رسم و رواج، ہنگامہ آرائی اور غیر ثابت اعمال میں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس مبارک رات کو: اپنے گناہوں پر ندامت سچی توبہ اللہ سے لو لگانے اور آئندہ زندگی کو سنوارنے کا ذریعہ بنائیں۔ بدعات اور فضول مشاغل سے بچتے ہوئے اگر ہم اس رات کو سنت کے دائرے میں رہ کر گزاریں تو یہی طرزِ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا اور مغفرت کے حصول کا سبب بنے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شبِ برأت کی صحیح قدر پہچاننے، اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور اپنی زندگیوں کو کتاب و سنت کے مطابق ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا ربّ العالمین۔