У нас вы можете посмотреть бесплатно Hazrat Syed Ibrahim Daud Bandagi kirmani или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
Hazrat Syed Ibrahim Daud Bandagi kirmani #kirman #bandagi #ibrahim #shergarh #hazrat #syed #ancienthistory #travel #vlogs #darbar حضرت دواد بندگی کرمانی رحمتہ اللہ علیہ حضرت موسیٰ المبارکہٰ کی 28 ویں نسل میں سے تھے جو کہ حضرت امام محمد التقی ابن حضرت امام علی رضا کے بیٹے تھے۔ آپ کے دادا اور پرداد نے کرمان سے سیتپور، مظفر گڑھ میں 1410 عیسوی میں ہجرت کی۔ آپ کی پیدائیش سیتپور میں 1513 عیسوی میں ہوئی۔ وقت کے نامور علماء کرام کے ہاتھوں دیپالپور اور لاھور میں باقاعدہ مذہبی تعلیم حاصل کرنے کے بعد، شیخ داؤد بندگی کرمانی رحمتہ اللہ علیہ نے تمام دنیاوی اور مادی سرگرمیوں سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے روحانیت کی تلاش میں عبادت میں بہت وقت خرچ کیا. شیخ داؤد بندگی کرمانی اویسی طریقت سے تعلق رکھتے تھے، یہ کسی بھی براہ راست استاد یا مرشد کے بغیر تھی۔ بعد میں آپ نے ستگرہ میں شیخ حامد گیلانی کے ہاتھوں پر بعیت کر لی اور قادری سلسلہ میں شمولیت اختیار کی۔ باضابطہ طور پر بااثر قادری سلسلہ کا رکن بننے کے بعد حضرت داور بندگی نے شیر گڑھ ضلع اوکاڑہ میں اپنی خانکاہ آباد کی جو کہ لاھور اور ملتان کے درمیان واقعہ ہے۔ آپ کے آنے کے بعد شیر گڑھ قادری سلسلہ کا گڑھ بن گیا اور شیر گڑھ کی اس خانقاہ نے تمام شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا شروع کردیا۔ 16ویں صدی کے مشہور مورخ عبدالقادر بدوانی 1572 عیسوی میں شیرگڑھ آئے اور چار روز تک یہاں رہے۔ عبدالقادر بدونی کے مطابق جب مغل بادشاہ جلال دین محمد اکبر پاکپتن آیا تو وہ شیرگڑھ Okaraسے ہو کر گزرہ اور اس نے یہاں ان بزرگ کی بہت تعریف سنی اور وہ ان سے ملنے کا خواہش مند ہوا۔ جنرل شہباز خان کمبوہ اکبر بادشاہ کے دربار کا اہم آفیسر حضرت داود بندگی کرمانی کی بارگاہ میں ملاقات کی اجازت حاصل کرنے کے لیے آیا۔ شیخ داودبندگی کرمانی رحمتہ اللہ علیہ جو کہ اپنے آپ کو دنیاوی جاہ وجلال اور دولت والے لوگوں سے دور رکھتے تھے جنرل شہباز خان کے ہاتھوں بادشاہ کو پیغام بھیجا کہ وہ بادشاہ کو ہمیشہ اپنی دعاوں میں یاد رکھتے ہیں لہذا اس کو ذاتی طور پر دعا کروانے کے لیے آنے کی ضرورت نہیں۔ یہ حضرت دواد بندگی کرمانی رحمتہ اللہ کی روحانی طاقت تھی کہ آپ نے ایک بڑی تعداد میں پنجاب کے ہندو جاٹ اور راجپوت قبیلوں کو مشرف بہ اسلام کیا۔ وہ قبائل جو آپ کی بدولت مکمل طور پر یا جزوی طور پر دائرہ اسلام میں داخل ہو گے ان میں چھٹہ، چیمہ، ورک، ہنجرہ، دیوہتر، وڑائچ، گروہی، مان اور سانسی جن کا تعلق گجرانوالہ سے تھا شامل تھے۔ اس کے علاوہ ضلع سیالکوٹ سے باجوہ، بصرہ، چیمہ، گھمن، کہلون، گراہی، ساہی اور سندھو جب کہ ضلع ساہیوال سے احرار، ھان، ہوتینہ اور بلوچ شامل تھے۔ آپ نے 1575 عیسوی میں شیر گڑھ میں وفات پائی. آپ کے چند مشہور شاگردوں میں سے شاہ عبدالمولائی کرمانی قادری جو کہ آپ کے بھتیجے اور داماد تھے۔ ملا عبدالقادر بدوانی اکبر بادشاہ کے دور کے مشہور مورخ، شیخ جلال الدین الیاس بہلول دہلوی جو کہ مولانا عبدالکلام آزاد کے آباواجداد تھے اور شیخ ابو اسحاق مزنگی شامل تھے۔ شیر گڑھ میں آپ کا مزار ابتدائی مغل فن و تعمیر کی ایک شاندار مثال ہے۔ آپ کا سالانہ عرس 13 مارچ سے. 21,3,2024.مارچ ہر سال شیرگڑھ میں ہوتا ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ ان کو خراج عقیدت پیشں کرنے کے لیے شامل ہوتےہیں جن کہ وجہ سے ان کے آباو اجداد دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ یہ لوگ قافلوں کی شکل میں پیدل ان کے مزار پر حاضری دیتے ہیں۔