У нас вы можете посмотреть бесплатно وندر ناکہ کھاڑی پر ٹرانسپورٹ یونین کا احتجاج سولہویں روز میں داخل، مسافر شدید مشکلات کا شکار или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
وندر ناکہ کھاڑی پر ٹرانسپورٹ یونین کا احتجاج سولہویں روز میں داخل، مسافر شدید مشکلات کا شکار آل سندھ بلوچستان بس یونین ایسوسی ایشن کی جانب سے وندر ناکہ کھاڑی پر جاری احتجاج جمعہ کے روز سولہویں دن میں داخل ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں کراچی سے مکران اور اندرونی بلوچستان و سندھ جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند ہے۔ ٹرانسپورٹ کی بندش کی وجہ سے سینکڑوں مسافر مختلف مقامات پر پھنس کر شدید مشکلات اور پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق احتجاجی دھرنے کی وجہ سے کراچی، حب، وندر اور مکران ڈویژن کے درمیان بسوں اور کوچز کی آمد و رفت معطل ہو چکی ہے۔ خاص طور پر کراچی سے گوادر، تربت، پسنی اور اورماڑہ جانے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ اندرونی بلوچستان اور سندھ آنے جانے والے افراد بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ مسافر بتاتے ہیں کہ ٹرانسپورٹ بند ہونے کی وجہ سے انہیں کئی کئی گھنٹے بلکہ دنوں تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ خواتین، بزرگ افراد اور بچے شدید اذیت اور پریشانی کا شکار ہیں، اور کئی لوگ اہم کاموں یا علاج معالجے کے لیے سفر نہیں کر پا رہے۔ ٹرانسپورٹ یونین کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ ان کے جائز مطالبات تاحال پورے نہیں کیے گئے اور حکومت کی جانب سے سنجیدہ مذاکرات بھی نہیں کیے جا رہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر مسائل حل نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب عوامی حلقوں نے وفاقی حکومت اور حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیں اور ٹرانسپورٹ یونین کے ساتھ مذاکرات کریں تاکہ پبلک ٹرانسپورٹ بحال ہو سکے اور مسافروں کو درپیش مشکلات ختم ہو سکیں۔ مقامی سماجی اور عوامی حلقوں نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر احتجاج اور ٹرانسپورٹ کی بندش اسی طرح جاری رہی تو عوام کو مزید شدید مشکلات اور اذیت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے حکومت بلوچستان سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر ٹرانسپورٹ یونین کے ساتھ مذاکرات کر کے مسئلے کا حل نکالا جائے اور کراچی سے مکران سمیت دیگر علاقوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ بحال کی جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔