У нас вы можете посмотреть бесплатно گردن کا مسح کرنا وضو میں سنت یا مشروع عمل نہیں ہے، بلکہ اہلِ علم کے نزدیک یہ بدعت شمار ہو جاتا ہے или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
گردن کا مسح کرنا وضو میں سنت یا مشروع عمل نہیں ہے، بلکہ اہلِ علم کے نزدیک یہ بدعت شمار ہوتا ہے۔ دلیل کے ساتھ وضاحت درج ذیل ہے: 1. قرآن سے: اللہ تعالیٰ نے وضو کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ﴾ (سورۃ المائدہ: 6) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے چہرہ دھونے، ہاتھ دھونے، سر کا مسح کرنے، اور پاؤں دھونے کا ذکر کیا، گردن کا مسح نہ قرآن میں ہے، نہ سنتِ صحیحہ میں۔ 2. سنت سے: رسول اللہ ﷺ سے وضو کی جو صحیح احادیث منقول ہیں، ان میں کہیں بھی گردن کے مسح کا ذکر نہیں۔ حضرت عبد الله بن زيد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: «أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ تَوَضَّأَ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَيَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَمَسَحَ رَأْسَهُ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ، ثُمَّ رَدَّهُمَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ» (صحیح بخاری: 185، صحیح مسلم: 235) یعنی نبی ﷺ نے سر کا مسح کیا، پیشانی سے لے کر پچھلی طرف لے گئے اور واپس لوٹائے، گردن کا ذکر نہیں کیا۔ 3. ضعیف روایت: بعض لوگوں نے یہ حدیث نقل کی ہے: «مسح الرقبة أمان من الغل» یعنی “گردن کا مسح غل (زنجیر) سے امن ہے”۔ یہ روایت ضعیف بلکہ منکر ہے۔ علامہ ابن صلاح، امام نووی، ابن تیمیہ، ابن قیم، اور محدث البانی رحمہم اللہ نے اس حدیث کو باطل قرار دیا۔ (النووي، المجموع 1/464) (ابن تيمية، مجموع الفتاوى 21/127) (الألباني، ضعيف الجامع رقم: 4993) 4. اقوالِ علما: امام نوویؒ فرماتے ہیں: «لَا يُسَنُّ مَسْحُ الْعُنُقِ بَلْ هُوَ بِدْعَةٌ» (المجموع شرح المهذب 1/464) یعنی "گردن کا مسح سنت نہیں بلکہ بدعت ہے"۔ امام ابن قدامہؒ کہتے ہیں: «لَا نَعْلَمُ فِي مَسْحِ الْعُنُقِ سُنَّةً» (المغني 1/111) یعنی "ہم نہیں جانتے کہ گردن کے مسح میں کوئی سنت ہو"۔ خلاصہ: وضو میں گردن کا مسح نبی ﷺ سے ثابت نہیں، اور جو اس کے استحباب یا فضیلت پر روایت ہے وہ ضعیف یا موضوع ہے۔ لہٰذا گردن کا مسح بدعت ہے، وضو میں اس کا کوئی ثواب نہیں بلکہ سنتِ نبوی سے انحراف ہے۔ درست طریقہ: وضو میں سر کا مسح پیشانی سے لے کر گدی تک اور پھر واپس پیشانی تک کیا جائے، گردن شامل نہ کی جائے۔۔۔۔ @Muftihazratalirabbani