У нас вы можете посмотреть бесплатно Hazrat Umar ki Shahadat ka Waqia | حضرت عمر بن خطابؓ کی شہادت کا واقعہ | Islam | Hadees |Umar Barlas или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
حضرت عمرؓ کی شہادت کا مختصرواقعہ یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں فیروز نامی ایک پارسی غلام رہتا تھا، جس کی کنیت ابو لو لو تھی۔ اس نے ایک دن حضرت عمرؓ سے آکر شکایت کی کہ میرے آقا مغیرہؓ بن شعبہ نے مجھ پر بہت بھاری محصول مقرر کیا ہے، آپ کم کروا دیجیے۔ حضرت عمرؓ نے تعداد پوچھی۔ اس نے کہا؛ روزانہ دو درہم۔ حضرت عمرؓ نے پوچھاکہ تو پیشہ کون سا کرتا ہے؟ بولا کہ نقاشیِ آہن گری۔ آپؓ نے فرمایا: ان صنعتوں کے مقابلے میں تو یہ رقم زیادہ نہیں ہے۔ فیروز دل میں سخت ناراض ہو کر چلا آیا۔ دوسرے دن حضرت عمرؓ صبح کی نماز کے لیے نکلے تو فیروز خنجر لے کر مسجد میں آیا۔ حضرت عمرؓ کی طرف سے کچھ لوگ اس کام پر مقرر تھے کہ جب جماعت کھڑ ی ہو تو وہ صفیں درست کریں۔ جب صفیں سیدھی ہوگئیں تو حضرت عمرؓ تشریف لائے اور جوں ہی نماز شروع کی، فیروز نے دفعۃً گھات میں سے نکل کر(مسلسل) چھے وار کیے، جس میں سے ایک ناف کے نیچے پڑا۔ حضرت عمرؓ نے فوراً حضرت عبد الرحمن بن عوف کا ہاتھ پکڑ کر (انھیں) اپنی جگہ کھڑا کر دیا اور خود زخم کے صدمے سے گر پڑے۔عبد الرحمن ابن عوفؓ نے اس حالت میں نماز پڑھائی کہ حضرت عمرؓ سامنے بسمل پڑے تھے۔ فیروز نے اور لوگوں کو بھی زخمی کیا، لیکن بالآخر پکڑ لیا گیا اور پھر خود کُشی کر لی۔حضرت عمرؓ کو لوگ اٹھا کر گھرلائے۔ سب سے پہلے انھوں نے پوچھا کہ میرا قاتل کون ہے؟ لوگوں نے بتلایا:فیروز۔ آپؓ نے فرمایا: الحمد للہ! میں ایسے شخص کے ہاتھ سے نہیں مارا گیا، جو اسلام کا دعویٰ رکھتا ہو۔لوگوں کا خیال تھا کہ زخم چنداں کاری نہیں ہے، غالباً شفا ہو جائے، چناں چہ ایک طبیب بلایا گیا اس نے نبیذ اور دودھ پلایا، (مگر)دونوں چیزیں زخم کی راہ سے باہر نکل آئیں۔ حضرت عمر ؓ نے اس کے تین دن کے بعد انتقال فرمایااور محرم کی پہلی تاریخ، ہفتے کے دن مدفون ہوئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ نمازِ جنازہ حضرت صہیبؓ نے پڑھائی۔ حضرت علی، عبد الرحمن،، عثمان، طلحہ،سعد بن ابی وقاص اور عبد الرحمن ابن عوف رضی اللہ عنہم نے قبر میں اتارا اور اس طرح یہ آفتابِ عالم تاب خاک میں چھپ گیا۔ حوالہ جات : صحیح بخاری حدیث نمبر 3700 #islam #hadees #umarbinkhatab