У нас вы можете посмотреть бесплатно Istiqbal e Ramadhan | استقبال رمضان | Quraan | Fasting | صلہ رحمی | Holy Month | روزہ | Umar Barlas или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
مركزى صفحه رمضان کے مہینے کا استقبال کیسے کریں؟    share with us  عبد العزیز رمضان المبارک کے مہینے سے پہلے شعبان المعظم کا مہینہ آتا ہے اس وقت شعبان کا مہینہ ختم ہونے میں چند دن باقی رہ گئے ہیں۔ آنحضرت ﷺ رمضان کے آنے سے پہلے رمضان کی تیاری شروع کردیتے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو روزے کی اہمیت وافادیت بیان فرماتے اور اس کی حقیقت واضح کرتے۔ ”حضرت سلمان فارسی ؓ کہتے ہیں کہ شعبان کی آخری تاریخ کو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطاب فرمایا: اے لوگو! تم پر ایک بڑی عظمت والا بابرکت مہینہ سایہ فگن ہورہا ہے۔ اس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس مہینے کے روزے کو اللہ نے فرض قرار دیا ہے اور اس کی راتوں میں (خدا کی بارگاہ میں) کھڑا ہونے کو نفل مقرر کیا ہے۔ جو شخص اس مہینے میں کوئی نیک نفل کام الہ کی رضا اور قرب حاصل کرنے کیلئے کرے گا تو وہ ایسا ہوگا جیسے اس مہینے کے سوا دوسرے مہینے میں کسی نے فرض ادا کیا ہو اور جو اس مہینہ میں فرض ادا کرے گا وہ ایسا ہوگا جیسے اس مہینے میں کسی نے ستر فرض ادا کئے اور یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے اور یہ ہمدری غمخواری کا مہینہ ہے اور وہ مہینہ ہے جس میں ایمان والوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ جس کسی نے اس میں کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو اس کیلئے گناہوں کی مغفرت اور (جہنم کی) آگ سے آزادی کا سبب ہوگا اور اسے اس روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گا بغیر اس کے کہ اس روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے۔“ آپ ؐسے عرض کیا گیا: یارسول اللہؐ! ہم میں ہر ایک کو سامان میسر نہیں ہوتا۔ جس سے وہ روزہ دار کو افطار کراسکے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ یہ ثواب اس شخص کو بھی عطا فرمائے گا جو دودھ کی تھوڑی سی لسّی یا کھجور پر یا پانی ہی کے ایک گھونٹ پر کسی روزہ دار کو افطار کرادے اور جو کوئی کسی روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلادے اللہ اسے میری حوض سے ایسا سیراب کرے گا کہ اس کو پیاس ہی نہیں لگے گی یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ یہ (رمضان) وہ مہینہ ہے جس کا ابتدائی حصہ رحمت، درمیانی حصہ مغفرت اور آخری (دوزخ کی) آگ سے آزادی ہے اور جو شخص اس مہینہ میں اپنے مملوک (غلام یا خادم) کے کام میں تخفیف کردے گا۔ اللہ اس کی مغفرت فرمادے گا اور اسے (دوزخ کی) آگ سے آزادی دے دیگا۔(بیہقی فی شعب الایمان) اس حدیث کو پڑھنے سے روزے اور رمضان کی اہمیت سے آگاہی ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں رمضان کے روزے سے متعلق صرف ایک مقام پر یعنی سورہ بقرہ میں بیان کیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ رمضان کے روزے کی اہمیت اتنی زیادہ کیوں ہے؟ ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کردیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیرووں پر فرض کئے گئے تھے۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔ چند مقرر دنوں کے روزے ہیں۔ اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو، یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرلے۔ اور جولوگ روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہوں (پھر نہ رکھیں) تو وہ فدیہ دیں۔ ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے اور جو اپنی خوشی سے کچھ زیادہ بھلائی کرے، تویہ اسی کیلئے بہتر ہے۔لیکن اگر تم سمجھو، تو تمہارے حق میں اچھا یہی ہے کہ روزہ رکھو۔ رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کیلئے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔ لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے، اس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے۔ اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو، تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔ اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اس لئے یہ طریقہ تمہیں بتایا جارہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے، اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔“(سورہئ بقرہ: آیت:183-185) اللہ تعالیٰ کے فرمان میں بتایا گیا ہے کہ روزہ اس لئے فرض کیا گیا ہے کہ بندے کے اندر تقویٰ اور پرہیز گاری کی صفت پیدا ہوجائے یعنی وہ گناہوں سے بچ سکے اور نیکیوں کی ادائیگی ذوق اور شوق سے کرے۔ روزے کی روح یا ہر عبادت کی روح تقویٰ ہے۔ تقویٰ انسان کو بریک لگاتا ہے، اسے قابو میں رکھتا ہے، اس کی غلط خواہشوں پر روک لگاتا ہے، خواہش نفس سے بچاتا ہے۔ اگر کسی مسلمان میں نفس پرستی ہے تو خدا پرستی اس کے اندر اسی وقت پیدا ہوسکتی ہے کہ وہ اپنے نفس پرستی سے باز آئے۔ نفس یا خواہشوں کو کنٹرول میں کرنے کیلئے روزہ رکھنے کیلئے کہا گیا ہے۔ اگر کوئی رمضان کے آنے سے پہلے ان چیزوں سے واقف نہیں ہے اور رمضان کے پورے مہینے میں بھی اسے روزے کی حقیقت سے واقفیت نہیں ہوتی اور روزے کی شرائط کے مطابق روزہ نہیں رکھتا تو اس کے پلے بھوک و پیاس کے سوا کچھ نہیں پڑتا۔ مثلاً کوئی شخص جھوٹ بولتا ہے یا جھوٹ پر قائم رہتا ہے اور اسے چھوڑنا نہیں چاہتا اور روزہ بھی رکھنا چاہتا ہے اور روزے کے دوران بھی اور روزے کے بعد بھی اپنے اس عمل پر قائم و دائم رہتا ہے تو روزہ کا کوئی اثر اس کے دل و دماغ نہیں پڑ تا۔ روزے کی اہمیت بتاتے ہوئے بہت سی حدیثوں میں کہا گیا ہے کہ روزہ صرف بھوک و پیاس سے یا جنسی عمل سے باز نام نہیں ہے بلکہ آنکھ، ہاتھ، پاؤں اور کان کے بھی روزے کا ذکر کیا گیا ہے۔ حلال، حرام کی حقیقت کے سلسلے میں بتایا گیا ہے کہ کوئی عبادت، کوئی دعا اللہ کی بارگاہ مین قابل قبول نہیں ہوگی اگر کسی شخص کی پرورش حرام مال یا حرام کمائی سے ہورہی ہو۔ ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تمہارے لئے قتل کے مقدمے میں قصاص کا حکم لکھ دیا گیا ہے“(سورہ بقرہ) اور کہا گیا ہے: وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰ ٓاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ m ”عقل و خرد رکھنے والو! تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے۔ امید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کرو گے۔“ (سورہ بقرہ: 179) #hadees #islam #sahaba