У нас вы можете посмотреть бесплатно Khurram Afaq Poetry At Andaz Baya'n Aur или скачать в максимальном доступном качестве, которое было загружено на ютуб. Для скачивания выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
Khurram Afaq Poetry At Dubai international Mushaira Andaz e Baya'n Or Khurram Afaq andaz e Baya'n Or دبئی کے انٹرنیشنل مشاعرے انداز بیاں اور میں پاکستانی شاعر خرم آفاق نے کمال کر دکھایا۔ نتائج جب سر محشر ملیں گے نتائج جب سرِ محشر ملیں گے محبت کے الگ نمبر ملیں گے یہ دیواریں کسی کی منتظر ہیں یہاں ہر سمت کیلنڈر ملیں گے تمہاری میزبانی کے بہانے کوئی دن ہم بھی اپنے گھر ملیں گے کوئی چالاک پانی پی گیا ہے گھڑے میں اب فقط کنکر ملیں گے بڑی مشکل سے نیچے بیٹھتے ہیں جو تیرے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں اکیلے بیٹھنا ہوگا کسی کو اگر ہم تم اکٹھے بیٹھتے ہیں اور اب اٹھنا پڑا نا اگلی صف سے کہا بھی تھا کہ پیچھے بیٹھتے ہیں یہیں پر سلسلہ موقوف کر دو زیادہ تجربے لے بیٹھتے ہیں نگاہیں کیوں نہ ٹھہریں اس پہ آفاقؔ شجر پر ہی پرندے بیٹھتے ہیں طوفان کی امید تھی آندھی نہیں آئی وہ آپ تو کیا اس کی خبر بھی نہیں آئی کچھ آنکھوں میں تو ہو گیا آباد وہ چہرہ کچھ بستیوں میں آج بھی بجلی نہیں آئی ہر روز پلٹ آتے تھے مہمان کسی کے ہر روز یہ کہتے تھے کہ گاڑی نہیں آئی وہ آگ بجھی تو ہمیں موسم نے جھنجھوڑا ورنہ یہی لگتا تھا کہ سردی نہیں آئی شاید وہ محبت کے لئے ٹھیک نہیں تھا شاید یہ انگوٹھی اسے پوری نہیں آئی ہے جتنا پیار اسے کرتا ہوں، اتنی چاہت مل جاتی ہے میں نے فائدہ کیا کرنا ہے، مجھ کو لاگت مل جاتی ہے عشق اگر ہمسائے میں ہو جائے تو یہ فائدہ ہے دل سے دل مل جاتا ہے اور چھت سے چھت مل جاتی ہے خوف بھی آتا ہے اکثر تیری بڑھتی مشہوری سے لوگ بدل بھی جاتے ہیں جب ان کو شہرت مل جاتی ہے کبھی تو باغوں میں جا کر بھی ٹھیک سے سانس نہیں آتی کبھی فقط کمرے کی کھڑکی کھول کے راحت مل جاتی ہے دس سالوں سے پڑے ہوئے ہیں ہم بے حال تِرے دل میں اتنے میں تو غیر ممالک کی شہریت مل جاتی ہے